آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

علم الفقہ میں ہے:

زکوٰۃ اور عشر میں سات فرق ہیں:

(۱)عشر کے واجب ہونے میں کسی نصاب کی شرط نہیں ،قلیل اور کثیر ہر چیز میں عشر واجب ہوتا ہے بشرط یہ کہ ایک صاع سے کم نہ ہو ۔

(۲) اس میں یہ بھی شرط نہیں کہ وہ چیز ایک سال تک باقی رہ سکے جو چیزیں نہ باقی رہ سکیں، ان پر بھی عشر واجب ہے، جیسے ترکاریاں ،کھیرا، ککڑی، تربوز خربوزہ، لیموں، نارنگی ، امرود آم وغیرہ۔

(۳) اس میں ایک سال کے گزرنے کی بھی قید نہیں ،حتیٰ کہ اگر کسی زمین میں سال کے اندر دو مرتبہ کا شت کی جائے تو ہر مرتبہ کی پیداوار میں عشر واجب ہوگا، سال میں دو مرتبہ تو اکثر زمینیں کاشت کی جاتی ہیں، مگر درختوں میں سوائے امرود کے کوئی درخت سال میں دو مرتبہ نہیں پھلتا، اور بالفرض اگر کوئی درخت دو مرتبہ یا اس سے زیادہ پھلے تو ہر مرتبہ عشر دینا ہوگا۔

(۴) عشر کے واجب ہونے کے لیے عاقل ہونے کی بھی شرط نہیں، مجنون کے مال میں بھی عشر واجب ہے۔

(۵) بالغ ہونا بھی شرط نہیں نابالغ کے مال میں بھی عشر واجب ہے۔

(۶) آزاد ہونا بھی شرط نہیں مکاتب اور مأذون کے مال میں بھی عشر واجب ہے۔

(۷) زمین کا مالک ہونا بھی شرط نہیں، اگر وقف کی زمین ہو یا کرایہ کی تو اس کی پیداوار پر بھی عشر واجب ہے، ہاں یہ شرط ضرور ہے کہ وہ چیز قصداً بوئی گئی ہو یا وہ خرید و فروخت کے قابل ہو ، اگر خود رو اور بے قیمت چیز ہو، جیسے گھاس وغیرہ تو اس میں عشر نہیں، ایک چیز بعض مقامات میں قابلِ قدر ہوتی ہے اور ا س کی خرید و فروخت کی جاتی ہے اور بعض مقامات میں وہی چیز بے قدر ہوتی ہے کوئی ا س کی خرید وفروخت نہیں کرتا۔ (جس جگہ ) وہ قابلِ قدر ہے (وہاں ) اس پر عشر واجب ہوگا اور جہاں بے قدر ہے وہاں نہ ہوگا، اور یہ بھی شرط ہے کہ اس زمین پر خراج واجب نہ ہو، اگر خراج واجب ہوگا تو پھر عشر واجب نہیں ہوسکتا ، کیوں کہ دو حق ایک زمین پر واجب نہیں ہوتے۔ 

جو زمین کہ خراجی نہ ہو اور وہ بارش کے یا دریا کے پانی سے سینچی جائے (یعنی پانی بلا قیمت اور بلا محنت میسر آجاتا ہو) تو ا س کی پیداوار میں عشر فرض ہے، (مثلاً دس من میں ایک من) اور جو زمین کنویں سے سینچی جائے خواہ بذریعہ پر کے یا بذریعہ ڈول کے یا مول کے پانی سے (یعنی پانی قیمت دے کر خریدنا پڑا ہو یا محنت کرنا پڑی ہو ) تو اس کی پیدا وار میں عشر کا نصف یعنی بیسواں حصہ (مثلاً دس من میں آدھا من ) فرض ہے۔ اور اگر کوئی زمین دونوں قسم کے پانیوں سے سینچی گئی ہو تو اس میں اکثر کا اعتبار ہوگا یعنی اگر زیادہ تر بارش یا دریا کے پانی سے سینچی گئی ہے تو عشر دینا ہوگا اور جو دونوں قسم کے پانی برابر ہوں تو بھی نصف عشر دینا ہوگا ۔

جس قدر پیداوار ہے اس سب کا عشر ہونا چاہیے، بغیر اس کے کہ بیج کی قیمت، بیلوں کا کرایہ، ہل چلانے والے باغ یا کھیت کی حفاظت کرنے والوں کی مزدوری یا کھیت کا لگان وغیرہ، اس سے وضع کیا جائے، مثلاً کسی کھیت میں بیس من غلہ پیدا ہوا تو اسے چاہیے کہ دو من عشر میں نکال دے، اگر زمین بارش یادریا سے سینچی گئی ہو اور جو کنویں وغیرہ سے سینچی گئی ہو تو ایک من نکالے ،یہ نہ کرے کہ اس بیس من غلہ سے تمام اس کے اخراجات کا شت نکالنے کے بعد جو باقی رہ جائے، مثلاً دس من رہ جائے تو اس کا عشر یعنی ایک من یا نصف عشر یعنی بیس سیر نکالے ۔(علم الفقہ ص ۴۲،ص۴۳، ص ۴۴ ج ۴، مولانا محمد عبدالشکور لکھنویؒ)فقط واللہ اعلم بالصواب ۔ سید عبدالرحیم لاجپوری غفرلہ راندیر ، ۱۷ جمادی الثانیہ ۱۴۱۶ھ (۹۵/۱۱/۱۱)‘‘. (فتاویٰ رحیمیہ، باب العشر والخراج، ٧ / ١٦٤ - ١٦٧)۔ فقط وللہ اعلم