لوگ مذہب کی جانب مائل ضرورہوجاتے ہیں لیکن فہمِ دین سے کوسوں دور ۔خوشاب میں بینک منیجر کے قتل کا تعلق ناقص فہمِ دین سے ہے۔ قاتل اور مقتول کا تعلق مختلف فرقوں سے تھا۔ فرقہ ، جو بجائے خود بہت بڑی جہالت ہے ۔قرآن میں لکھا ہے : ’’بے شک وہ لوگ ، جنہوں نے دین میں تفریق پیدا کی اور الگ گروہ (فرقہ ) ہو گئے، اے نبیؐ آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔‘‘ یہ تو ایک قتل تھا، جس میں گولی چلنے کی وجہ سے سب نے دیکھ لیا ۔ میں دعوے سے یہ کہتا ہوں کہ ناقص فہمِ دین کی وجہ سے روزانہ بے شمار ایسے قتل ہو رہے ہیں ، جن کا کسی کو علم ہی نہیں ۔
ایک شخص یہ کہتاہے کہ رسالت مآبؐ نے گاڑی پر سواری نہیں کی لہٰذا مکہ سے مدینہ جانے والوں کو پیدل یا گھوڑے پر یہ سفر طے کرنا چاہئیے تو آپ ایسے شخص کو کیا کہیں گے ؟ اس وقت گاڑی ایجاد ہی نہ ہوئی تھی ۔ اب مفید ایجاد ہو چکی تو کیوں اس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے ؟ یہی وہ لوگ ہیں ، جو یہ کہتے ہیں کہ آپ اگر بیمار ہیں تو جدیدعلاج ہرگز نہ کروائیں۔ آپ الٹرا سائونڈ نہ کروائیں، اینڈو سکوپی نہ کروائیں ، آپ مختلف بلڈ ٹیسٹ نہ کروائیں ۔ آپ کے دل کی بڑی شریانیں بند ہو چکی ہیں تو آپ ان میں سٹنٹ ہرگز نہ ڈلوائیں ۔ آپ ’’اسلامی نسخہ ء قلب ‘‘ استعمال کریں ۔ یہ اشتہار ٹی وی پر چلتے ہیں ۔ یہ ہر رکشے پر چسپاں ہیں ۔یہ نسخہ جات روزانہ ان لوگوں کو قبر میں اتار رہے ہیں ، جومناسب و بروقت علاج سے بچ سکتے تھے۔
آپ چینی سے بھرپور شہد کو اگر ’’اسلامی ‘‘قرار دیتے ہوئے فروخت کرتے ہیں تو آپ دین کو دنیا کے لیے بیچ رہے ہیں۔مکھیاں مسلمان یا کافر نہیں ہوتیں۔ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے دل کا علاج نہیں کروانا، حدیث کے مطابق عجوہ کا پیسٹ استعمال کرنا ہے ۔اللہ اور اس کا رسولؐ توسب کچھ جانتے ہیں۔ دل کی کوئی ایک بیمار ی نہیں ہوتی ۔ جس مریض کو آپؐ نے عجوہ استعمال کرنے کا حکم دیا، خدا جانے ،اس کی خون کی بڑی شریانیں بند تھیں یا دل حجم میں پھیل چکا تھا۔ اس وقت ای سی جی، ایکو اور دل کے دیگر ٹیسٹ موجود نہیں تھے ، جنہیں آپؐ نے مسترد کیا ہو۔ اس وقت سٹنٹ ڈالنے کی ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی،جسے آپؐ نے رَد فرمایا ہو ۔ آپؐ کے دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد اگر ایک مفید ایجاد ہوچکی ہے تو آپ کیسے اسے غیر اسلامی قرار دے سکتے ہیں ؟
آپؐ کا ارادہ شہرسے باہر نکل کر جنگ لڑنے کا تھا۔ حضرت سلیمان فارسیؓ نے خندق کھودنے کی جنگی ٹیکنالوجی کا ذکر کیا، عرب جس سے نا آشنا تھے۔ اس کے بعدجو ہوا، وہ تاریخ ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ ایجادات کو کتنا پسند کرتے تھے ؟کتنا بڑا خطرہ مول لے کر حملہ آوروں کو کیسا سرپرائز دیا ۔
