آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عوام، بالخصوص اپوزیشن کے حلقوں میں تو ایک عرصہ سے حکومت کی کارکردگی پر سوالات اُٹھائے جارہے ہیں اور گڈ گورننس کے فقدان پر برسراقتدار طبقے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے مگر اب خود وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے وزراء کے کام پر ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے کہا ہے۔ منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے قیام کو ڈھائی سال ہو گئے ہیں۔ اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، تمام وزراء کو عوامی مسائل پر توجہ دینا ہوگی اور اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی ورنہ کابینہ کے اجلاس میں فائلوں کے بڑے بڑے پلندے لانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اُنہوں نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے وزراء سے کہا کہ حکومتی فیصلوں کی اونرشپ لیں۔ فیصلوں کی مخالفت کرنی ہے تو مستعفی ہو جائیں۔ ذرائع کے مطابق مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو سال گزرنے کے باوجود اداروں اور گورننس میں اصلاحات نہیں آسکیں۔ انہوں نے وزیر قانون سے بھی پوچھا کہ عدلیہ میں اصلاحات کے لئے ان کی وزارت نے اب تک کیا کیا؟ بعد میں وزیراطلاعات شبلی فراز نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ بہت سے ادارے فرسودہ طریقے استعمال کررہے ہیں جس سے ان کی کارکردگی،

شفافیت اور جواب دہی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے وزراء پر جو زور دیا ہے وہ وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی عمل میں سست روی اور فیصلوں میں تاخیر سے جو مسائل سامنے آرہے ہیں مختلف وزارتیں ان کی ذمہ داری سے مبرا نہیں ہو سکتیں۔ انہیں عوام کی مشکلات دور کرنے کے لئے صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرکے ان پر عملدرآمد کرانا ہوگا۔ اس کے لئے ادارہ جاتی اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔

تازہ ترین