• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی پہلی صدارتی تقریر میں اپنی پالیسی کی ترجیحات کا جو ذکر کیا تھا اس میں امریکا ایران جوہری معاہدہ کو بحال کرنے پر بھی زور دیا تھا۔ معاہدہ جس میں روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی شامل تھے، صدر باراک اوباما کے دور میں ان کے وزیر خارجہ جان کیری سمیت خود جوبائیڈن کا بھی اہم کردار رہا تھا، جب بائیڈن صدر اوباما کے نائب صدر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ صدر جوبائیڈن کی پالیسیاں درحقیقت سابق صدر اوباما کے دور کا احیاء ہے۔ 

امریکا چاہتا ہے کہ ایران کو جوہری معاہدہ کا پابند بنایا جائے جبکہ ایران کی شدید خواہش ہے کہ اس پر عائد تمام پابندیاں ختم یا نرم ہو جائیں۔ تاہم ایران کے صدر حسن روحانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم عملی اقدام چاہتے ہیں محض مذاکرات نہیں۔ اس کے علاوہ ایران ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران معاہدہ کی بحالی میں اب یہ شرط رکھے گا کہ وہ اقوام متحدہ کی عالمی جوہری ایجنسی کو اپنی مخصوص جوہری تنصیات میں محدود پیمانے پر معائنہ کی اجازت دے گا۔

یورپی طاقتوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا ایران جوہری معاہدہ کی پاسداری کرے اور اقوام متحدہ کے ادارے کو معائنہ کی اجازت دے۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر عمل کر رہا ہے اور خود ایران کے سیاسی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ایران نے یورینیم افزودگی کے عمل میں ساٹھ فیصد تک کی صلاحیت حاصل کر لی ہے جبکہ دیگر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یورینیم کی افزودگی کے عمل سمیت جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لئے جن دیگر آلات اور دھاتوں کی ضرورت ہوتی ہے ایران نے وہ حاصل کر لیے ہیں اور ایران کی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت بہت آگے بڑھ چکی ہے، مگر ایرانی حکومت اور ذرائع ان خبروں کی مسلسل تردید کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں یورپی کونسل کی صدر اور جرمنی کی چانسلر نے ایرانی صدر حسن روحانی پر زور دیا کہ ایران جوہری معاہدہ پر عمل کرے اور سفارتی تعطل کو ختم کرے۔ درحقیقت اس تمام مسئلے میں زیادہ قصور اور کوتاہی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے جو ابتداء ہی سے امریکا ایران جوہری معاہدہ کے خلاف تھے۔ سابق صدر ٹرمپ کا مؤقف وہی تھا جو اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کا رہا کہ ایران سے جوہری معاہدہ نہ کیا جائے کیونکہ معاہدہ کے بعد ایران پر عائد بیش تر پابندیوں کو نرم کرنا ہوگا جس سے ایران مزید فائدہ اُٹھائے گا، بہرحال ایران اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے گا۔ سابق صدر اوباما کی انتظامیہ اور دیگر مقتدر حلقوں کی رائے تقریباً یکساں تھی کہ معاہدہ ہوتا ہے تو اس سے کم از کم ایران پر اخلاقی اور سیاسی پریشر تو قائم رہے گا۔ اگر معاہدہ نہیں طے پاتا ہے تو پھر ایران مکمل طور پر اپنی پالیسی پر عمل درآمد کے لئے آزاد ہوگا۔ اس لئے جو بھی ہے اور جیسا بھی ہے جوہری معاہدہ امریکا یورپ اور مشرق وسطیٰ کے لئے مفید ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کے شدید اصرار اور ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے کے واویلا پر جوہری معاہدہ کے خلاف قدم اُٹھانے پر تیار ہوگئے۔ سابق صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے صدر ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ ایران امریکا جوہری معاہدہ کو معطل نہ کرے کیونکہ اگر معاہدہ باقی نہ رہا تو معاملات جنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا یہ معاہدہ ایران کے ساتھ چھ بڑی طاقتوں کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدہ کو اس وقت تک معطل یا منسوخ نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس کے متبادل دُوسرا معاہدہ نہ طے پائے۔

