• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن : نیکو اصغری

امریکی گروپوں نے سٹی گروپ کے 900 ملین ڈالر کی ادائیگی میں ناکامی کے تناظر میں حادثاتی فنڈ کی منتقلی سےخود کو بچانے کے لئے قرضوں کی دستاویزات میں قانونی شارئط شامل کرنا شروع کردیں۔

یہ نئی شرائط اس وقت سامنے آئیں جب گزشتہ سال سٹی نے کاسمیٹکس گروپ ریوالون کے قرض دہندگان کو اپنی 900 ملین ڈالر رقم کی فراہمی کی تھی اور بعد میں فنڈز کی بازیابی کے لئے قانونی جنگ ہارگیا تھا۔اس غلطی کے نتیجے میں بینک نے چوتھی سہ ماہی کے منافع میں 323 ملین ڈالر کی کمی کردی۔

اب سٹی سمیت وال اسٹریٹ بینک قرض کی دستاویزات میں حادثاتی ادائیگی کے معاہدوں کی شکل میں قانونی طور پر پابند شقیں شامل کرکے خود کو اس طرح کی صورتحال سے محفوظ کررہے ہیں، جو بینکوں کو قرض دہندگان کو غلطی سے بھیجی گئی کسی بھی رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔

کریڈٹ تجزیہ کمپنی نائن ایف آئی کی جانب سے قرض کی دستاویز کے تجزیہ کے مطابق عمارت سازی کا سامان تیار کرنے والے ایگل میٹریلز، پالتو جانوروں کی سپلائی چین پیٹکو اور صنعتی سازوسامان بنانے والی کمپنی مییسا لیبارٹریز نے اپنے امریکی قرض کے معاہدوں میں ایک قسم کی ’’غلط ادائیگی‘‘ کی اصطلاح شامل کی ہے۔

سٹی گروپ کی غلطی کا حوالہ دیتے ہوئے کریڈٹ ریسرچ کمپنی کوونینٹ ریویو کےمعاہدوں کے سینئر تجزیہ کار جسٹن فورلنزا نے کہا کہ یہ ایسی غیرمعمولی بات ہے کہ امریکا کی قرضوں کی منڈی میں طویل عرصے سے اتنے بڑے پیمانے پرایسا نہیں ہوا۔تمام منتظمین اس منظرنامے کو آگے بڑھنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔

معاہدے عام طور پر بینکوں کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیتے ہیں کہ آیا غلطی سے ادائیگی کی گئی اور اس ادائیگی کی واپسی کے ساتھ نیز فنڈز کی موصولی کی تاریخ سے سود کا مطالبہ کرنا۔بینک عام طور پر انتظامی خدمات پیش کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ قرضوں کے معاہدوں سے متعلق کوپن اور دیگر بیک آفس کاموں کی ادائیگی میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔

جے پی مورگن ایگل میٹریلز اور مییسا لیبارٹریز کے لیڈ منتظم تھا جبکہ سٹی نے پیٹکو کے معاہدے کی قیادت کی۔ دونوں بینکوں نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

نائن فن کے چیف ایگزیکٹو اسٹیون ہنٹر کے مطابق حادثاتی ادائیگی سے متعلق تحفظ اب تک صرف امریکی دستاویزات میں دیکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ممکن ہے یہ نیویارک کے قانون کی ایک چالاکی کے سبب ہو جس نے ریولون کے ہیج فنڈ سرمایہ کاروں کو حادثاتی منتقلی برقرار رکھنے کی اجازت دی۔

اس مقدمے کے جج نے کہا کہ وصول کنندہ غلطی سے منتقل ہونے والے فنڈز رکھ سکتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ غلطی ہے اور بھیجنے والے کو انہوں نے دھوکہ نہیں دیا۔

قانونی فرم فریش فیلڈرز کے کیپٹل مارکیٹس کے شراکت دار کائل لاکن نے کہا کہ انہیں مزید معاہدوں میں اس طرح کی شرائط دیکھنے کی بالکل امید ہے، جیسا کہ اس نےحادثاتی ادائیگیوں کے چھوٹے لیکن ممکنہ نقصان کے خطرات کو ختم کردیا۔

کائل لاکن نے مزید کہا کہ معاہدوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر بانڈ یا قرض پر ساہوکار نے غلطی سے منتقل ہونے والی رقم کو واپس کرنے سے انکار کردیا تو کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاروں کے لئے فلیش پوائنٹ ہوگا، مجھے یقین نہیں ہے کہ آیا قرض کے سرمایہ کار قبول کریں گے کہ اگر وہ رقم واپس نہیں کرتے ہیں تو وہ نادہندہ بن رہے ہیں۔

فورلینزا کے مطابق سال 2021 کے وائل سے کم از کم 10 معاہدوں میں حادثاتی ادائیگی کی شرائط شامل ہیں، جنہیں توقع ہے کہ مزید معاہدے بھی اس کی پیروی کریں گے۔

یہ شاید کافی معیاری بننے جارہا ہے، اس کو شامل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید