آپ آف لائن ہیں
منگل8ربیع الثانی 1442ھ 24؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کراچی واقعہ :مفاہمت کا راستہ اپنائیں

کراچی میں گزشتہ اتوار اور پیر کی درمیانی رات کیپٹن(ر) صفدر کو ہوٹل سے گرفتار کرنے کے واقعہ اور آئی جی سندھ کے اغواء کے متضاد دعوے اپنے اندر ایک پُراسراریت لئے ہوئے ہیں، جس کا بلاتاخیر حل نکالنا انتہائی ضروری ہے۔ سیاسی و سماجی اور حکومتی حلقوں کی طرف سے اِس صورتحال پر مچے شور اور الزامات کی بوچھاڑ سے حالات مزید بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اِسی دوران تیسرے روز متذکرہ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے سے اُسے اہم ثبوت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ فوٹیج میں سندھ پولیس کی 46منٹ کی کارروائی میں دو گاڑیوں کے حصہ لینے اور کیپٹن صفدر کو کمرے سے باہر بلاکر گرفتار کرکے لے جاتے دیکھا گیا ہے۔ فوٹیج میں ایک کیمرہ مین بھی موجود ہے، جو گرفتاری کے واقعہ کی وڈیو بنارہا ہے۔ وفاقی و سندھ حکومت اور ن لیگ اِس واقعہ کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وفاقی حکومت اُسے سندھ کا ڈرامہ قرار دے رہی ہے۔ جمعرات کے روز مشیر داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ آئی جی کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ محمد زبیر نے اِس بارے میں دروغ گوئی سے کام لیا ہے۔ یہ سب بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈہ ہے اور اگر آئی جی کو اغواء کیا گیا تو اُس کی ایف آئی آر کیوں درج

نہیں کی گئی؟ وفاقی و سندھ حکومت کے درمیان لفظوں کی گولہ باری پہلے سے چلی آرہی ہے جس میں اِس واقعہ کے بعد شدت آگئی ہے۔ جمعرات ہی کو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ الزام بھی سامنے آیا کہ آئی جی سندھ کے اغواء کے ذمہ دار وزیراعظم ہیں۔ دوسری طرف مبینہ طور پر مریم صفدر کے کمرے کا دروازہ توڑ کر، اُن کے شوہرکو گرفتار کرنیوالے کون تھے اور ہوٹل کی لابی میں گھومنے والا شخص کون تھا؟ اِس حوالے سے بھی متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں جس سے تنازع در تنازع کھڑا ہو گیا ہے جبکہ اِس حوالے سے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے منظر عام پر آنیوالی سی سی ٹی وی فوٹیج کو بنیاد بناتے ہوئے الزام لگانے والوں سے سوال کیا ہے کہ دروازہ کہاں ٹوٹا ہے اور اِس سارے واقعہ میں رینجر کہاں نظر آرہی ہے؟ اس ساری صورتحال کے تناظر میں یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ اِس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا یہ ایک حادثاتی معاملہ ہے یا اگر اسے تیار کیا گیا ہے تو اس کا مقصد کیا ہے؟ بعض حلقے اسے ممکنہ آئینی بحران کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنادی ہے جو ایک ماہ میں رپورٹ دے گی۔ دوسری طرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلیفونک بات چیت کے بعد اُن کی دی گئی ہدایات کی روشنی میں کور کمانڈر کراچی بھی دس روز میں انکوائری مکمل کرلیں گے۔ اُدھر ن لیگ نے بھی سندھ پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی جی کے گھر کا محاصرہ کرنے کے بعد اُنہیں اغواء کرکے کیپٹن(ر) صفدر کو گرفتار کرنے کی ہدایت دینے پر مجبور کیا گیا جبکہ ایک شخص جو مزارِ قائد پر موجود ہی نہیں تھا‘ اُس کے کہنے پر ایف آئی آر کیونکر کاٹی گئی۔ اِس واقعہ کے بعد آئی جی سمیت سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران نے پولیس کی رٹ قائم نہ ہونے کو جواز بناکر چھٹی پر جانے کی درخواست دی تھی جسے آرمی چیف کی انکوائری سے متعلق یقین دہانی پر واپس لے لیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی اِس واقعہ کو آئینی اور سپریم کورٹ کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ ساری صورتحال مسلسل الجھائو کی طرف جارہی ہے جس سے نکلنا ہوگا جس کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے۔ اگر مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو صورتحال کو قابو کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو جائیگا۔

تازہ ترین