اس نوعیت کے بیانات دیگر یورپی رہنمائوں کی طرف سے بھی سامنے آئے۔ مگر اس مسئلے میں زیادہ کوششیں فرانس کے صدر میکرون کی تھیں خاص طور پر جب وہ صدر ٹرمپ کے دور میں تین روزہ دورے پر واشنگٹن آئے تھے تو وہ اپنے ساتھ ایران کے جوہری معاہدہ کے حوالے سے بہت سی متبادل تجاویز بھی ساتھ لائے تھے اور انہوں نے ہر صورت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوقائل کرنے کی کوششیں کی تھیں تاہم صدر میکرون کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل اور امریکا کو خدشات ہیں تو ایران پر مزید چیک لگائے جا سکتے ہیں۔ 

ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور دیگر ذرائع موجود ہیں انہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مگر صدر ٹرمپ نے ان کی کسی دلیل پر کان نہ دَھرا۔ دُوسری طرف ایران کے صدر حسن روحانی نے ایک بیان میں فرانس کے صدر ایمیونیل میکرون کے بیان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ فرانس کے صدر کو مزید تجاویز دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب ایران کسی بھی تجویز کو نہیں مانے گا اور معاہدہ میں کوئی نئی شق شامل کرے گا۔ 

ایران کے اس دو ٹوک مؤقف کے بعد صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نے مزید شدّت سے ایران کے جوہری معاہدہ کے خلاف بیانات جاری کرنے شروع کر دیئے۔ ماضی میں فرانس اور ایران کے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں۔ ایران امریکی جوہری معاہدہ کے بعد جب امریکا نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کر دی تو ایران کے صدر حسن روحانی نے یورپ کے دورے میں فرانس اور برطانیہ سے بڑے بڑے تجارتی معاہدے طے کئے تھے۔

واضح رہے کہ ایرانی انقلاب کے روحانی رہنما آیت اللہ خمینی اپنی طویل جلاوطنی فرانس میں گزارنے کے بعد جب ایران واپس آئے تھے تو فرانس کے خصوصی طیارے میں تہران پہنچے تھے۔ اس کے علاوہ ایران ایک دور میں فرانس کی نو آبادیات بھی رہا۔ اس حوالے سے فرانس مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کے سیاسی اور سماجی حالات سے بخوبی آگاہ ہے۔ اس لئے فرانس کے صدر میکرون کی تجاویز کی جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے بھی حمایت کی تھی۔

کچھ عرصہ قبل اسرائیل کی خفیہ ایجنسی نے بعض اہم دستاویزات افشا کی تھیں، جن سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایران اپنے بعض خفیہ ٹھکانوں میں یورینیم افزودگی سمیت جوہری ہتھیار تیار کرنے کے ضروری لوازمات تیار کر رہا ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان دستاویزات کے علاوہ ہمارے پاس اور بھی بہت سے شواہد موجود ہیں جس سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لئے متواتر کام کر رہا ہے مگر ایران نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا لیکن مگر اسرائیل کا تاحال امریکا سے مطالبہ ہے کہ ایران سے مذاکرات اور 2015ء کے جوہری معاہدہ کی بحالی کے معاملہ پر نظرثانی کرے کیونکہ ایران کو یہ جوہری معاہدہ موافق آتا ہے کہ پابندیاں نرم ہونے کے بعد وہ زیادہ آسانی سے اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ اسرائیل کے بعض سیاسی حلقوں کی رائے یہ ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی حکومت کے غیرلچکدار رویوں کی وجہ سے اسرائیل اور ایران کے تعلقات بحال نہیں ہو سکے جو شاہ ایران کے دور میں رہے تھے۔ 

ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران عراق جنگ میں ایران کی حمایت کی تھی تا کہ اس بہانے سہی دو طرفہ تعلقات قائم ہو سکیں مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ ایران کی اعلیٰ قیادت کے حالیہ بیانات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو زبردست خطرہ تصوّر کرتا ہے۔ اب حالات تبدیل ہو رہے ،یں۔ عالمی منظرنامہ میں نمایاں تبدیلیاں رُونما ہو رہی ہیں۔ کل کے حریف آج دوست بن رہے ہیں۔ 