کچھ لوگ ساری زندگی کی آوارگی کے بعد دین کی طرف آتے ہیں ۔ یہ ان کا حق ہے لیکن وہ گناہوں کی تلافی جلد از جلد کر ڈالنے کی کوشش میں شدت پسند بن جاتے ہیں ۔وہ قرونِ اولیٰ کاطرزِ زندگی اختیار کر لیتے ہیں ۔احساسِ جرم کا شکار یہ لوگ یورپ سے شام جا کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں ۔ لوگ مذہبی بننے کی خواہش میں الٹا گمراہ بلکہ متشدد اس لیے ہوجاتے ہیں کہ علم کی کمی ہوتی ہے ۔ان کے خیال میں دین میں نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ۔قرآن میں تویہ لکھا ہے ’’ تو کیسی یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ آپؐ نرم دل واقع ہوئے اور اگر آپؐ تند مزاج، سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپؐ کے پاس سے منتشر ہو جاتے ۔ ‘‘(آل عمران 159)۔آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آجائے گا(اور وہ اس کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہو گا)‘‘ (صحیح بخاری 39)۔ ایک دن ٹی وی پہ دیکھا کہ ایک مذہبی رہنماوضو کا صحیح طریقہ بتا رہا تھااور یہ صحیح وضو کرنے میں اسے آدھا گھنٹہ لگا۔ یہ ہیں وہ لوگ ، جو دونوں ہاتھوں سے سختیاں بانٹ رہے ہیں ۔
اس قتل پر مجھے ایک جاہل شخص یاد آیا۔ پچاس برس کی عمر میں اس نے توبہ کا ارادہ کیا ۔اب خطیب جب جمعہ کا خطبہ دے رہا ہوتا تو یہ اس کی ہر بات پہ بھرپور تاثرات ظاہر کر تے ہوئے سامنے بیٹھا پھدک رہا ہوتا۔ پھر باہر نکل کر لوگوں سے بحث کرتا کہ خطیب صاحب نے فلاں بات کیوں کہی ؟ ایک دن وہ ایک شخص کو سمجھانے لگا کہ اسے اپنے ساتھ اتنا چھوٹا بچّہ مسجد نہیں لانا چاہئے ۔اسے یہ بات معلوم ہی نہ تھی کہ حضرت امام حسینؓ اور حضرت امام حسنؓ اگر کبھی مسجد تشریف لے آتے تو آپؐکیا کرتے تھے۔
علم دین شہید نے جس گستاخ کو قتل کیا، وہ غیر مسلم تھا۔ ملک پر انگریز کی حکومت قائم تھی ۔ عدالتوں میں انگریز یا ہندو جج براجمان تھے لیکن اب تو ایسا نہیں ۔ شنوائی کی کوئی امید نہ تھی ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ گارڈ تھانے یا عدالت کا رخ کرتا۔ منیجر کو بلا کر اس سے پوچھا جاتا کہ کیا وہ گستاخانہ نظریات کی تبلیغ کر رہا ہے ؟ اس کا فیس بک اکائونٹ گوا ہ ہے کہ وہ وضاحت کر دیتا۔ بالفرض وہ غلط ثابت ہوتا تو جیل جاتا ۔ دونوں صورتوںمیں آپ سرخرو ہو جاتے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ عدالتیں کام ہی نہیں کر رہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آپ تو ان کے پاس گئے ہی نہیں ۔ کیا پولیس افسر اور جج مسلمان نہیں ؟ شنوائی نہ ہوتی تو احتجاجاً آپ یہ نوکری چھوڑ دیتے ۔اپنی کم علمی کی وجہ سے اس شخص نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا اور دو خاندان اجاڑ کے رکھ دیے۔اس قتل سے بھی ظاہر ہوتاہے کہ کسی جاہل سے بحث جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