آپ آف لائن ہیں
منگل15ربیع الثانی 1442ھ یکم دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وزیراعظم پاکستان کا دورہ کابل خوش آئند ہے، یورپین یونین

برسلز( حافظ انیب راشد ) یورپین یونین نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ دورہ کابل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے بہت سے مسائل کا حل پاکستان کے تعاون سے نکل سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار یورپین ذرائع نے 23 اور 24 نومبر کو اقوام متحدہ اور فن لینڈ کے تعاون سے جنیوا میں منعقد ہونے والی افغان ڈونر کانفرنس کے حوالے سے ایک بریفنگ میں کیا۔ذرائع نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ افغانستان کے کئی پہلو ہیں جن پر تالے پڑے ہوئے ہیں لیکن ۜان میں سے بیشتر کی چابیاں پاکستان کے پاس ہیں ۔ ان ذرائع نے کہا کہ افغان عمل بہت پیچیدہ اور مشکل ہے ۔ گذشتہ 5سال کے دوران افغانستان کے اندر تشدد میں اضافہ ہوا ہے جو دوحہ معاہدے کے بعد بھی جاری ہے۔ ذرائع نے کہا کہ افغانستان میں ترقی اور جمہوریت ساری دنیا کے مفاد میں ہے ۔ اس موقع پر ذریعے نے خطے کے دیگر ممالک ایران ، چین ، روس اور انڈیا کے علاوہ خلیجی ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ افغانستان کے اندر امن کے حصول میں اپنا کردار ادا کریں ۔ ذرائع نے اس موقع پر امیر قطر کے کردار کو خاص طور پر سراہا جن کی مسلسل کوششوں اور میزبانی سے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ممکن ہوئے ۔ اسی طرح دوسرے خلیجی ممالک کے خاموش کردار کا بھی ذکر کیا گیا ۔ گفتگو میں شریک ذرائع نے کہا کہ 2016

میں یورپین دارالحکومت برسلز میں منعقد ہونے والی افغان ڈونر کانفرنس میں مجموعی طور پر دنیا نے 15.2بلین ڈالر دینے کے وعدے کئے تھے۔ (جس کے ذریعے افغانستان کے 75فیصد اخراجات پورے کیے گئے۔ جبکہ 25فیصد اخراجات افغانستان کے اندرونی ذرائع سے پورے ہوئے )۔ اس مرتبہ بھی یورپین یونین مالی تعاون کے لحاظ سے بھر پور شرکت کرے گا۔ دیگر سوالات کے جواب میں ان ذرائع نے کہا کہ افغانستان میں ہم نے 20 سال تک امن کیلئے سرمایہ کاری کی ہے۔ ذرائع نے جرمنی کے وزیر خارجہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے اس وقت اور جلد نکل جانا ہمارے مفاد میں نہیں ۔ اسی طرح افغانستان کو فراہم کی جانے والی مدد چیک اینڈ بیلنس کے نظام اور کرپشن سے پاک عمل سے مشروط ہے اس ذریعے نے زور دیکر کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کو دوبارہ قبول نہیں کیا جائیگا ۔ 

یورپ سے سے مزید