اب اسرائیل کو مسلم ممالک میں مراکش، سلطنت عمان، متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور ترکی تسلیم کرتے ہیں۔ دوطرفہ تعلقات بھی قائم ہو رہے ہیں۔ ان مسلم ممالک کے علاوہ ڈیڑھ سو سے زائد ممالک اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم بعض مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے سے اس لئے گریزاں ہیں کہ ان ممالک میں اسرائیل مخالف حلقے خاصے توانا ہیں۔ اب سوال یہ اُٹھ رہا ہے کہ کیا ایران ان حالات میں امریکی صدر جوبائیڈن سے مذاکرات کر کے معاہدہ کو دوبارہ فعال بنا سکتا ہے۔ اس سوال کا جواب یہ سامنے آتا ہے کہ ہاں، مگر ہر دو جانب کچھ ضمنی شرائط بھی اُٹھائی جا رہی ہیں۔ 

مثلاً ایران کہتا ہے کہ پہلے اقتصادی پابندیاں ہٹائی جائیں پھر مذاکرات کر سکتے ہیں مگر مذاکرات میں نئی تجاویز یا معاہدہ میں ترمیم قابل قبول نہیں ہوں گی جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ معاہدہ کی دوبارہ بحالی کے لئے ایران کو یقین دہانی کرانی ہوگی کہ معاہدہ کی شرائط پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا اور معائنہ کاروں پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ اس طرح معاہدہ کی بحالی کے لئے قوی امکانات بھی اور بعض خدشات بھی موجود ہیں۔ ایران درحقیقت اس بات پر زیادہ زور دے رہا ہے کہ معاہدہ کی بحالی کے لئے ایسی کوئی شرط منظور نہیں ہوگی جو علاقائی سیاسی معاملات کے حوالے سے ہو۔ ایران کا اشارہ مسلح تنظیم حزب اللہ اور تنظیم شیعہ ملیشیا کی طرف ہے جو مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک میں موجود ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ صدر جوبائیڈن نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے بھی حال ہی میں شام کے مشرقی علاقے میں ایران کی ایک حمایت یافتہ تنظیم کے جنگجوئوں پر بمبار طیاروں سے حملہ کر کے دو درجن کے قریب رضاکار ہلاک کر دیئے۔

اس امریکی حملے کا جواز امریکی ذرائع یہ پیش کرتے ہیں کہ حال ہی میں اس تنظیم نے عراق میں راکٹوں سے حملہ کر کے امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم امریکا کی طرف سے ایران کو ایک پیغام دیا گیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امریکا کی نئی پالیسی کیا ہو سکتی ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی بحال کرنا چاہتے ہیں اور عالمی معاملات میں امریکا اس کا مقام واپس دلانا چاہتے ہیں۔ 

صدر جوبائیڈن کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں مشرق وسطیٰ اوّلین ترجیحات میں نظر نہیں آتا یہی وجہ ہے کہ امریکا نے یمن میں اپنی پالیسی تبدیل کرلی، سعودی عرب پر انسانی حقوق کی پاسداری کی پالیسی سخت کرلی اور اسرائیل کو بھی ایک حد تک پالیسی تبدیل کرنے پر مائل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ عرب امارات کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کی بڑی ڈیل منسوخ کر دی۔ یہ سب معاملات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا کے نئے محاذ ماضی سے قدرے مخلف ہوں گے۔ اتحادی بھی کچھ نئے اور پرانے ہوں گے۔ 

امریکا نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور بحرِ اوقیانوس سے بھی آگے جا کر محاذ بناتا نظر آتا ہے جس میں بحرہند اور بحرالکاہل زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔ بالخصوص بحیرئہ جنوبی چین میں امریکی بحری فضائی اجتماع اہم ہے۔ براعظم ایشیا کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے معاشی اور دفاعی دونوں حوالوں سے۔ اس موقع پر اس بات کو بھی ملحوظ رکھنا جانا چاہئے کہ روس اور امریکا دونوں ہی باوجود شدید اختلافات کے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلائو اور اضافہ کے حوالے سے سالٹ معاہدہ میں مزید توسیع پر رضامند ہوگئے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین سمیت جرمنی بھی ایران سے جوہری معاہدہ پر مسلسل اصرار کر رہے ہیں کیونکہ یورپ بھی جنگوں سے گھبرا چکا ہے۔