آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍ رجب المرجب 1442ھ 26؍فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسٹیبلشمنٹ اپنے عوام کے مقابل آنے سے ہٹ جائے، مولانا فضل الرحمٰن


اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے عوام کے مقابل آنے سے ہٹ جائے۔

لاہور میں اپوزیشن اتحاد کی حکومت مخالف تحریک کے آخری جلسے سے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ عوام کو اسلام آباد جانے کا راستہ دے۔

انہوں نے مینار پاکستان کے جلسے کی شرکاء کی موجودگی کو قابلِ تعریف قرار دیا اور پی ڈی ایم کی قیادت کو فقید المثال جلسہ کرنے پر مبارک باد پیش کی۔

پی ڈی ایم سربراہ نے مزید کہا کہ عوام کا جوش و خروش قابل دید ہے، مینار پاکستان کے سائے میں آج کا تاریخی جلسہ عوام کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔


ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ احساس شدت سے ہورہا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ، پاکستان پر ایک ناجائز حکومت مسلط رہتی ہے اور اسٹیبلشمنٹ جس نے اس حکومت کے لیے دھاندلی کی تھی، غیر آئینی کردار ادا کیا تھا، اُس کے زخم گہرے ہوتے چلے جارہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ اس سبب خطرہ محسوس کررہا ہوں کہ ہمیں آنے والے دنوں میں وہ حالات نہ دیکھنے پڑجائیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے مقابل پاکستان کے عوام ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات انتہائی تشویشناک ہوں گے، اپنی اسٹیبلشمنٹ کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں، اپنے عوام کے سامنے آنے سے ہٹ جائیں، انہیں راستہ دیجیے اور اسلام آباد پہنچنے دیں۔

پی ڈی ایم سربراہ نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ عوام کی ہے، طاقت عوام کی ہے اور حکومت بھی عوام کی ہی ہوگی، دھاندلی کا نظام نہیں چلے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوری کے آخری یا فروری کے شروع میں اسلام آباد کی طرف پوری قوم مارچ کرے گی ، اس ناجائز حکومت کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کے استعفیٰ لانگ مارچ کی صورت میں ساتھ لے کر اسلام آباد جائیں، اس پارلیمنٹ پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ادارے کھوکھلے ہوچکے ہیں، ملک چل نہیں رہا ہے، ہم اس لیے آئے ہیں کہ قوم بن کر پاکستان کا مستقبل بچائیں، پارلیمنٹ خود مختار ہو اور کسی کی یرغمال نہ ہو۔

پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں پارلیمنٹ کی حکمرانی، آزاد الیکشن کے لیے اصلاحات اور عوام کے جمہوری حقوق کا تحفظ ،صوبوں کے حقوق کی حفاظت، آزاد میڈیا اور دہشت گردی کے خاتمے جیسے نکات پر مکمل اتفاق ہوا۔

انہوں نے دوران خطاب وزیراعظم عمران خان پر کشمیر کا سودا کرنے اور اسے بھارت کو بیچنے اور پھر مگر مچھ کے آنسو بہانے کا الزام بھی لگایا۔

قومی خبریں سے مزید