گیلانی کی انٹرا کورٹ اپیل، چیئرمین سینیٹ و دیگر کو نوٹس جاری
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گیلانی کی انٹرا کورٹ اپیل، چیئرمین سینیٹ و دیگر کو نوٹس جاری


اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی کی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ، وفاق اور سیکریٹری سینیٹ کو نوٹس جاری کر دیئے۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سنگل بینچ نے ہماری درخواست دو وجوہات کی بناء پر مسترد کر دی۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخابات الیکشن ایکٹ کے تحت نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کے تحت ہوتے ہیں،سید مظفر حسین شاہ کو صدرِ پاکستان نے پریزائیڈنگ افسر مقرر کیا تھا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ خانے کے اندر کہیں بھی ٹھپہ لگایا جا سکتا ہے، پریزائیڈنگ افسر نے بعد میں 7 ووٹ مسترد کیئے کہ ٹھپہ نام پر لگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سیکریٹری سینیٹ کے پاس گئے کہ ووٹ غلط طور پر مسترد کیئے گئے، صادق سنجرانی کو 48 ووٹ ملے جبکہ یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے، یوسف رضا گیلانی کے 7 ووٹ مسترد کر دیئے گئے۔


جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا سنگل بنچ نے کیس کے میرٹ پر کوئی دلائل نہیں سنے؟

فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ جی! میرٹ پر دلائل نہیں سنے گئے بلکہ کیس قابلِ سماعت ہونے پر دلائل سنے گئے۔

چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں 7 ووٹ مسترد کرنے کے خلاف یوسف رضا گیلانی کی انٹراکورٹ اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین سینیٹ، وفاق اور سیکریٹری سینیٹ کو نوٹس جاری کر دیا۔

قومی خبریں سے مزید