ملکہ بمبئی، ’’لیونورا ریمنڈ ‘‘
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’10 جنوری 2021 ء کو میں نے زندگی کی سینچری مکمل کرلی ۔11 جنوری کو 101ویں سال میں قدم رکھ لیا۔‘‘ یہ خیالات ہیں ’’لیونورا ریمنڈ ‘‘کا جن کا تعلق بمبئی (بھارت ) سے ہے۔ گزشتہ دنوں ان کی کہانی سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے تیزی سے وائرل ہو گئی ۔جتنی برق رفتاری سے ’’لیونوراریمنڈ ‘‘ کو مبارک باد کے پیغامات موصول ہوئے اُس سے کہیں زیادہ ان کے بارے میں جاننے کی جستجو ہوئی ۔جلد ہی ’’لیو نورا ‘‘ نے اپنے بارے میں بتادیا ۔

ان کی زندگی کی بابت جو کچھ منظر عام پر آیا ،وہ ہم اپنے قارئین کی نذر کررہے ہیں ۔لیو نورا نے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے ماضی کے کئی اوراق پلٹے زندگی کی تلخ وشیریں یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتا یا کہ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں گیارہ سال کی تھی اور 1930ء کا سال تھا ،جسے معاشی کساد بازاری کا سال کہا گیا تھا۔ ہمارے مالی حالات بھی اتنے خراب ہوگئے تھے کہ ہم پیسے پیسے کے محتاج ہوگئے تھے ،ایسے میں تعلیمی سلسلہ کیسے جاری رہ سکتا تھا ،سو یہ سلسلہ ختم ہوگیا اور زندگی کی یونی ورسٹی …

اپنی زندگی کی یادوں کو زندہ کرتے ہوئے ان کا یہ کہنا تھا کہ اُس وقت میری عمر گیارہ سال تھی۔ مجبوراً تعلیم ترک کرنی پڑی اور پھر زندگی کی یونی ورسٹی سے عملی تعلیم کا آغاز انتہائی کم عمری میں کر دیا تھا۔ یہ بھی بتا دوں آٹھ ماہ تک ایک نائی سے ہیئر ڈریسنگ کی تعلیم حاصل کی ۔ چودہ سال کی عمر میں والدہ سے سیلون کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوںنے میری اس خواہش کو اپنے زیورات بیچ کر پورا کیا۔سیلون کھلوا کر دے دیا ، جس کا نام انہوں نے RAY رکھا ۔

میرے نام کا ایک حصہ ہے ۔ اریب قریب کے لوگوں نے سوال اٹھائے کہا، بچی کو کس کام پر لگا دیا لوگوں کے سوال کا والدہ نے مختصر جواب دے کر سب کے منہ بند کردئیے۔ میری بیٹی ایک ’’روشنی‘‘ ہے اور مجھے اس پر مکمل اعتماد اور یقین ہے ۔ ماں کے اسی ہی یقین کی بدولت وہ مہینے میں 150 سے 200 روپے تک کما لیتی تھیں ۔یہ غالباً50 کی دہائی کا ذکر ہے ۔اب میرے رشتے آنے لگے ۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ رشتے کے طلب گار وں کی ایک لائن لگی ہوئی تھی ،مگر میں اپنی والدہ کو چھوڑ کر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں اس وجہ سے ہر رشتے پر انکار ہی ہوتا تھا اپنی ماں کے ساتھ تعلق کے حوالے سے ان کا یہ کہنا تھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کا سہارا تھے اور ہمیں کسی دوسرے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی تھی ۔ ہم ساتھ کھانا بناتے ، ساتھ واک کرتے اور خوش رہتے تھے ۔ 1970میں والدہ کا انتقال ہوگیا، جس کےبعد وہ تنہا رہ گئیں لیکن اپنا سیلون چلانے کا کام جاری رکھا۔

60 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا اور سیلون فروخت کر دیا ،مگر یہ ریٹائرمنٹ صرف سیلون میں سے تھی ،اس کے بعد میں نے شیئر مارکیٹ کے متعلق پڑھنا شروع کیا اور بانڈ زکی خرید و فروخت شروع کر دی، جس کے سبب ذرائع آمدن جاری رہے ۔ اب زندگی کے ایام تنہا گزار رہی ہوں لیکن جواب تھا کسی قسم کی بوریت محسوس نہیں کرتی ہیں بلکہ کمپنی بہت انجوائے کرتی ہوں لیونوراریمنڈ اب بھی خود کو 16 سالہ لڑکی کی طرح چاک و چوبند سمجھتی ہیں اور اپنے تمام کام اپنے ہاتھوں سے کرتی ہیں۔ فارغ وقت میں کمپیوٹر پر گیم کھیلتی ہیں اور خوش رہتی ہیں۔

جنوری2021 کی دس تاریخ کو ان کے دوستوں نے ان کی سالگرہ کی سنچری منائی ،جس میں انہوں نے خوب انجوائے کیا۔ سالگرہ کی تقریب رات گئے تک جاری رہی ان کی سالگرہ کے حوالے سے ایک یادگار پہلو یہ بھی تھا کہ ان کو اس دن ملکہ الزبتھ نے بھی کارڈ بھیج کر وش کیا، جس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں نے سنچری بنانے میں ملکہ الزبتھ کو شکست دے دی اور ان سے پہلے سو سال مکمل کر لیے۔ کچھ لوگوں نے تو ملکہ الزبتھ کے مقابلے پر ان کو ملکہ بمبئی کے خطاب سے بھی نواز دیا۔