آپ آف لائن ہیں
ہفتہ2؍جمادی الثانی 1442ھ 16؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ندیم بابر کی پھر غلط بیانی، پروگرام شاہزیب خانزادہ کیساتھ میں مزید تفصیلات


کراچی (ٹی وی رپورٹ )جیو کے پروگرام’’ آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں دستاویزات کے ساتھ بتایا گیا کہ ندیم بابر ایک بار پھر غلط بیانی کررہےہیں، کیوں کہ ثبوت بتارہے ہیں کہ پاکستان نے اکتوبر میں جا کر نومبر کے ٹینڈر کھولے۔ اورریٹ ملا اوسط 14فی صد یعنی 6 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یوسےاوپر۔ بھارت نے صرف تین ہفتے پہلے نومبر کےلیے ٹینڈر کیے اور 4.9ڈالر پر ایل این جی خرید لی۔ یعنی صرف تین ہفتے دیر کرنےکی وجہ سے نومبر کےمہینے میں بھارت کے مقابلے میں 12ملین ڈالرز زیادہ یعنی 2ارب روپے پاکستان نے زیادہ ادا کیے۔ یعنی بھارت صرف نومبر کے تین کارگوز پر 2ارب ڈالرز بچالئے، بھارت کی معیشت کورونا سے بری طرح متاثر تھی، کیسز بڑھ رہے تھے۔ معیشت 22فی صد منفی ترقی کررہی تھی۔ پاکستان میں کورونا کنٹرول میں تھا۔ معیشت کھل چکی تھی۔

انڈسٹری اور برآمدات کے بہتر نمبر آرہے تھے۔ پتہ تھا کہ سردیوں میں شدید کمی ہوگی پھر بھی۔ وزیراعظم ۔ ندیم بابر سے پوچھیں کہ اتنی دیر کیوں کی گئی۔ہمیں تو بھارت سے بھی دو سے تین مہینے پہلے ٹینڈرز کرلینے چاہیے تھے۔ اوراگر وہ کیے جاتے تو پاکستان 5ارب روپے سےزائد صرف ایک مہینے میں بچالیتا اور نقصان سےبچ جاتا۔ مگر غلطی صرف اس ایک مہینے پر نہیں رک جاتی۔

پاکستان نے یہ پتہ ہونے کے باوجود کہ سردیوں میں شدید کمی ہوگی۔ دسمبر کے لیے ٹینڈرز نومبر میں جاکر کئے اور چھ کارگوپر ساڑھے 16فی صد تک کی اور اوسط بڈزملیں۔

یعنی 7.1 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو گیس ملی۔ یعنی دیر کرنے کی وجہ سے 50ملین ڈالرز یا 8.3ارب روپے کا نقصان صرف ایک مہینے میں یعنی دسمبر میں کیا گیا۔

پروگرام کے میزبان نے بتایا کہ وزیراعظم چار سوال ندیم بابر صاحب سے پوچھیں۔ پہلا یہ کہ دسمبر میں 6کارگو منگوانے کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمینل بالکل خالی پڑا تھا۔ چھ کے چھ کارگو منگوانے کی گنجائش موجود تھی تو پھر کیوں کوئی بھی ایل این جی کارگو کا انتظام پہلے نہیں کیا گیا تھا۔

دوسرا سوال یہ پوچھیں کہ جب خود وزیراعظم کو ان وزراء نے بتادیا تھا کہ سردیوں میں شدید گیس کی کمی ہوگی اوریہ بھی خود وزرا کہتے ہیں کہ سردیوں میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، تو نومبر میں جاکر دسمبر کےلئے ٹینڈرزکیوں کیے۔

تیسرا سوال وزیراعظم ندیم بابر صاحب یہ پوچھیں کہ جب اکتوبر میں نظر آگیا تھا کہ قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور بھارت کی معیشت تباہ حالی کا شکار تھی اور کورونا پھیل رہاتھا اس کے باوجود کیوں بھارت نے نومبر کے لیے گیس پاکستان سے تین ہفتے پہلے آرڈر کرکے اربوں روپے بچالیے اور وزرات پیٹرولیم نےگنوادیئے۔

چوتھا سوال وزیراعظم ندیم بابر صاحب سے پوچھیں کہ ایسا نہیں تھاکہ نومبر کے لیے اکتوبر میں دیر سے ٹینڈر کرنے والی غلطی پہلی غلطی تھی، جو دسمبرمیں دہرادی گئی۔

بلکہ یہ غلطی تو وہ اگست اورستمبر میں کرچکے تھے اور اربوں روپے کانقصان کرچکے تھے۔ تو اس سے سبق کیوں نہیں سیکھا گیا پروگرام میں بتایا گیا کہ پاکستان نے جولائی میں ستمبر کے لیے ٹینڈرکیا اور 5.73فی صد کاپاکستان کی تاریخ کی سب سے کم ایل این جی خریدنے میں کامیاب ہوا اور اگر اسی وقت اگست کے لیے دوسرا ٹینڈر کرلیتے تو 7.8فی صد پر بڈآئی تھی مگر نہیں لیا اور پھر اگست میں جاکر اچانک اگست کے لیے ٹینڈرکیا جو 9.3فیصدپر ملا۔ یعنی جولائی میں اگست کے لیے کیے گئے ٹینڈر سے 5ملین ڈالرزیا 80کروڑ روپے زیادہ ۔

پھر ندیم بابر صاحب کہہ رہے ہیں کہ وقت سے پہلے ایل این جی کا ٹینڈر کرکے سستی ایل این جی خریدنے کی بات Stupidity ہے۔ حالاں کہ اس ٹینڈر کے آخر میں پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے لکھا کہ Urgently گیس کی ڈیمانڈ کا بتایا گیا تھا۔

اس کی ذمے داری پاکستان ایل این جی لمیٹڈ پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ خود پاکستان ایل این جی بھی تاخیر سے فیصلے کی ذمے داری حکومت پر ڈال رہی تھی۔اگر اس غلطی سے بھی سبق سیکھ لیتے تو پاکستان کے اربوں روپے بچ جاتے مگر وزیراعظم ان سے پوچھیں کہ یہی غلطی کیوں ستمبر میں دہرائی ۔

پاکستان نے اگست میں ستمبر کے لیے ٹینڈرز کیے توبڈز میں 6.95فی صد اور 7.96 فی صد۔ اس سے اگلی بڈ تھی 8.43 فی صد۔ مگر صرف دو کارگو آرڈر کیے، مگر پھر ستمبر میں جاکر اچانک ستمبر کے لیے ٹینڈرکیا تو ایل این جی خریدی 10.88فی صد پر، یعنی پھر 5ملین ڈالرز یا 80کروڑ روپے زیادہ۔

پھر وہی اگست والی غلطی ۔ پھر پاکستان ایل این جی نے آخرمیں لکھا کہ ہمیں بالکل ارجنٹ ڈیمانڈ بتائی گئی اور اس کی ذمے داری پاکستان ایل این جی پر نہیں ڈالی جاسکتی۔

وزیراعظم ندیم بابر صاحب سے پوچھیں کہ اگست میں پھر ستمبر میں اور اکتوبر، نومبر ، دسمبرمیں یہاں تک کے جنوری ، فروری تک کے کارگو کے لیے کیوں بار بار اربو ں روپے ضائع کیے گئے اور غلطیوں سے نہیں سیکھا گیا۔ ابھی ندیم بابر صاحب کہہ رہے ہیں کہ جلدی ایل این جی سستے داموں نہیں خریدی جاسکتی مگر جب پروگرام نے اگست اور ستمبر کی غلطی کی نشاندہی کی، تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ پہلے سستی ایل این جی نہیں خرید سکتے تھے بلکہ ذمے داری کے الیکٹرک پر ڈال دی۔

پھر پروگرام میں دستاویزات سے ثابت کردیا کہ کے الیکٹرک کی تو اچانک ڈیمانڈآئی ہی نہیں تھی اور ان کے اپنے ستمبر کے بیان دکھادیئےتو انہوں نے سستے داموں ایل این جی خریدنے کو ہی بے وقوفی کہہ دیا۔

