• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاور بریک ڈاؤن نے سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار کردی

ملک بھر میں ہفتہ اور اتوار  کی درمیانی شب جب اچانک ہی بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا تو وِیک اینڈ پر چھٹی کے مزے لینے والے سوشل میڈیا صارفین کی حسِ مزاح بھی جاگ گئی تھی۔

بجلی کا بریک ڈاؤن ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے رات گیارہ بج کر اکتالیس منٹ سے ساڑھے بارہ تک افواہوں کا بازار گرم رہا۔

سوشل میڈیا پر کہیں دشمن کے حملے اور تختہ الٹنے کی افواہیں چلنے لگیں تو کہیں میمز اور پُرمزاح چٹکلوں کا بازار گرم رہا۔


ملک گیر سطح پر ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے   ٹوئٹر پر پاور بریک ڈاؤن، مارشل لا، بلیک آؤٹ جیسے ہیش ٹیگز  گردش کرنے لگے۔

صارفین کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے نئے پاکستان میں ڈارک موڈ کا آپشن بھی رکھا ہے۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’پچھلے 72 برسوں میں وزیراعظم عمران خان پاکستان کے وہ پہلے وزیراعظم ہیں، جنہوں نے پورے ملک میں ڈارک موڈ متعارف کرایا ہے، یہ ہوتا ہے وزیراعظم، یہ ہوتا ہے وژن۔‘

ایک صارف کا کہنا تھا کہ بجلی بھی تھک گئی تھی اس لیے تھوڑا ریسٹ کرنے گئی تھی۔

چوہدری عبداللہ مبین نامی صارف نے پیشگوئی کی تھی کہ آخری مرتبہ جب بلیک آؤٹ ہوا تھا تو مارشل لگایا گیا تھا اور نواز شریف کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پاور بریک ڈاؤن کے دوران پاک بھارت جنگ کی افواہ اس وقت پھیلی جب ایک ٹویٹر صارف نے پاکستان ایئر فورس کو الرٹ رہنے کا مشورہ دیا۔

وزیراعظم کے مشیر شہباز گل نے ایسی ہی ایک ٹوئٹ پر تبصرہ کیا تو لکھا کہ ’آپ تو ہر وقت فلم بنے رہتے ہیں‘۔

پاکستانی اداکار عثمان خالد بٹ نے بھی میمز میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے کہا کہ ’اب مجھے یہ تشویش ہورہی ہے کہ کیا سمپسنز کارٹون نے اس بلیک آؤٹ کی بھی پیشگوئی کی تھی؟‘

بجلی کی بتدریج بحالی کا آغاز تو ہواگیا تھا لیکن میمز کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا جو اب بھی جاری ہے،  سوشل میڈیا پر مختلف پُرمزاح تبصرے یہاں شیئر کیے جا رہے ہیں۔


خاص رپورٹ سے مزید