آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سندھ: گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار، گنے کی 202 روپے فی من مقرر

سندھ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے جبکہ گنے کی امدادی قیمت 202 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم باہر کی کم معیار والی گندم پر زیادہ خرچ کرتے ہیں، مقامی آبادگاروں کو ہم اچھی رقم دینے کے لئے تیار نہیں، گندم کی سپورٹ پرائس بڑھانا ہوگی۔

جمعرات کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہوا۔

اجلاس میں تمام صوبائی وزراء، متعلقہ مشیران، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ، متعلقہ صوبائی سیکریٹریز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

کابینہ اراکین نے بتایا کہ حال ہی میں یوکرائن سے گندم درآمد کی گئی ہے جسکی سندھ میں 40 کلوگرام کی قیمت تقریباً 5000 روپے بنتی ہے حالانکہ یہ اتنے بہتر معیار کی نہیں جس طرح یہاں کاشت کی جارہی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ گندم کی درآمد پر ملک بھاری زرمبادلہ خرچ کررہا ہے لیکن ہم اپنے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ وہ مقامی طلب اور برآمد کیلئے زیادہ گندم کاشت کریں۔

محکمہ زراعت نے کابینہ کو بتایا کہ پنجاب اور بلوچستان نے فی 40 کلوگرام گندم خریداری کی سپورٹ پرائس 1700 روپے مقرر کرنے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ خیبر پختونخوا نے 40 کلو گرام کیلئے1880روپے کی تجویز پیش کی ہے۔


کابینہ اراکین نے متفقہ طور پر گندم کی خریداری کی کم سے کم سپورٹ قیمت فی من (40 کلوگرام) 2000 روپے طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ فیصلہ اس وقت لیا جارہا ہے جب 21 نومبر سے 15 دسمبر تک گندم کی کاشت کا موسم قریب آرہا ہے، لہٰذا کاشتکار اپنی بہترین قیمت کی وجہ سے زیادہ گندم کاشت کرنے کو ترجیح دیں گے۔ زرعی ملک ہونے کے ناطے ہمیں ایسی پالیسیاں ترتیب دینا ہونگی، جس کے تحت ہم نہ صرف اپنی غذائی تحفظ کو یقینی بنائیں بلکہ غیر ملکی زر مبادلہ کمانے کیلئے اناج برآمد کریں۔

سندھ کابینہ نے ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے گنے کی کم سے کم قیمت 202 روپے فی 40 کلو گرام کے حساب سے اور 0.50 (پچاس پیسہ) کوالٹی پریمیم مقرر کی۔ کابینہ نے محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ وہ 30 نومبر سے کرشنگ سیزن کے آغاز کو یقینی بنائے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ وزیر زراعت نے 20 اکتوبر 2020 کو شوگرکین کنٹرول بورڈ کا اجلاس منعقد کیا تھا۔ جس میں شوگر مل کے تمام نمائندوں نے شرکت کی تھی۔

اجلاس میں کاشتکاروں نے گنے کی قیمت خرید میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ ان پٹس قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے گنے کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 20-2019 کے دوران سندھ حکومت نے گنے کی قیمت 192 روپے فی 40 کلو مقرر کی تھی۔ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ حکومت پنجاب نے فی 40 کلوگرام گنے کی کم سے کم قیمت 200 روپے مقرر کی ہے۔ 

کابینہ کو بتایا گیا کہ سر کاؤسجی جہانگیر (سی جے) انسٹیٹیوٹ آف سائیکاٹری، حیدرآباد میں 40-1939 میں دیہہ گدو، تعلقہ حیدرآباد میں 27.22 ایکڑ رقبے پر قائم کیا گیا تھا۔

کابینہ نے تفصیلی بحث  کے بعد سندھ کلچر ہیریٹیج (تحفظ) ایکٹ 1994 کے تحت اس عمارت کو بطور محفوظ ثقافتی ورثہ قرار دینے کی منظوری دے دی۔ 

وزیر برائے محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول نے کابینہ کو بتایا کہ کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 1997 میں ڈرگس کی تفصیل، اس کے استعمال، لے جانے، بنانے، فروخت، خریداری اور کھپت کی مکمل وضاحت کی گئی تھی جس کی وجہ سے اسے صرف طے شدہ کیٹلاگ پر لاگو کیا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ نیوروٹوکسن سینتھاٹکس ڈرگس جن میں آئس، میتھ اور کرسٹل (میتھامفیٹمین) اور ایکسٹسی اور مولی (میڈوما فیتامین) شامل ہیں، ری کریشنل/ نفسیاتی منشیات کے عادی کا قانون میں تعین نہیں کیا گیا تھا۔  لہٰذا ٹرائل کورٹ میں کوئی سزا نہیں دی گئی۔ قانون میں منشیات سے متعلق جرائم کی سزا بھی مقدار کے مطابق مقرر کی گئی ہے جبکہ نشے اور نقصان کی شدت کو نہیں مانا جاتا اور منشیات کی لائن کینابس اور ہیروئن کو ایک ہی زمرے میں رکھا جاتا ہے۔

محکمہ ایکسائز نے کابینہ سے اس حوالے سے جرم کیلئے سخت سزا دینے کے لئے کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 1997 میں ترمیم کی منظوری کی درخواست کی۔ کابینہ نے مجوزہ ترمیمی مسودے پر بحث کے بعد اس کی منظوری دی اور اسے صوبائی اسمبلی کو ریفر کردیا۔

کابینہ نے محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کی درخواست پر 20 اگست 2020 کو منعقدہ اجلاس کے منٹس کی توثیق کی جس سے روٹ پرمٹ فیس اور موٹر گاڑیوں کی فٹنس فیس پر 50 فیصد تک سرکاری فیس میں چھوٹ ملے گی۔

قومی خبریں سے مزید