اور پروگرام میں دکھائی گئی دستاویزات کا جواب نہیں دیا۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ غلطی سے روکنے کےلیے حکومت کو وارننگ نہیں دی گئی۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ جس کی ذمے داری ہے ملک میں ایل این جی لایا۔ وہ بار بار وزارت پیٹرولیم کولکھ کر کہتی رہی کہ بہتر قیمت پر ایل این جی لینے کے لیے وقت پر ڈیمانڈ کا بتاکر جلدی ٹینڈر کرنے کا کہہ دیا کریں۔

امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم خود اس کی تحقیقات کرائیں کہ کیوں اس سب کے باوجود ملک کا 122ارب روپے کا نقصان کیا گیا۔

پروگرام میں بتایا گیا کہ نومبر2018میں وزارت پیٹرولیم کو پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کی طرف سے خط لکھا گیاکہ سوئی نارتھ نے 25اکتوبر کو اپنی دسمبر، جنوری اور فروری کی ایل این جی کی ضرورت کا بتایا ہے۔ اور پروکیورمنٹ کے لیے درکار وقت کا خیال نہیں رکھا گیا۔ سردیوں میں صورتحال اورمشکل ہوجاتی ہے۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے سوئی نارتھ اور وزارت بجلی سے بار بار درخواست کی ہے کہ وقت پر ایل این جی کی ڈیمانڈ کا بتادیا کریں، کیوں کہ بہتر قیمتوں پر ایل این جی حاصل کرنے کے لیے تین سے چار ماہ درکار ہوتے ہیں۔ اور اس سب کے لیے پیپرا رولز اور ایل این جی مارکیٹ کے ڈائنامکس کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اب اتنی اخری اسٹیج پر جب ایل این جی کی پروکیورمنٹ کا کہا جائے گا۔

تو سردیوں میں ایل این جی کی زیادہ ڈیمانڈ کی وجہ سے بڈز کاآنا مشکل ہوگا اور قیمتیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔ خط میں مزید لکھا گیا کہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے پہلی نومبر 2018کو اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں اس بات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ سوئی نارتھ اور وزارت بجلی کی طرف سے صحیح وقت پر ایل این جی کی ڈیمانڈ نہیں بتائی جاتی۔

ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس سب کی وجہ سے ایل این جی کی سپلائی میں کمی یا ایل این جی ٹرمینل کو پوری طرح استعمال کرنے کی ذمے داری پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کمپنی پر نہیں ڈالی جاسکتی۔

ساتھ میں یہ بھی لکھ دیاکہ اتنے کم ٹائم میں ہم دسمبر 2018 کے لیے ایل این جی کا انتظام نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ پیپرا کے رولز اس کی اجازت نہیں دیتے۔ مگر جنوری اورفروری کے لیے ٹینڈر کیے جائیں گے اور پھر سب نے دیکھا کہ دسمبر 2018 میں کتنا بڑا کرائسز پیدا ہوا۔ پھر 10دسمبر 2018کو پاکستان ایل این جی کی طرف سے پیٹرولیم منسٹری کو خط لکھاگیا۔

جنوری کے لیے 14.4فی صد۔ فروری کے لیے 15.7فی صد اور 14.7 فی صد بڈز موصول ہونے کا بتایا گیا۔ اور ساتھ ہی کہا گیا کہ یہ بڈز قطر کی طویل مدتی معاہدے سے زیادہ ہے، جس کا ریٹ 13.37فی صد ہے۔ اس لیے ہم وزارت پیٹرولیم سے درخواست کریں گے کہ جنوری اور فروری کی ان تاریخوں میں قطر سے اسی ریٹ پر مزید کارگو کی درخواست کی جائے کیوں کہ اس سے ملک کے ایک کروڑ ڈالرز سے ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالرز تک بچ جائیں گے۔

اگر وقت پر یہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تو پاکستان ایل این جی کو ان بڈز کے تحت کارگو منگوانے پڑیں گے، جس سے ملک کو ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالرز تک کا نقصان ہوگا۔

