آپ آف لائن ہیں
منگل15ربیع الثانی 1442ھ یکم دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بختاور بھٹو اپنی ڈھولکی پر والدہ کا لباس زیب تن کریں گی

سابق صدر آصف زرداری اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو نے اپنی ڈھولکی کے خاص موقع پر اپنی والدہ کے نکاح کا خوبصورت جوڑا پہننے کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بختاور بھٹو زرداری نے اپنے لیے بھی اُسی فیشن ڈیزائنر کا انتخاب کیا ہے جنہیں شہید محترمہ بےنظیر بھٹو نے سابق صدر آصف زرداری کے ساتھ اپنے نکاح کے لیے منتخب کیا تھا، اُنہوں نے اپنی نکاح کی تقریب میں سبز اور گلابی رنگ کا روایتی لباس پہنا تھا۔

دوسری جانب فیشن برانڈ نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ بختاور بھٹو زرداری نے ان کی خدمات حاصل کرتے ہوئے اپنی ڈھولکی کی تقریب میں والدہ کے نکاح کا جوڑا پہننے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ضمن میں فیشن برانڈ ’ریشم رواج‘ کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر موجود آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے ایک خصوصی پوسٹ سامنے آئی ہے۔


فیشن برانڈ نے انسٹاگرام پر ایک فوٹو کولاج شیئر کیا ہے جس میں ایک تصویر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نکاح کے دن کی ہے جبکہ دوسری تصویر اُس خوبصورت عروسی لباس کی ہے جو بختاور بھٹو اپنی ڈھولکی میں زیب تن کریں گی۔

اُنہوں نے انسٹاگرام پر فوٹوکولاج شیئر کرتے ہوئے بختاور بھٹو زرداری کو منگنی کی مبارکباد دی اور کہا کہ ’انہیں اس بات پر فخر ہے کہ بختاور بھٹو اپنی والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نکاح کا وہ جوڑا دوبارہ پہننا چاہتی ہیں جسے ہمارے برانڈ نے تیار کیا تھا۔‘

واضح رہے کہ بختاور بھٹو کی منگنی سے متعلق پیپلز پارٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ بختاور بھٹو کی منگنی 27 نومبر کو محمود چوہدری سے ہو گی، محمود چوہدری یونس چوہدری اور ثریا چوہدری کے پانچ بچوں میں سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔

دوسری جانب بختاور بھٹو کی منگنی کا کارڈ بھی منظر عام پر آگیا ہے، جس کے مطابق اُن کی منگنی کی تقریب دن 4 بجے اُن کے گھر بلاول ہاؤس پر منعقد کی جائے گی۔

اس کے علاوہ دعوت نامے پر مہمانوں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

دعوت نامے میں یہ بھی لکھا گیاہے کہ مہمان شرکت سے قبل کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ بھیجنے کے پابند ہوں گے۔

خاص رپورٹ سے مزید