آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ ایک اہم سوال ہے، لیکن اس پر غور کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ کم سے کم ایک ڈیڑھ بات تو بالکل صاف لفظوں میں سمجھ لی جائے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ایسا کوئی بھی خیال یا سوال اگر آج کسی کے ذہن میں آرہا ہے تو اُسے اور اس کے ساتھ دوسروں کو بھی جان لینا چاہیے کہ یہ کوئی طبع زاد یا بالکل نیا اور اچھوتا خیال نہیں ہے۔ گزشتہ چار دہائیوـں میں پاکستان ہندوستان دونوں جگہ اس کی گونج کئی بار سنی گئی ہے۔ آلِ احمد سرور، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر وزیر آغا، پروفیسر اسلوب احمد انصاری اور فضیل جعفری اپنے اپنے انداز سے اس ضمن میں بات کرچکے ہیں۔ 

آلِ احمد سرور طرزِ احساس کی تبدیلی کے ذریعے نئے ادب کی تخلیق کے خواہاں تھے۔ وزیر آغا نظم کی کروٹوں میں اس کا سراغ پاتے اور امتزاجی تنقید سے اس کے لیے راہ ہموار کرتے رہے۔ اسلوب احمد انصاری فکشن اور فضیل جعفری نئی دنیا کے حقائق کے ذریعے نئے ادب کا رستہ دیکھتے تھے۔ البتہ جمیل جالبی نے اس ضمن میں سب سے زیادہ کام کیا۔ انھوں نے اس دور میں تخلیق کیے جانے والے ادب بالخصوص غزل، نظم اور افسانے سب کے ژولیدہ اور پژمردہ ہونے کا اعلان کیا۔ نئی تنقید کے خطوط متعین کیے اور کہا کہ وہ اس سے اسی طرح کام لینے کے خواہاں ہیں جیسے سائنس سے لیا جاتا ہے۔ انھوں نے اس خیال کا بالکل کھلے بندوں اظہار کیا کہ یہ تنقید نئے شعور کو جنم دینے اور نئی ادبی تحریک کو ابھارنے میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔ مختصر یہ کہ نئی ادبی تحریک کی ضرورت ہمارے یہاں کم سے کم پچھلے چار عشروں سے محسوس کی جارہی ہے۔

دوسرے یہ کہ تہذیب، سماج اور ادب میں تبدیلی کی ہوائیں تو وقتاً فوقتاً چلتی رہتی ہیں اور ان ہواؤں کے اثرات بھی وقت کے عمل میں نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں، لیکن جسے انقلابی درجے کی تبدیلی کہا جاتا ہے، جس کے بعد منظرنامہ بدل جاتا ہے اور نئے رجحانات و امکانات ایک تحریک کی صورت گری کرتے ہیں، وہ چیزے دگر ہوتی ہے۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ انقلابی تغیر یا نئی تحریک کا یہ تناظر کسی فرد کی ذاتی خواہش و کوشش اور اعلانات سے قائم ہوتا ہے اور نہ ہی رونما۔ اس کے عقب میں تو بہ یک وقت متعدد عوامل اور محرکات کارفرما ہوتے ہیں۔ 