یعنی حکومت کے وقت پر فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے اس وقت بھی قطر کی طرف دیکھاجارہا تھا اورحکومت کو بار بار بتایا جارہا تھاکہ ایل این جی کی ڈیمانڈ بتایا کریں تاکہ سستی ایل این جی خرید کر پاکستان کے اربوں روپے کا نقصان بچایاجاسکے اورپھر قطر سے درخواست کی جارہی تھی کہ گزشتہ حکومت کے طویل مدتی معاہدے کےتحت 13.3 فیصد پر ایل این جی مہیا کرے کیوں کہ مارکیٹ میں ایل این جی مہنگی مل رہی تھی اور آج بھی یہی صورتحال ہے کہ حکومت قطر سے گزشتہ حکومت کے 13.3 فیصد پر ایل این جی مانگ رہی ہے، کیونکہ مارکیٹ میں 17 فیصد تک مل رہی ہے۔

حالانکہ قطر سے اسی ریٹ پر ڈیل کرنے پر گزشتہ حکومت پر کرپشن کا الزام لگاتی رہی مگر دسمبر 2018 اور اب 2020 میں اسی ریٹ پر ایل این جی چاہتی ہے۔ ندیم بابر اور عمر ایوب صاحب کا دعویٰ ہے کہ ایل این جی اس وقت خریدی جاسکتی ہے پہلے نہیں لے سکتے تھے۔

حالانکہ ہم نے آپ کو دکھایا کہ گزشتہ سال دسمبر میں اپریل کیلیے ڈیمانڈ بتا دی گئی لیکن اس پر بھی 22 جنوری 2019 کو پاکستان ایل این جی نے سوئی نارتھ کو خط لکھا اور ساتھ پٹرولیم منسٹری کو بھی بھیجا اور خط میں لکھا کہ ہم پہلے بھی بار بار کہہ چکے ہیں اور دوبارہ درخواست کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں کیلیےجلد ڈیمانڈ بتائی جائے تاکہ پاکستان ایل این جی سپلائز اٹھا سکے۔ ہم دوبارہ بتانا چا ہتے ہیں کہ 90 سے 120 دن ایل این جی درآمد کیلیے پروکیورمنٹ پروسس پورا کرنے کیلیے درکار ہوتے ہیں، اور مئی جون کے لیے مزید کارگو لانے کے لیے وقت بہت کم ہے۔ یہ جنوری میں جون کی ڈیمانڈ کے لیے پاکستان ایل این جی نے لکھا مگر ندیم بابر صاحب کہہ رہے ہیں کہ ایل این جی کوئی گاجر ، مولی نہیں ہے۔

28جنوری 2019کو سوئی نارتھ نے پاکستان ایل این جی کو خط لکھ کر جون 2019 کی یعنی 6 مہینے کے بعد کی ایل این جی ڈیمانڈ بتائی اور مئی کے مہینے کی ٹوٹل 600ایم ایم سی ایف ڈی ، اور جون کے لیے 558ایم ایم سی ایف ڈی کی ڈیمانڈ کا بتایا اور اضافی ضرورت کے لیے ایل این جی پرکیور کرنے کے لیے درخواست کی۔ یعنی جنوری میں 6مہینے بعد جون کےلیے گیس خریدنے کے لیے خط لکھا۔ اور پھر 13فروری 2019 میں سوئی نارتھ نے پاکستان ایل این جی لیمٹڈ کو جولائی سے اکتوبر 2019 تک کی ایل این جی ڈیمانڈ کا بتادیا تھاکہ اکتوبر کے لیے 196 ایم ایم سی ایف ڈی کی ڈیمانڈ پہلے ہی کنفرم کردی گئی۔

اب مزید 200ایم ایم سی ایف ڈی کی ڈیمانڈ بتائی جارہی ہے۔ اس لیے پاکستان ایل این جی پروکیورمنٹ کا آغاز کرے۔ یعنی اکتوبر 2019کے لیے 9مہینے پہلے فروری 2019میں پروکیورمنٹ کاکہہ دیا گیا تھا۔ مگر ندیم بابر ۔ قوم کو اوروزیراعظم کو بتارہے ہیں کہ ایل این جی کوئی گاجر مولی نہیں۔ 2020میں حکومت نے 2018والی غلطیاں پھر دہرائیں۔ آخری وقت میں مہنگے ریٹس پر ایلی این جی خریدی۔

اگست میں اگست کے لیے مہنگی ایل این جی خریدی۔ جولائی میں اگست کے لیے 5.7 فی صد پر ملی۔ مگر اگست میں اگست کے لیے 9.3فی صد پرملی، یعنی 50لاکھ ڈالریا 80کروڑ روپے ایک کارگو پر زیادہ۔ پھر اگست میں ستمبر کے لیے 6.9فی صد پر مل رہی تھی، مگر پھرستمبرمیں ستمبر کے لیے 10.8فی صد پر خریدی یعنی دو مہینوں میں ڈیڑھ ارب روپے کی مہنگی ایل این جی اور پھر جولائی میں انتہائی سستے ریٹ پر ایل این جی دستیاب تھی، سردیوں کے لیے ٹینڈرز کیے جاسکتے تھے، مگر یہ پتا ہونے کے باوجود کہ سردیوں میں گیس کی شدید کمی ہوگی۔

بالکل آخری وقت میں ٹینڈرز کیے گئے اور 7ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو گیس تک خریدی جارہی ہے۔ بجائے اس کہ ساڑھے 4 ڈالرز تک لے لی جاتی۔ محض تین ماہ میں 35سے 40ارب روپے کا اضافی نقصان۔ اور وہ بھی پہلی دفعہ غلطی کی وجہ سے نہیں، بلکہ جو غلطیاں 2018 میں کیں۔ اور یہ وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔

مگر پھر وہی غلطی دہرائی گئی۔ پروگرام میں 2019ہی کی ایل این جی کی خریداری کی تفصیلات بتائیں گئیں کہ گزشتہ برس 2 جنوری کو پاکستان ایل این جی کی طرف سے اپریل کے مہینے کے آخر تک 5 ایل این جی کارگو کے ٹینڈرز کا اشتہار چھاپا گیا، یعنی پہلے ہی ایل این جی ٹرمینلز کوڈیمانڈ دے دی گئی، اور 4 ماہ پہلے اشتہار چھپ گیا اور بڈز مانگ لی گئیں۔

فروری2019 میں بھی 4 مہینے بعد یعنی جون تک کےٹینڈرز کئے گئے۔ پھرمئی 2019 میں ستمبر 2019 تک کے کارگو ٹینڈرز کا اشتہار چھاپ کربڈز طلب کی گئیں، یعنی 5 ماہ بعد تک کی ڈیمانڈ دیکھتے ہوئےمارکیٹ میں ٹینڈرز کئے گئے۔

مگراس سال اگست میں قیمتیں بڑھنا شروع ہوگئیں تھیں، اور حکومت کو پتا تھاکہ سردیوں میں ڈیمانڈزیادہ ہوگی، اور بقول ِ حکومت کے انہیں یہ بھی پتہ تھاکہ سردیوں میں قیمتیں بڑھ جائیں گی، مگر نہ وقت پر ٹینڈر کرکے سستی گیس سردیوں کے لئےبُک کی۔ نہ ہی کوئی تیاری کی۔ بلکہ عوام کو بتایا جارہاہےکہ ایسا تو ہوہی نہیں سکتاتھا۔

یہ بات کرنا ہی بے وقوفی ہے۔ اسکے علاوہ ندیم بابر صاحب نے پھر 122ارب روپے کے نقصان پر سیاق وسباق سے ہٹ کر بات کی اور غلط بیانی کی۔ کیوں کہ یہ کسی نے نہیں کہا کہ صرف ایل این جی کی خریداری پر انہوں نے 122ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ ہم نےایک نمبر بتایا مگر انہوں نے روایتی انداز میں جواب دے دیا۔

2018 میں ایل این جی ٹرمینل پوری طرح استعمال نہ کرنے پر 45ملین ڈالر ادا کیے اورپھر 2019 اور 2020 میں بھی ٹرمینل پورا استعمال نہیں کیا جاسکا اور پیسے ضائع کیے گئے۔ یعنی تقریباً 25ارب روپے کا نقصان کیا گیا۔ 30ارب روپے کا نقصان اس سال کے 9ماہ میں فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا کرکے کیا گیا۔

