• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سندھ میں نئی مردم شماری کیلئے سیاسی جماعتوں کا احتجاج

سندھ اسمبلی کے تین حلقے ارکان سندھ اسمبلی کے انتقال کے سبب خالی قرار پائے تھے ان میں پی ایس 88 ملیر ، پی ایس 43 سانگھڑ اور پی ایس 52 عمر کوٹ شامل ہیں عمر کوٹ کے ضمنی الیکشن کا نتیجہ آ چکا ہے جہاں سے پی پی پی کے امیدوار امیر علی شاہ نے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق 55904 حاصل کر کے سابق وزیر اعلیٰ سندھ اور جی ڈی اے کے مضبوط امیدوار ارباب غلام رحیم کو پچیس ہزار کے بھاری مارجن سے شکست دے دی ۔

یہاں پی پی پی کو مسلم لیگ(ن) جبکہ حکومتی اتحاد کے امیدوار سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کو پی ٹی آئی، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کی حمایت حاصل تھی اسی طرح سانگھڑ اور ملیر میں بھی پی پی پی کا مقابلہ حکومتی اتحاد سے ہے یہ تینوں نشستیں پی پی پی کے پاس تھیں یہ نشستیں سینیٹ انتخاب میں ایک نشست کے لیے اہم ہیں عمرکوٹ کے انتخاب کا نتیجے کا اثر بلاشبہ باقی دو نشستوں پر بھی پڑے گا سندھ کی باقی دو نشستوں پر پی پی پی اور حکومتی اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے عمرکورٹ کے انتخاب کے نتیجے نے ثابت کر دیا کہ سندھ میں پی پی پی کا کوئی حریف نہیں اور وہ آئندہ بھی سندھ سے کامیابی سمیٹے گی اس رزلٹ نے سندھ میں پی ڈی ایم کی مضبوطی اور عوامی قوت کا بھی اظہار کر دیا۔ سندھ میں شہری آبادی خصوصاً کراچی اور حیدرآباد کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہواہے۔ نئی مردم شماری کے بعد صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ 

خصوصاََشہری نشستوں میں زیادہ اضافے کی توقع ہے ادھر گزشتہ ہفتے کراچی میں پی ایس پی اور جماعت اسلامی نے مردم شماری کے خلاف ریلیاں نکالیں پی ایس پی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے شارع فیصل سے کراچی پریس کلب تک ریلی کی قیادت کی جہاں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کراچی کی آبادی کو کم گنے جانے کا خمیازہ آنے والی 7 نسلوں کو بھگتنا پڑے گا، ایم کیوایم نے کراچی کے عوام کاسودا کیا لیکن پی ایس پی خاموش نہیں رہے گی اپنی گنتی درست کرانے کے لیے ہرحدتک جائیں گے۔ حکمران نہ مانے تو گلی گلی ایسا احتجاج ہوگا کہ دن میں تارے نظرآجائیں گے۔ مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ مردم شماری کو متنازع ہی رکھا جائے اور غلط مردم شماری کو قانونی شکل نہ دی جائے، انہوں نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ سے بھی مردم شماری کو درست کرانے کے لیے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی۔

جبکہ جماعت اسلامی نے گلشن اقبال میں کراچی کو حق دو کے عنوان سے احتجاجی مظاہرہ کیا جہاں امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ کراچی کو حق نہ ملا تو وزیراعلیٰ اورگورنرہاؤس پر بھی دھرنا دیں گے۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام کو اپنے اصل کی طرف لوٹنا ہوگا، جماعت اسلامی ہی اس شہر کا روشن مستقبل ہے، ماضی میں بھی جماعت اسلامی نے کراچی کی بے مثال خدمت کی تھی اور آج بھی جماعت اسلامی شہر کو پھر سے چمکتا دھمکتاشہر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی سڑکوں پر موجودہے، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے جدوجہد کو جاری رکھے گی، اگر وزیراعلیٰ ہاؤس یا گورنرہاؤس پر بھی دھرنا دینا پڑا تو ہم وہاں بھی دھرنا دیں گے۔ 

