آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

محمد ابو بکر ساجد، ملتان

بیٹی مریم ! ٹی وی بند کرو اذان ہورہی ہے“۔ ”اچھا ماما جان“ مریم نے جواب دیا ، مگر ٹی وی چلتا رہا ۔ ”سنا نہیں؟ ٹی وی بند کرو“ اب ماما نے تیز آواز میں کہا۔

ابھی کرتی ہوں ”ریموٹ نہیں مل رہا“ مریم نے کہا۔ اتنے میں فاطمہ کی آواز آئی مجھے ثمرن نے چٹکی کاٹی ہے جبکہ ثمرن چلانے لگی پہلے مجھے فاطمہ نے دھکا دیا۔ (ٹی وی چل رہا ہے) تنگ آکر ماما کچن سے باہر آئیںتو دیکھا کہ بچے آپس میں دھینگا مشتی کررہے ہیں۔

ریموٹ موسیٰ کے ہاتھ میں تھا، وہ کارٹون دیکھنے کی ضد کررہا تھا، اتنی دیر میں اذان بھی ختم ہوگئی۔ ماما اپنا ماتھا پیٹ کر رہ گئیں کہ ان بچوں کو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ اذان کا جواب دیناواجب ہے، یہ تو اللہ کی طرف سے پکار ہے ۔

جب والدین کی آواز پر نہ آنا گناہ ہے تو اللہ کے حکم کو نظر انداز کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ تمام دنیاوی کام کاج چھوڑ کر پہلے اذان کا جواب دیں، پھر نماز کا اہتمام کریں، اِس کے بعد دنیاوی کاموں میں دلچسپی لیں۔ میں تمہارے پاپا کو بتاؤں گی کہ تم نے آج کیا کیا؟ رات کو جب اُن کے پاپا آئے تو ماما نے سارا قصہ کہہ سنایا۔

پایا نے بچوں کو اپنے ساتھ بیٹھا کر بتایا؛”پیارے بچو! دنیا میں سب سے زیادہ بلند ہونے والی آواز اذان کی ہے۔ یہ واحد آواز ہے جو ہر لمحہ دنیا میں گونجتی رہتی ہے۔ اِس کا جواب دینے والے پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جتنا ثواب اذان دینے والےکو ملتا ہے ، اتنا ہی ثواب اِس کا جواب دینے والے کو ملتاہے۔ 

پاپا نے اُنہیں ایک تاریخی واقعہ بھی سنایاکہ”خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی ملکہ زبیدہ نے مکہ شریف اور مدینہ شریف کے درمیان حاجیوں کی سہولت کیلئے ایک نہر کھدوائی تھی۔خلیفہ وقت نے اُس کا نام ”نہرزبیدہ“ رکھا ۔ جب ملکہ زبیدہ کا انتقال ہوا تو ایک عورت نے ملکہ کو خواب میں دیکھا اور پوچھا؛”تیرے ساتھ خد ا نے کیا معاملہ کیا؟“ ملکہ نے کہا؛ ”اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا “ ”اس عورت نے پوچھا؛ کیا نہر زبیدہ کی وجہ سے؟“ ملکہ نے کہا،نہیں اذان کے احترام کی وجہ سے ۔

مجھے ایک مرتبہ سخت پیاس لگی تھی، میں نے خادمہ کو پانی لانے کیلئے کہا۔ جونہی خادمہ پانی لائی، اذان شروع ہوگئی۔ میں نے پانی نہیں پیا بلکہ اذان کا جواب دینے لگی۔ بس یہی نیکی میرے اللہ نے قبول فرمالی اور مجھے بخش دیا“

دیکھا بچو! اذان کا احترام اور جواب دینے پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کتنا بڑا انعام دیتا ہے۔یہ سن کرسب بچوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ اذان کا احترام کیا کریں گے۔

پیارے بچوں آپ سب اذان کا احترام کیا کریں اور نمازبھی پابندی سے پڑھیں۔

اپنی کہانیاں، نظمیں، لطائف، دلچسپ معلومات، تصویریں اور ڈرائنگ وغیرہ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کریں

انچارج صفحہ ’’بچوں کا جنگ‘‘

روزنامہ جنگ،اخبار منزل، فرسٹ فلور، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

ای میل ایڈریس:

bachonkajang@janggroup.com.pk