• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیئر اسٹارمر کے بعد اگلا برطانوی وزیرِاعظم کون ہو گا؟

برطانوی سابق وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر — تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
برطانوی سابق وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر — تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد اب نگاہیں الگے وزیرِاعظم کے انتخاب پر ٹکی ہوئی ہیں۔

اسٹارمر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قیادت میں نئے باب کے آغاز کا وقت آ گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق اسٹارمر کے بعد برطانوی وزارتِ عظمیٰ کے لیے سب سے مضبوط امیدوار اینڈی برنہم کو قرار دیا جا رہا ہے۔

اینڈی برنہم اس وقت گریٹ مانچسٹر کے میئر ہیں اور طویل عرصے سے لیبر پارٹی کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، وہ ماضی میں رکنِ پارلیمنٹ اور حکومتی وزیر بھی رہ چکے ہیں اور انہیں پارٹی کے روایتی بائیں بازو کے نظریات کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔

اینڈی برنہم کو ’کنگ آف دی نارتھ‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

اینڈی برنہم کو اکثر ’کنگ آف دی نارتھ‘ (شمال کا بادشاہ) کہا جاتا ہے، جو مقبول ٹی وی سیریز گیم آف تھرون کے کردار جون اسنو کی طرف اشارہ ہے، یہ لقب انہیں شمالی انگلینڈ کے حقوق اور مفادات کے بھرپور دفاع کے باعث ملا، 2017ء سے اب تک وہ متعدد بار میئر منتخب ہو چکے ہیں۔

اینڈی برنہم کیئر اسٹارمر کے لیے چیلنج کیسے بنے؟

اینڈی برنہم نے حالیہ دنوں میں میکر فیلڈ کے ضمنی انتخاب میں نمایاں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد ان کی واپسی قومی سیاست میں مزید مضبوط ہو گئی۔

ان کی فتح نے لیبر پارٹی کے اندر قیادت کی تبدیلی سے متعلق بحث کو تیز کر دیا اور متعدد مبصرین نے انہیں کیئر اسٹارمر کے سب سے بڑے حریف کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔

میئر گریٹ مینچسٹر اینڈی برنہم — تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
میئر گریٹ مینچسٹر اینڈی برنہم — تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

رپورٹس کے مطابق اینڈی برنہم کی انتخابی کامیابی نے پارٹی کے کئی ارکان کو یہ یقین دلایا کہ وہ مستقبل میں نائجل فراج اور ان کی جماعت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مؤثر مقابلہ کر سکتے ہیں۔

وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں سب سے آگے

برطانوی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اینڈی برنہم اس وقت لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالنے اور بالآخر وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ لیبر پارٹی کے اندر ہونے والے قیادتی عمل اور ممکنہ انتخابی مقابلے کے بعد ہو گا۔

خاص رپورٹ سے مزید