آپ آف لائن ہیں
اتوار15؍ رجب المرجب 1442ھ 28؍ فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میں نہیں جانتا کہ انگریزی محاورے فوڈ فار تھاٹ کا اردو میں متبادل محاورہ کیا ہے۔ میں نے اپنے طور پر فوڈ فارتھاٹ کا اردو میں ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ میری بھونڈی کوشش ہے۔ سن لیجئے، اور پھر ہنس لیجئے گا۔ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ مجھے درویش کی بات آپ تک پہنچانی ہے۔ فوڈ فارتھاٹ کا ترجمہ ہے، سوچنے کے لیے کھانا۔ سوچنے کے لیے خوراک، وغیرہ۔ ناقص ترجمہ ہے۔ خدا کے نیک بندوں نے فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ پستہ بادام کھانے سے دماغ توانا رہتا ہے اور توانا دماغ ڈگمگاتا نہیں۔ توانا دماغ تیزی سے سوچ سکتا ہے۔ تب آپ سوچ سمجھ کر بیلٹ بکس میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ لائق لوگوں کو چن کر آپ اسمبلیوں میں بٹھاتے ہیں۔ لائق لوگ لائق حکومتیں بناتے ہیں۔ نالائق لوگ نالائق حکومتیں بناتے ہیں۔ نالائق لوگ لائق طریقہ سے حکومت چلانے کے بجائے بہانے بناتے ہیں۔ اپنی نالائقی کا ملبہ پچھلی حکومتوں پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ ہم مثبت سوچ نہیں رکھتے ۔ہماری سوچ نالائق ہوتی ہے۔ہم نالائق لوگوں کو ووٹ دیکر چنتے ہیں۔ انہیں اسمبلیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ اسمبلیوں میں پہنچ کر وہ ایسی حکومت بناتے ہیں، جو وہ چلا نہیں سکتے۔ اس میں قصور حکومت بنانے والوں کا نہیں ہے۔اس میں قصور ہمارا ہے، کیوں کہ ہم لائق اور نالائق میں تمیز نہیں کرسکتے ۔ہمیں سوچنے کے لیے خوراک کی ضرورت ہے۔ اشد ضرورت ہے۔ یہ میری اپنی سوچ نہیں ہے۔یہ درویش کی سوچ ہے۔ درویش کی سوچ آج میں آپ سے شیئر کرناچاہتا ہوں۔ شیئر لفظ کے دومعنی ہیں۔ ایک معنی ہے بانٹنا۔مثلاً آپ جب بھی ریوڑیاں کھائیں، بانٹ کر کھائیں۔ ریوڑیاں تنہا، اکیلے، چھپ چھپ کرکھانے کی چیز نہیں ہے۔ ریوڑیاں بانٹ کرکھانے کی چیز ہیں۔ اسی طرح جب بھی آپ کام کی بات سنیں تو دوستوں اور دشمنوں سے شیئرکریں۔ یعنی کام کی باتیں بانٹیں۔ لہٰذا بانٹنا بڑے ہی کام کی عادت ہے۔اگر آپ کام کے ساتھ ساتھ کاج کی عادت بھی اپنالیں تو دنیا آپ کے گن گائے گی۔ مگر ایک بات کا خیال رہے کہ بانٹتے ہوئے آپ بندر بانٹ سے اجتناب کریں۔ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا اور بندر بانٹ کرتے رہے تو پھر ڈارون کی عملِ ارتقا کی تھیوری میں یقین رکھنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ اور آپ اپنے آپ کو بندروں اور بن مانسوں کی صف اول میں کھڑا ہوا پائیں گے۔ اس لیے جب بھی بانٹیں، انصاف سے بانٹیں۔یہ جو باتیں میں آپ سے شیئر کررہا ہوں میری اپنی باتیں نہیں ہیں۔ آپ تو جانتے ہیں کہ میں جھوٹ لکھتا ہوں۔میں جھوٹ بولتا ہوں، میں جھوٹ سنتا ہوں۔ میرے کالم کا مستقل عنوان ہے، سب جھوٹ ۔میرے گنتی کے پڑھنے والے مجھ سے سچ سننے کی توقع نہیں رکھتے۔ جب بھی درویش ہم فقیروں کے درمیاں آتے ہیں، ہم بونگوں کو کام کی باتیں بتاتے ہیں۔ میں وہ باتیں آپ سے شیئر کرتا ہوں۔

