آپ آف لائن ہیں
پیر16؍ رجب المرجب 1442ھ یکم مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اکتوبر تک سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، جاپانی حکومت کی کورونا کے خلاف بہترین حکمت عملی کے سبب جاپان میں کورونا کے کیسز میں نمایاں کمی آچکی تھی جو کہ یومیہ پندرہ سے بیس تک پہنچ چکے تھے‘ اس بہتر ہوتی صورتحال کی ذمہ دار صرف حکومت ہی نہیں بلکہ جاپانی عوام بھی تھے جنھوں نے حکومتی ہدایات کی مکمل پاسداری کی، جس میں ماسک کا پابندی سے استعمال، ایک دوسرے سے چھ فٹ کا فاصلہ رکھنا، پبلک ٹرانسپورٹ کا کم استعمال، ریستورانوں میں جانے سے گریز جیسے اقدامات شامل تھے جبکہ حکومت کی جانب سے بھی جاپانی عوام کو بھرپور سہولتوں کی فراہمی جاری تھی جس میں ریستورانوں کو جلدی بند کرنے پر پانچ لاکھ ین تک ماہانہ ادا کئے جا رہے تھے، کورونا کے سبب کاروبار میں نقصان اٹھانے والے کاروباری اداروں کو بیس لاکھ ین کی سبسڈی فراہم کی جارہی تھی اور جو کاروباری ادارے کرائے اور بجلی کے بل ادا نہیں کر پا رہے تھے، حکومت نے ان کی ذمہ داری بھی اٹھالی تھی، لوگوں کو بے روزگاری سے بچانے کے لئے جاپانی حکومت نجی کاروباری اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی حصہ ڈالنے کو تیار تھی جبکہ جن لوگوں کی ملازمتیں کورونا کے سبب ختم ہو گئی تھیں‘ جاپانی حکومت نے ایک فلاحی ریاست کا فرض ادا کرتے ہوئے ان کے گھروں کے کرائے اور کھانے پینے کے لئے سبسڈی بھی فراہم کرنے کا بندوبست کیا لیکن اس پورے عمل کے باعث کورونا کو تو کنٹرول کرلیا گیا لیکن جاپان کی معیشت کو سخت نقصان پہنچ چکا تھا، خاص طور پر جاپان کی ڈومیسٹک انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی، أئر لائنوں میں مسافر نہ ہونے کے سبب وہ معاشی تباہی کے قریب پہنچ چکی تھیں، ٹرینوں میں مسافر نہ ہونے کے سبب ریلوے خسارے میں آچکی تھی، سیاحتی مقامات پر سیاح نہ ہونے کے سبب ہوٹل انڈسٹری تباہی کا شکار تھی، مارکیٹیں سنسان ہونے کے سبب روزمرہ کی خریداری رک چکی تھی جس نے بھی معاشی بحران کو جنم دیا، ایسے درجنوں معاشی مسائل کے بعد جاپانی حکومت نے فیصلہ کیا کہ کورونا کے کیسز میں نمایاں کمی کے بعد اب معیشت کی بحالی کے لئے اقدامات کئے جائیں لہٰذا جاپانی حکومت نے ملک میں ایک نئی اسکیم کا افتتاح کیا جس کا نام گو ٹو کمپین رکھا گیا‘ اس کے تحت جو جاپانی شہری تفریحی مقامات کا سفر کریں گے ان کے لئے ہوائی جہاز اور ریلوے کے کرائے نہ صرف آدھے کردیئے جائیں گے بلکہ جن ہوٹلوں میں ٹھہریں گے‘ ان کے نصف کرائے بھی جاپانی حکومت ادا کرے گی‘ صرف یہی نہیں بلکہ سیاحتی مقامات پر اس کمپین کے تحت آنے والے سیاحوں کو حکومت کی جانب سے کھانے اور شاپنگ کے لئے وائوچرز بھی فراہم کئے جارہے تھے ، حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ان سہولتوں کے بعد جاپان میں سیاحت میں زبردست اضافہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے جاپان کے ویران سیاحتی مقامات پر زبردست گہما گہمی نظر آنے لگی۔

لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے گھروں سے نکلنا شروع کیا اور جاپان ایک بار پھر رونقوں سے جگمگا اٹھا لیکن شاید یہیں کوئی غلطی ہوئی کیونکہ کوورنا کی تیسری لہر کا امکان تو ظاہر کیا جا رہا تھا،تاہم، جاپانی حکومت کی نئی سیاحتی مہم اور سہولتوں کی فراہمی کے سبب لوگوں نے کورونا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کم اختیار کرنا شروع کردیں۔ دسمبر کا مہینہ شروع ہوا تو آئے روز کورونا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آنے لگا، یہاں تک کہ صرف دارالحکومت ٹوکیو میں ایک دن میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ڈھائی ہزار تک پہنچ گئی جو جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک کے لئے بہت خطرناک تھی۔ بہت سے پاکستانی بھائی بھی اس وبا کا شکار ہوئے تاہم کسی پاکستانی کے جاپان میں کورونا سے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے، تاہم جاپانی میڈیا کے مطابق اس وقت جاپان کے اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے جگہ کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جاپانی حکومت نے ملک بھر میں سخت ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا ہے، سیاحتی مہم ختم کردی گئی ہے، ریستورانوں کو شام کے وقت بند کردیا گیا ہے، سفری پابندیاں عائد کردی گئی ہے، جاپان میں داخل ہونے والے تمام سیاحتی اور کاروباری ویزے کے حامل افراد پر پابندی عائد کردی گئی ہے صرف جاپان میں مستقل قیام سمیت چند خاص شعبوؓں میں طویل قیام کا ویزہ رکھنے والے افراد کو ہی جاپان میں داخلے کی اجازت ہوگی۔ کورونا کی تیسری لہر نے جاپان کو معاشی طور پر شدید متاثر کیا ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ جاپانی حکومت کس طرح انسانی اور معاشی طور پر کورونا کی اس وبا سے نمٹنے میں کامیاب ہوگی، ہماری دعائیں و نیک تمنائیں جاپانی حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین