آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’وکٹوریہ مارکیٹ‘ دنیا کا دوسرا قدیم ترین تجارتی مرکز

5ہزار سالہ قدیم تہذیب کی حامل سندھ دھرتی پر قدم قدم پر ایسی انوکھی، نایاب، نادر اور قدیمی چیزیں سامنے آتی ہیں، جنہیں دیکھنے والا حیران ہوجاتا ہے۔ ویسے تو سندھ کی ثقافت کے تمام رنگ انوکھے ہیں، یہاں کے پکوانوں کا بھی کوئی جواب نہیں اور سونے پر سہاگہ سندھ میں صدیوں پرانی عمارتیں موجود ہیں۔ ایسی ہی قدیم عمارتوں میں سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے سنگم پر واقع سکھر شہر میں 1883ء میں تعمیر ہونے والی وکٹوریہ مارکیٹ بھی ہے۔ 

برطانوی عہدیداروں کو ملکہ برطا نیہ’’ الیگزینڈرینا وکٹوریہ‘‘ سے گہری عقیدت تھی اور اس کے اظہار کے لیے انہوں نے دنیا کی تین ممالک میںان کے نام کی مناسبت سےمارکیٹ کی عمارتیں تعمیر کرائیں۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی، آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں کوئن وکٹوریہ مارکیٹ، دوسرے نمبر پر سکھر کی وکٹوریہ مارکیٹ اور تیسرے نمبر پر کراچی کی ایمپریس مارکیٹ ہے۔

میلبورن میں کوئن وکٹوریہ مارکیٹ 1878، سکھر کی وکٹوریہ مارکیٹ اس کے 5سال بعد1883اور 1889میں کراچی میں ایمپریس مارکیٹ تعمیر کی گئی۔ وکٹوریہ مارکیٹ پاکستان کی واحد مارکیٹ ہے، جہاں ایک ہی چھت کے نیچےمتعدد بازارقائم ہیں۔ سبزی مارکیٹ، فروٹ مارکیٹ، مچھلی مارکیٹ، گوشت مارکیٹ، کھجور مارکیٹ، پرندہ مارکیٹ،مٹی کے برتنوں کی مارکیٹ، گھاس مارکیٹ، گڑ منڈی سمیت ایک درجن کے قریب بڑے بازاروں پر مشتمل مارکیٹ میں اشیائے خور ونوش سے لے کر اشیائے ضرورت کی ہر چیز دستیاب ہے۔ اس مارکیٹ کا نام تو وکٹوریہ مارکیٹ ہے لیکن اگر اسے سندھ کی کوئنز مارکیٹ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ پورے صوبے میں کوئی بھی ایسی مارکیٹ نہیں۔ اس میں نہ صر ف انواع و اقسام کی دکانیںموجود ہیں بلکہ اس کے اطراف میں اہم ترین کاروباری مراکزبھی قائم ہیں۔

کسی شخص کو اگر اپنے گھر والوں کے لئے کھانےپینے سمیت روز مرہ استعمال میں آنے والی اشیاء کی ضرورت ہو تو وہ وکٹوریہ مارکیٹ کا ہی رخ کرتا ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ اشیائے خورو نوش سے لے کر اشیائے ضروریہ کی تمام چیزیںاسی مارکیٹ سے ملیں گی۔ گھر کی سجاوٹ ہو، کھانے پینے کی اشیاء ، پھل فروٹ ، مچھلی، مرغی، بکرے کا گوشت ، عمدہ کھجوریں یا پھر اوڑھنے بچھونے کے سامان سمیت تمام چیزیں،اسی ایک بازار میں مل جاتی ہیں۔ مختلف اقسام کے پرندے ، مٹی کے برتنوں کی خریداری کرنا ہو، وہ بھی انگریز سرکار کے تعمیراتی شاہ کار، وکٹوریہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

اس مارکیٹ میں ایک ہزار سے زائد چھوٹی بڑی دکانیں موجود ہیں، جہاں پر ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں ۔ مارکیٹ میں ہونےوالی کاروباری سرگرمیوں سے ان کاروزگار وابستہ ہے۔ صبح سے لے کر رات گئے تک، یہاں خریداروں کا ہجوم رہتا ہے۔ سکھر شہر کے دل، گھنٹہ گھر کے قریب قائم وکٹوریہ مارکیٹ میں گڑ، سبزی، فروٹ، مچھلی، مرغی، بکرے کا گوشت، کھجور، مٹی کے برتن،نئے و استعمال شدہ ملبوسات، پرندوں کی دکانیں موجود ہیں جبکہ مارکیٹ کے بیرونی حصے میںچاروں طرف اجناس، مرچ مصالحہ،کپڑے، مشروبات، جنرل اسٹور، منیاری کا سامان، پان، چھالیہ، ڈرائی فروٹس، مصنوعی پھول، گھروں کی سجاوٹ کا سامان، کھانے پینے کے ہوٹلز قائم ہیں۔

یوں تو یہ مارکیٹ گوناگوں خوبیوں کا مجموعہ ہے ،جوایک سے بڑھ کر ایک ہیں، مگر اس کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ اس کےمتعدد دروازے ہیں جو کہ ایک، دو، تین یا چار نہیں بلکہ پورے سات ہیں۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسی مارکیٹ ہوگی جس کےاتنے زیادہ درازے ہوں اور یہ تمام خریداروں کے لیے کھلے رہتے ہیںاور شہر کے اہم ترین بازاروں میں نکلتے ہیں۔ایک طرف سے اناج بازار، تمباکو بازار، پان منڈی، گھنٹہ گھر چوک، بیراج روڈ، ڈھک روڈ سمیت دیگر کاروباری مراکز کی طرف راستے نکلتے ہیں۔ یہاںیومیہ کروڑوں روپے کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

وکٹوریہ مارکیٹ کے ساتھ ایک مسافر خانہ بھی قائم ہے جو کہ بیرون شہر سے آنے والے افراد کے قیام کے لیے مخصوص ہے۔ کوئی ایسا شخص جویہاں خریداری کے لیے آیا ہو اور رات زیادہ ہونے کی وجہ سے اپنے شہرواپس نہیں جاسکتا ،وہاں قیام کرتا ہے۔اس میںرہائش اور سہولتوںکی فراہمی کی مد میںمناسب کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ وکٹوریہ مارکیٹ میں کام کرنے والوں کے ساتھ ساتھ خریداری کے لئے آنے والے افراد کے لیے مسجد بھی بنائی گئی ہے۔ بیرون شہر، خاص طور سے کراچی، حیدرآباد، لاہور، اسلام آباد سے آنے والے افراد کو سکھر میں رہائش پذیر ان کے اعزاء دیگرتفریح گاہوں کی طرح اس تاریخی بازار کی سیر بھی کراتے ہیں۔

یہاں گائے کے گوشت کی دکانیں ہیں لیکن بکرے کے گوشت کی فروخت کے لیے علیحدہ مارکیٹ موجود ہے ۔مٹن مارکیٹ کے ایک حصے میںمذبح خانہ بنایا گیا ہےجہاں روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں بکرے ذبح کرکے گوشت فروخت کیا جاتا ہے۔ مچھلی مارکیٹ بھی ہے جہاں دریائے سندھ سے پکڑی جانے والی تازہ مچھلیاں فروخت ہوتی ہیں۔

مچھلی فروشوں کو سکھر کے باسیوں کی پسند و ناپسند کا علم ہے اس لیے ان کے پاس ہمہ اقسام کی محھلیاں ہوتی ہیں تاکہ خریداراپنی پسند کے مطابق مچھلی خرید سکیں۔یہاں فش فارمز میںافزائش کی جانے والی مچھلیاں بھی فروخت ہوتی ہیں۔اس بازار میںنایاب نسل کے پرندے بھی فروخت ہوتے ہیں، متعدد دکانوں میں خوبصورت طوطے، چڑیا، کبوتر، مرغیاں، مرغے، چوزے، کوئل، فاختہ سمیت دیگر نایاب نسل کے پرندے بھی دستیاب ہیں۔

مٹی کےبرتن پیالے، گلاس، مٹکا، ہانڈی ودیگر سامان بھی فروخت ہوتا ہے۔ وکٹوریہ مارکیٹ مکمل طور پر ڈھکی ہوئی ہے، لوہے کی بڑی بڑی چادروں سے مارکیٹ کو ڈھانپا گیا ہے تاکہ تیز دھوپ کی صورت میں دکانداروں کا سامان خراب نہ ہواور خریداری کے لئے آنے والے لوگ بھی گرمی اور دھوپ کی تپش سے محفوظ رہیں۔ ٹین کی چادروں سے بارش کی صورت میں بھی دکانوں کو تحفظ ملتا ہے اور ان میں موجود سامان خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔

مارکیٹ کے اطراف میں واقع ہوٹلوں، ریسٹورنٹ پر صبح کے وقت بے پناہ رش ہوتا ہے کیونکہ شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ وکٹوریہ مارکیٹ کے اطراف میں واقع ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس سے ناشتہ خریدنے کے لئے آتے ہیں، لسی، چھولے، پراٹھے،فرائی مغز و دیگر لذیذ اور ذائقے دار پکوان دستیاب ہوتے ہیں۔ 

سکھر شہر کی تمام مارکٹیں جمعہ کے دن بند رہتی ہیں، مگر یہ واحد مارکیٹ ہے جہاں جمعہ کے دن بھی کاروباری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریب ہو، گھر کو سجانا ہو، گھر والوں کے لئے کھانے و پینے سمیت روز مرہ استعمال کی اشیاء کی خریداری ہو، شہریوں کی جانب سے خریداری کے لئے وکٹوریہ مارکیٹ کا رخ کیا جاتا ہے کیونکہ وکٹوریہ مارکیٹ میں پہنچ کر ایک ہی جگہ سے تمام اقسام کی اشیاء باآسانی خریدی جاسکتی ہیں۔ اگر آپ کبھی سکھر کی سیر یا اپنے عزیزوں سے ملنے آئیں تو یہ تاریخی مارکیٹ دیکھنا نہ بھولیں۔