ان میں کچھ خارجی ہوتے ہیں اور کچھ داخلی۔ ان میں سب سے قوی محرک اجتماعی روح کا وہ مطالبہ ہوتا ہے جو ایک طرف شعورِ عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے اور دوسری طرف اپنی روایت کے زندہ عناصر سے مملو۔ کوئی بھی تحریک خواہ وہ تہذیبی ہو یا سماجی، فکری ہو یا ادبی پہلے اجتماعی باطن میں اپنی ضرورت اور وقعت کا احساس پیدا کرتی ہے، بعد ازاں ظاہر میں اس کے نقوش اور اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کسی سماج یا اس کے کسی تہذیبی مظہر، مثلاً ادب میں کوئی نئی تحریک پیدا کس وقت ہوتی ہے؟ یہ سوال خاصی تفصیل چاہتا ہے، لیکن مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں جب اُس کی روح یہ محسوس کرتی ہے کہ مروّجہ اسالیب و افکار یہاں تک کہ الفاظ اور اُن کے رائج معانی، سب کے سب اُس کی قوت کو سہارنے اور ابھارنے سے قاصر ہیں، اُس کی کیفیات کی تفہیم و ابلاغ سے عاری ہیں اور اُس کے مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام ہیں تو بس پھر اجتماعی لاشعور میں وہ عمل شروع ہوتا ہے جو کسی تحریک کو جنم دیتا ہے۔ اِس کی مثال بالکل اُس کونپل کی سی ہوتی ہے جو چٹان کا سینہ چیر کر رونما ہوتی ہے۔ جب تک وہ ظاہر نہیں ہوجاتی، اُس وقت تک دیکھنے والوں کو یہ خیال بھی نہیں گزرتا کہ چٹان میں کسی جگہ شگاف پڑ سکتا ہے اور وہاں سے ایک نازک سی کونپل سامنے آسکتی ہے۔ 

اِس عمل میں کئی ایک فیکٹرز کردار ادا کرتے اور مل کر اُس قوت کو متحرک کرتے ہیں جو نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ ملکوں کی سماجی و تہذیبی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اِس قوت کا ایک نام نژادِ نو بھی ہے۔ نئی نسل کے متحرک اور زرخیز لوگ اپنے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور ادبی مظاہر اور اُن کے سیاق میں پائے جانے والے بیانیہ سے ناآسودگی اور الجھن محسوس کرتے ہوئے اس کے خلاف بغاوت پر مائل ہوتے ہیں۔ وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن موجود نظام، رویے اور صورتِ حال انھیں اس کا موقع دیتی نظر نہیں آتی۔

تب اپنے اظہار کے لیے اور اپنا لوہا منوانے کے لیے انھیں جو کچھ رائج ہے، اس سے ٹکرانا اور اس کی نفی کرنا پڑتی ہے۔ نفی کا یہ عمل صرف اسی صورت میں بعد ازاں اثبات کی بنیاد بن سکتا ہے، یعنی ایک نئی تحریک پیدا کرسکتا جب نژادِ نو کے پاس نہ صرف تخلیقی قوت اور کہنے کے لیے کچھ نیا ہو، بلکہ اُس نے بغاوت اور انہدام سے پہلے پورے شعور کے ساتھ اپنی روایت کے زندہ عناصر کو بھی اپنے اندر جذب کرلیا ہو۔

ہمارا عصری ادبی و سماجی منظرنامہ کیا نقشہ دکھا رہا ہے؟ کیا وہ حالات دکھائی دے رہے ہیں جو ایک نئی تحریک کے لیے سامان مہیا کرتے اور راستہ بناتے ہیں؟ گزشتہ دو عشروں میں نژادِ نو کی ادب میں جو دو نئی صفیں شامل ہوئی ہیں، کیا وہ اس تخلیقی قوت کی حامل ہیں کہ روایت کے دھارے کو نیا رخ دے سکیں؟ کیا ہماری اجتماعی روح کسی نئے شعور کی متقاضی ہے؟ کیا تہذیب و سماج کے خارجی عناصر ایسے کسی مطالبے کے آثار ظاہر کررہے ہیں؟

کیا وقت کی شاہراہ پر فکر و احساس کے کسی نئے کارواں کی چاپ سنائی دے رہی ہیں؟ کیا ادب اور سماج میں ہمارے یہاں اس وقت وہ رشتہ ہے جو کسی نئی سمت میں بڑھنے کے لیے درکار قوت فراہم کرسکے؟ یہ اور ایسے ہی بعض دوسرے سوالوں پر ہمیں بالالتزام اور تفصیلاً غور کے بعد کوئی حتمی نتیجہ حاصل ہوسکتا ہے۔ تاہم اجمالاً ان سب سوالوں کا فی الجملہ جواب ہے، نہیں۔ ہر سوال کے سیاق میں اس ’نہیں‘ کے اسباب بے شک الگ ہوں گے، لیکن جواب ہمیں یہی ملے گا۔