انہوں نے کہاکہ درست مردم شماری، بااختیار شہری حکومت، فوری بلدیاتی انتخابات سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے جاری حقوق کراچی تحریک کے سلسلے میں 22 جنوری کو شہر بھر میں مظاہرے اورکراچی میں 50 مقامات پر احتجاجی دھرنے دیئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ نے بھی رکن سندھ اسمبلی اعجازشاہ شیزاری کے چہلم کے موقع پر ٹھٹھہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مردم شماری پر ہمارے شدیداعتراضات ہیں ، میرے حساب سے سندھ کی آبادی 6 کروڑ سے بھی زیادہ ہے مگر مردم شماری میں سندھ کی آبادی تقریباً 4 کروڑ70 لاکھ بتائی گئی ہے۔ 

انہوں نے کہاکہ مردم شماری میں نہ صرف سندھ کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے بلکہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں سندھ کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور کسی حدتک کے پی کے نے بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مردم شماری کا معاملہ ایک بار پھر مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اٹھایاجائے گا۔دوسری جانب ایم کیو ایم کے عارضی مرکز پر وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر اور گورنرسندھ عمران اسماعیل نے

ایم کیو ایم کے کنوینر خالدمقبول صدیقی سے ملاقات کی جس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر، گورنرسندھ عمران اسماعیل اورکنوینرایم کیو ایم ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی نے اعلان کیا ہے کہ 2023 کے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہوں گے، تکنیکی کمیٹی بنادی گئی ہے، دنیا کے رائج جدیدطریقوں کو اپنایا جائے گا، اب ایسی مردم شماری ہوگی جس پر عوام بھروسہ کرسکیں۔مردم شماری پر گرچہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم میں اتفاق ہوگیا ہے۔ تاہم بلدیاتی انتخابات ہوئے تو اسی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے جس سے سند ھ خصوصاََ شہری علاقوں کو نقصان ہوگا۔ 

تین سال تک این ایف سی ایوارڈ میں بھی سندھ کو کم حصہ ملے گا اس ضمن میں پی ایس پی کے چیئرمین مصطفی کمال نے ایم کیو ایم کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے اور کہا ہے کہ کراچی کی مردم شماری کی منظوری میں ایم کیوایم کا بھی ہاتھ ہے اس کے وزیر نے صرف اختلافی نوٹ لکھا دوسری جانب کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں گیس کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے صنعتوں کو گیس کی فراہمی تو دور کی بات گھریلوصارفین کو بھی کئی کئی روز بعد گیس دی جارہی ہے گھروںمیں کھاناپکانا ناممکن ہوگیا گھریلو صارفین یا توبھوکے رہتے ہیں یا پھر ہوٹلوں سے کھانا منگواتے ہیں جبکہ گیس سلنڈر کا استعمال بڑھ چکا ہے ناقص سلنڈروں کے سبب گھریلو صارفین شدید خطرے کا شکار ہیں۔

اس مسئلہ پر سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ نے ٓآواز اٹھائی اورگیس بحران پر وفاقی حکومت پر سخت تنقیدکرتے ہوئے ، وفاقی حکومت کے اتحادیوں جی ڈی اے ،ایم کیوایم پرزور دیا ہے کہ وہ عوامی مسائل پر وفاقی کابینہ سے نکلیں اور سندھ کے لوگوں کا ساتھ دیں، سندھ اسمبلی میں گیس بحران پرپالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے میں قربانی دینا پڑتی ہے مجھے پتہ ہے آپ حکومت سے نہیں نکل سکتے کیونکہ آپ کو چلانے والا کوئی اور ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ وفاقی حکومت نے صنعتکاروں کی حالت خراب کردی ہے سندھ میں گیس موجود ہے اور ان کا حق ہے ان کی صنعتوں کو گیس دی جائے مگر پھر بھی نہیں دی جارہی۔ گیس پر سندھ کے لوگوںکا پہلا حق ہے۔

تازہ ترین
تازہ ترین