زین آفندی کا قتل اُن کا کمرہ پوچھ کر کیا گیا
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زین آفندی کا قتل اُن کا کمرہ پوچھ کر کیا گیا


سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی حسن علی آفندی کے پوتے زین آفندی کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمہ مقتول کی بیوہ کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں  میں ڈکیتی کے دوران قتل کی دفعہ عائد کی گئی۔

بیوہ کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ان کے کمرے کا پوچھ کر شوہر کو قتل کیا ہے۔

پولیس چیف نے کہا ہے کے ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب مزار قائد کے قریب بنگلے کے اندر فائرنگ سے زین حسن آفندی جاں بحق ہوگئے تھے، وہ سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی حسن علی آفندی کے پوتے تھے، پولیس نے ان کی بیوہ انیقہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔

 ایف آئی آر کے متن کے مطابق بیوہ نے بیان دیا ہے کہ وہ اور ان کے شوہر گھر کی بالائی منزل پر بنے کمرے میں سورہے تھے کہ صبح تقریباً 4 بج کر 20 منٹ پر ان کے کمرے کا دروازہ توڑ کر چار مسلح افراد داخل ہوئے اور انھوں نے مجھ سے زیور چھیننے کی کوشش کی، انھوں نے فوراً ہی اپنا زیور انھیں دے دیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملزمان نے ٹیبل پر رکھے ان کے شوہر کے دو موبائل فون اور پرس بھی اٹھایا۔


زین حسن آفندی کی بیوہ نے بتایا کہ  پرس میں ان کے کچھ ضروری کاغذات تھے جس پر ان کے شوہر نے مزاحمت کی، اسی دوران ایک ملزم نے ان پر فائر کیا جوکہ نہیں لگا لیکن اسی دوران دوسرے ملزم نے فائرنگ کی جس سے ایک گولی ان کے چہرے پر لگی جس کے بعد اس نے مزید تین سے چار فائر کیے، ملزمان فائرنگ کے بعد کمرے سے نکل گئے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے، وہ جب گھر کے گراؤنڈ فلور پر گئیں تو دیکھا کہ ملزمان نے گھر کے چوکیدار اور ملازمین کو رسیوں سے باندھا ہوا تھا۔

قومی خبریں سے مزید