یہ تو نہیں کہا جانا چاہیے کہ ہمارے یہاں ادب تخلیق نہیں ہورہا۔ یقینا ہورہا ہے اور اُس میں اچھا اور معیاری ادب بھی بہرحال نظر آتا ہے، لیکن اس کا تناسب کچھ بہت اطمینان بخش نہیں ہے۔ پھر یہ بھی کہ ہمارے یہاں سماج اور ادب کا رشتہ اب وہ نہیں ہے جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ ٹھیک ہے، لوگ اب بھی پڑھتے ہیں، ادب پر سوچتے اور بات کرتے ہیں، مگر اب ادب اور ادیب سماجی منظرنامے کے مرکز میں نہیں ہیں۔ وہ حاشیے پر آچکے ہیں۔ خیال رہے، یہ صورتِ حال صرف ہمارے یہاں نہیں ہے، بلکہ اس وقت یہ ایک گلوبل فینومینا ہے۔ اب رہ گئی بات نژادِ نو کی تو آپ اور ہم سب ہی مل کر یہ دیکھ رہے ہیں کہ اُس میں غالب اکثریت ادب سے زیادہ ادب کی سماجیات پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ 

اس لیے کہ اُن کے نزدیک ادب مقصود بالذات نہیں ہے، جیسے کبھی ہماری روایت میں رہا ہے، بلکہ وہ کچھ اور مقاصد کی تکمیل اور دوسرے اہداف کے حصول کا ذریعہ ہے۔ واضح رہے کہ یہ رویہ بھی محض مقامی نہیں، بلکہ عالمی تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اب جب کہ حقائق اور احوال نامہ یہ ہے تو ادب میں اس وقت یا مستقبل قریب میں کسی نئی تحریک کے رونما ہونے کا احساس سراسر خیالِ خام کے سوا بھلا اور کیا ہوسکتا ہے۔

اپنی قومی صورتِ حال دیکھیے یا عالمی سطح پر نگاہ کیجیے، دونوں طرف منظر یہی بتاتا ہے کہ تہذیب و ادب، بلکہ جملہ ثقافتی اوضاع و مظاہر پر اس وقت پت جھڑ کا موسم ہے۔ خالی پن اور سناٹا بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس موسم میں برگ و بار نہیں آتے۔ چہچہے سنائی دیتے ہیں اور نہ ہی شگوفے کہیں پھوٹتے ہیں۔ یہ وقت کا عمل ہے اور فطرت کے اصول کے عین مطابق ہورہا ہے۔ ایسے ہی حال کا احساس بیان کرتے ہوئے میر صاحب نے کہا تھا:

صد موسمِ گل ہم کو تہِ بال ہی گزرے

مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا

اس موسم میں وقت کی منڈیر پر امید کے چراغ اور سینے کی محراب میں جذبے کی لو کو زندہ رکھنا ہی اصل کام ہے۔ معاشرے میں ادب پڑھنے اور تخلیق کرنے والے موجود ہیں تو پھر آگے چل کر اپنے وقت پر اس میں نئی تحریک کے راستے بھی خود بہ خود پیدا ہوجائیں گے۔ فی الحال تو ادب کو اُس کی حرارت کے ساتھ باقی رکھنا ہے۔ اس کی ذمے داری ہم پر، یعنی ڈھلتی عمر کے لوگوں پر سب سے بڑھ کر عائد ہوتی ہے۔ 

ہمیں نژادِ نو کے اندر اپنی روایت کے زندہ عناصر کا شعور پیدا کرنا ہے، ان کے تحفظ کی ضرورت کا احساس دلانا ہے اور نئے لوگوں کو جوڑنا اور مرکزی دھارے میں لانا ہے۔ اسی طرح جیسے اگلے وقت میں ہمارے بڑوں نے یہ کام کیے تھے۔ اس لیے کہ فی الحال یہی ہماری تہذیبی بقا کا راستہ ہے۔