آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کسی کا ضمیر جگانے کے لئے طرح طرح کے جتن کرنے اور ماضی کے حوالے دینے پڑتے ہیں۔ جب بات نہیں بنتی تومزید سمجھانے کے لئے دنیا کی تاریخ سے ماضی کی غلطیوں کا احساس دلایا جاتا ہے۔ بات جب بالکل ہی بگڑ جائے ،کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہو رہی ہوتو پھر قوم کا ضمیرجھنجھوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر قوم اور حکمران دونوں کے ضمیر ہی مردہ ہو جائیں تو پھر نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے کہ دنیا کے مضبوط سے مضبوط تر ملک بھی لڑکھڑا جاتے ہیں۔ تاریخ کی کتابوں میں عبرت کی یہ داستانیں کوئی نئی نہیں ہیں۔ دنیا کے ہر خطے کی لاکھوں لائبریریوں میں یہ داستانیں سجی پڑی ہیںکہ جن قوموں نے تاریخ سے سبق سیکھا وہی نامور کہلائیں۔ یہ ناموری نام کی چیز کبھی آپ کی جھولی میں خود سے آکر نہیں گرتی، اس کی خاطر اپنے مردہ ضمیر جگانے پڑتے ہیں۔

دنیا بھر میں آئے روز ہزاروں واقعات خبروں کا روپ دھارے ہر خطے کے ملک پر اپنے اثرات اور اس کی داخلی صورت حال کی تصویر کشی کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کی نظروں سے بھی ایسی کئی خبریں گزرتی ہوں گی لیکن یہ خبریں ہر کسی کیلئے دلچسپی کاباعث نہیں ہوتیں۔ کچھ خبریں صرف چسکا پارٹی کے ذوق کی تسکین کرتی ہیں تو کچھ سبق آموز بھی ہوتی ہیں۔ یہ آپ کی پسند اور ناپسند ہے کہ کس خبر کو پڑھنا ہے اور کسے نہیں؟ چند خبریں میری نظر سے بھی گزری ہیں، آپ بھی پڑھ لیں اوراپنے حصے کا سبق یاد کرلیں۔ میکسیکو اور لبنان دنیا کے دو ایسے بدقسمت ترین ملک میں شمار کئے جاتے ہیں جن کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔یہاں کبھی خوشیاں رقصاں تھیں، آج مافیاز اور عالمی سازشوں کے ہاتھوں یہ دونوں ممالک تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ سالانہ لاکھوں نہیں کروڑوں سیاح دنیا بھر سے اِن ممالک کی سیاحت کیلئے آتے جاتے تھے۔ آج تباہی، خانہ جنگی اور داخلی انتشارکے دہانے پر کھڑے ہیں ۔ لبنان کی تاریخ سات بار لکھی اور صفحہ ہستی سے مٹائی گئی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ معاشرتی تفریق، چند امراءکی سرمائے پر اجارہ داری اور عالمی سازشوں نے اس کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور حالت یہ ہوگئی ہے کہ غربت، ناانصافی کے مارے قیدیوں نے اپنی رہائی کی خاطر عجب منطق تلاش کی ہے۔ وہ کہتے ہیں ” ہم چور ہیں لیکن ہم نے یہ سب بھوک اور افلاس سے تنگ آکر کیا۔ رفیق الحریری کے قاتل سمیت بڑے بڑے چور دندناتے پھرتے ہیں جبکہ انڈا چوری کرنے والے کو پکڑ کر سزا دے دی جاتی ہے“۔ لبنان کی مرکزی جیل کے قیدیوں نے عام معافی کا قانون لانے کیلئے پارلیمنٹ پر دباؤ ڈالا اور قانون نہ لانے کی صورت میں خودکشی کی دھمکی بھی دی کہ اگر عام معافی کا یہ قانون پاس نہ کیا گیا تو وہ خود کوپھندا لگا لیں گے۔ قیدیوں کے اہل خانہ نے ایمنسٹی قانون کے متعلق ہونے والے اجلاس کے موقع پر دھرنا بھی دیا تاہم ارکانِ پارلیمان کے درمیان اتفاق نہ ہونے پر معاملہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ دوسری خبر میکسیکو کی پارلیمنٹ سے یہ آئی ہے کہ ایک رکن پارلیمنٹ نے اجلاس کے دوران اپنے سارے کپڑے اتار دیئے۔ اس کے بقول ” آپ کو مجھے پارلیمنٹ میں برہنہ دیکھ کر شرم آرہی ہوگی لیکن آپ کو گلی محلوں میں تن پر بغیر کپڑے، پاؤں میں بغیر جوتے پہنے، خالی پیٹ، بے روزگار لوگوں کو دیکھ کر شرم نہیں آتی۔ آپ سب نے ان غریبوں کے سارے پیسے لوٹ لئے یا اپنے اللے تللوں پر اُڑا دیئے۔“ میکسیکو لاطینی امریکہ کا وہ واحد ملک ہے جس کا شمار تاریخی ورثے کے حوالے سے امریکہ میںپہلے، یونیسکو ورلڈ ہیرٹیج انڈکس میں ساتویں نمبر پر ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں اسے سیاحوں کی جنت کہا جاتا تھا۔ اس کا شمار دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر تھا۔ چاکلیٹ بنانے کے اس گھر میں خوبصورت ساحل ، تاریخی عمارتیں ہمیشہ سیاحوں کا مرکزِ نگاہ رہی ہیں لیکن اس ملک کا المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں ڈرگ مافیا کے بڑے بڑے سینڈیکٹ کام کرتے ہیں، غربت اور افلاس کے باعث جرائم کی شرح خوفناک حدوں کو چُھورہی ہے، ڈرگ مافیا سے جھڑپوں میں گزشتہ کئی دہائیوں میں تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ میکسیکو پر ڈرگ مافیا کے مکمل کنٹرول کے باعث سماجی تفریق نے صنعتی طور پر ابھرتے ہوئے اس ملک کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔خبر یہ بھی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ چھوٹے اور کمزور ملکوں کے سربراہوں سے ملاقاتوں، کاروباری معاملات طے کرنے کے عوض بھاری نذرانے وصول کرتے رہے، کہیں یہ ہم ہی تو نہیں؟ سوال یہ ہے کہ اگر پاکستانی امریکہ یورپ میں پیزے کی چھوٹی چھوٹی دکانیں منافع بخش انداز سے چلا سکتے ہیں تو پھر روز ویلٹ کیوں نہیں؟ محسوس ہونے لگا ہے کہ روز ویلٹ کے آسیب کا سایہ ہمارے حکمرانوں پر بھی پڑ گیا ہے جو اس قیمتی ورثے پر بھی برائے فروخت کا بورڈ سجادیا گیا ہے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ جب اولاد نااہل، نالائق نکل آئے، آباؤ اجداد کے ورثے کو سنبھالنے کی بجائے فروخت کرنے لگے تو سمجھیں گھر کا دیوالیہ نکل گیا لیکن آج وہ دور نہیں کہ ہم عبرت کی داستانوں سے کوئی سبق سیکھ سکیں۔

تازہ ترین