درویش نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ حالات کے ہاتھوں پسے ہوئے لوگوں سے جھوٹ مت بولو۔ ناقص معاشرتی، اقتصادی اور انتظامی امور کی وجہ سے لوگ خوشحالی اور بدحالی میں بٹ جاتے ہیں۔ معاشرے میں آپ کی اپنی پیدا کی ہوئی ناہمواری خدا کے کھاتے میں مت ڈالو۔ ایک بھجن کے بول ہیں۔’’خود پاپ کرو، نام ہوشیطان کا بدنام‘‘۔ معاشرہ اپنی حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔ کرپٹ حکومت معاشرے میں کرپشن اور بدحالی پھیلاتی ہے۔ نااہل حکومت معاشرے کو کاہل اور بدحال بنادیتی ہے۔ حکومت کے ناقص انتظامی امور کی وجہ سے امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہوتے جاتے ہیں۔ اس ڈر سے کہ افلاس کی چکی میں پسنے والی رعایا کہیں ایوان اقتدار کے برج ہلاکر نہ رکھ دے حاکم وقت طرح طرح کے طریقوں اور حکمت عملی سے غریبوں کو یقین دلاتے رہتے ہیں کہ لکھنے والے نے ان کے نصیب میں غربت لکھ دی ہے۔ درویش نے کہا کہ ہم سب کسی نہ کسی کے ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ یعنی کسی نہ کسی کے نشانے پر ہوتے ہیں۔سانولی رنگت رکھنے والے لوگ رنگ گورا کرنے والی کریم بنانے والوں کے ٹارگٹ پہ ہوتے ہیں۔ یعنی نشانے پرہوتے ہیں۔ سر پرگھنے بال دیکھنے کی آرزومیں جینے والے گنجے ایسے شعبدہ بازوں کے ٹارگٹ پر ہوتے ہیں جواپنے ہنر سے گنجوں کے سر پر دس دن میں کالے گھنے بالوں کا جنگل اگانے کی حکمت رکھتے ہیں۔ ٹوتھ پیسٹ بیچنے والے اپنے اپنے برانڈ کی اس قدر بھرپور پبلسٹی کرتے ہیں کہ آپ کو کنفیوژ کردیتے ہیں، یعنی شش وپنج میں ڈال دیتے ہیں۔ آپ اپنی مرضی سے ڈبل روٹی نہیں کھاسکتے۔ مختلف ناموں اور برانڈ سے ڈبل روٹیاں بنانے والے اشتہاروں کی بھرمار سے آپ کو مخمصوں میں ڈال دیتے ہیں۔ چائے بیچنے والے اپنے اپنے برانڈ کی چائے بیچنے کے لیے پبلسٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے جنون میں آپ کا استعمال کرنے پر اتر آتے ہیں۔ وہ آپ کے بچوں کے ذریعے آپ کا استحصال کرواتے ہیں۔ آپ کو بلیک میل کرواتے ہیں۔ پبلسٹی میں بچوں کو ٹارگٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ پیارے بچو! ہماری چائے کے ڈبوں میں آپ کے لیے پنسل، ربڑ، اسٹیکر اور کوپن ہوتے ہیں۔ عین اسی طرح ہم ووٹ ڈالنے والے ووٹ لینے والے سیاستدانوں کے ٹارگٹ پر ہوتے ہیں، یعنی نشانے پر ہوتے ہیں۔ وہ اپنے دلفریب وعدوں سے ہمیں اس قدر خوش کردیتے ہیں کہ ووٹ دیکر ہم انہیں اپنا حکمران بنادیتے ہیں۔ اور ہم خو دشکار ہوجاتے ہیں۔

درویش نے آخر میں کہا… عزت سے زندہ رہنے، اور عزت سے مرنے کے لیے آپ ہر صورت میں، ہرحال میں ٹارگٹ یعنی ہدف بننے سے انکار کردیں۔ اپنے فیصلے خود کریں۔ اپنی پسند کی ڈبل روٹی کھائیں۔اپنی پسند کے کپڑے پہنیں۔اپنی پسند کی چائے پئیں۔اپنی پسند کے شخص کو ووٹ دیں۔ پبلسٹی کا شکار مت بنیں۔

تازہ ترین