• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسامہ ستّی کو پولیس نے باقاعدہ منصوبہ بندی اور گھیر کر قتل کیا، رپورٹ


اسلام آباد میں اسامہ ستّی کو پولیس نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے گھیر کر قتل کیا، کھڑی گاڑی میں بیٹھے اسامہ ستّی کو چاروں اطراف سے 22 گولیاں ماری گئیں۔ جائے وقوعہ کے چاروں اطراف گاڑیاں لگا کر زخمی اسامہ کی موت کا انتظار کیا گیا، جبکہ اسامہ کو قتل کرنے کے بعد پولیس اہلکار کافی خوش تھے۔

پولیس کی جانب سے ریسیکیو 1122 کی گاڑی کو غلط لوکیشن دی گئی، موقع پرپہنچے والے پولیس افسران بھی مل گئے، شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی۔ اسامہ ستّی کے قتل کے بارے میں جوڈیشل انکوائری رپورٹ نے وفاقی پولیس، انسداد دہشت گردی اسکواڈ اور کرائم ریسپانس ٹیم سب کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

اسامہ ستی کیس میں محافظ قاتل نکلے۔ جوڈیشل انکوائری رپورٹ لرزا دینے والے واقعات سامنے لے آئی۔

جوڈیشل کمیشن رپورٹ کے مطابق اسامہ ستّی کو پولیس نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے قتل کیا۔ اسامہ ستی کی رکی ہوئی گاڑی پرایک نہیں بلکہ چار اطراف سے 22 گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ فورنزک رپورٹ کے مطابق کچھ اہلکاروں نے بیٹھ کر اور کچھ نے کھڑے ہو کر فائرنگ کی۔

موقع واردات پر اسلحہ سے لیس پولیس اہلکار اختیار کے نشے میں نہتے شہری پر گولیاں چلانے کے بعد انتہائی خوش تھے۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بعد میں آنے والے ڈیوٹی افسر، تحقیقاتی ٹیمیں بھی اپنے پیٹی بھائیوں کے ساتھ مل گئے، زخمی اسامہ کو اسپتال لے جانے کی بجائے سٹرک کنارے رکھ دیا گیا، جائے وقوعہ پر چاروں اطراف پولیس کی گاڑیاں لگا دی گئیں تاکہ لوگ یہ منظر نا دیکھ سکیں، پھر اسامہ ستّی کی موت کا انتظار کیا گیا۔

اس دوران ون فائیو کنٹرول روم نے ریسکیو 1122 کو جائے وقوعہ کی غلط لوکیشن دی، کچھ وقت کے بعد ریسکیو 1122 کی گاڑی کو پھر پیغام دے دیا گیا کہ واپس آ جائیں کوئی واقعہ نہیں ہوا۔


جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کے مطابق سینئر افسروں کو بھی اندھیرے میں رکھا گیا اورقتل کو 4 گھنٹوں تک اسامہ کے خاندان سے چھپایا۔ ڈیوٹی افسر بھی معاملے کا حصہ بن گیا اس نے جائے وقوعہ کی کوئی تصویر یا ویڈیو نہ بنائی۔ گولیوں کے18 خولوں کو 72 گھنٹوں کے بعد فرانزک کے لیے بھیجا گیا۔ موقع پر پہنچنے والے پولیس افسران نے مل کر ثبوت مٹانے کی کوشش بھی کی۔ آئی جی اسلام آباد نے معاملے پر کچھ نا کیا۔

رپورٹ کے مطابق اسامہ پر ڈکیتی کا الزام ثابت نا ہو سکا، نا اس کے پاس اسلحہ تھا مگر یہ ثابت ہو گیا کہ پولیس ہر صورت اسے قتل کرنا چاہتی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی اسکواڈ کو ایس او پیز سے متعلق کچھ علم نہیں نا ہی ایس پی اے ٹی ایس ایس او پیز سے متعلق کمیشن کو کچھ دکھا اور بتا سکے۔ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ پولیس بغیر کسی ایس او پی کے من مرضی سے کام کر رہی ہے۔ کمیشن نے فوری طور پر ایس پی اے ٹی ایس، ایس پی انوسٹی گیشن، ایس پی آئی نائن، ڈی ایس پی رمنا، ایس ایچ او رمنا، ایس ایچ او کراچی کمپنی، ڈیوٹی آفیسر رمنا کو فوری طور پر ہٹانے کی سفارش کر دی۔

کمیشن نے اسلام آباد میں پولیس نظام کا آزاد نو جائزہ لینے، نفسیاتی تربیت، ایس او پیز کے اطلاق اور تمام کالے شیشوں والی گاڑیوں کے پرمٹ کینسل کرنے کی سفارش کی ہے۔

قومی خبریں سے مزید