20ارب روپے کا نقصان فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی وجہ سے سردیوں میں ہوگا۔ 10ارب روپے کا نقصان 2018کی سردیوں میں کیا گیا۔ 35ارب روپے کا نقصان گرمیوں میں سستی ایل این جی ملنےکےباوجود اور یہ پتا ہونے کے باوجود کہ دسمبرمیں پاکستان کو ایل این جی چاہیے ہوگی۔ پھر بھی دیر کرنے سے ہوا، کیوں کہ پاکستان اب مہنگی ایل این جی خریدرہا ہے۔ ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان اگست اور ستمبر میں دیر سے ایل این جی خریدنے کی وجہ سے ہوا۔ حالاں کہ ڈیمانڈ کا اچھی طرح پتا تھا۔ ملک کا 122ارب روپے کا نقصان صرف غلط فیصلوں کی اور فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے کیا گیا اوریہ سب نقصان اس کے علاوہ ہے جو اس دوران غلط فیصلوں کی وجہ سے کبھی بجلی نہ ہونے اور کبھی گیس نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے عوام اور انڈسٹری کو ہوا۔ پروگرام میں بتایا گیا کہ امید ہے وزیراعظم ان سے اس بات کا جواب لیں گے اور ان کے موقف کےساتھ ساتھ اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات بھی کرائیں گے۔

علاوہ ازیں میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسحٰق ڈار کے انٹرویو پر حکومت نے صحافیوں کے خلاف مہم شروع کردی ہے،آج اسحاق ڈار کا انٹرویو حکومتی موقف کو سوٹ کررہا ہے تو پیمرا کو بھی اعتراض نہیں ہے.

اسحاق ڈار انٹرویو میں حامد میر کو عمران خان سے دوستی کا طعنہ دیتے رہے ہیں،عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو سب سے زیادہ انٹرویوز حامد میر کو دیئے،اسحاق ڈار نے دو دن پہلے برطانوی نشریاتی ادارے کے پروگرام میں انٹرویو دیا، اس انٹرویو کے بعد پاکستان میں ن لیگ اور اس کی قیادت پر پھر سے الزامات کا شروع ہوگیا ہے، تحریک انصاف بھی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا بیانیہ بنانے کیلئے پھر سے متحرک ہوگئی ہے.

اسحاق ڈار کے انٹرویو کے بعد سوالات اٹھ رہے ہیں کہ وہ کئی اہم معاملات پر تسلی بخش جوابات نہیں دے سکے ،ان کی جائیدادوں کی تفصیلات اور وطن واپسی سے متعلق سوالات سب سے اہم تھے، الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے بھی اسحاق ڈار جوابات نہیں دے سکے، سوال اٹھ رہا ہے کہ ایسے وقت میں جب اپوزیشن حکومت کیخلاف متحرک ہے اسحاق ڈار کے انٹرویو نے اپوزیشن کو ہی نقصان پہنچایا ہے،حکومت نے اس انٹرویو کے بعد پاکستان کے کچھ صحافیوں کیخلاف باقاعدہ مہم چلانا شروع کردی ہے، تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے نام لے کر صحافیوں اور ان کے کنڈکٹ پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ وہ کرپشن کو چھپاتے ہیں، اس قسم کا انٹرویو نہیں کرتے ہیں جو برطانوی نشریاتی ادارے کے صحافی نے کیا، دوسری طرف حکومت نے پاکستانی میڈیا پر اسحاق ڈار کے انٹرویو کرنے پر پابندی لگائی ہوئی ہے، جب ہم نے ن لیگ کی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے اسحاق ڈار کے انٹرویو کا ماضی کا کلپ چلایا تھا تو ہمیں منع کیا گیا کہ آپ ایسا بھی نہیں کرسکتے۔

شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ جہاں تک بات حکومت سے سوالات کرنے کی ہے تو زیادہ تر سوالات انہی سے ہوتے ہیں جو حکومت میں ہوتے ہیں، ان کے پاس اختیار ہوتا ہے فیصلے بھی حکومت ہی کرتی ہے اور جوابدہ بھی حکومت کو ہی ہونا پڑتا ہے

وزیراعظم جب اپوزیشن میں تھے تو کہتے تھے کہ صحافی کا کام ہی حکومت سے سوال کرنا ہے اورآج صحافیوں کیخلاف صرف حکومت سے سوالات کرنے پر مہم چلائی جارہی ہے مگر سوالات ہوتے رہیں گے، 122 ارب روپے کے گھپلے کا سوال پھر اٹھ رہا ہے جس کے ہمارے پاس مزید ثبوت ہیں۔

اہم خبریں سے مزید