عالمی امن کا خواب، امریکن ڈیموکریٹس کا امتحان
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناچیز کی لگی بندھی رائے ہے کہ ’’بین الاقوامی تعلقات کی سائنس میں، عالمی و علاقائی سیاست میں امریکی کردار اور اس (امریکی) کی داخلی سیاست کی تفریق کو مکمل نہ سمجھنے والے کو ’’ورلڈ پیس اینڈ سیکورٹی اسکالر‘‘ تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ عالمی اور خطوں کی سیاست میں ملکوں کے امن و سلامتی کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک کی نظر امریکی انتخابی نتائج پر اتنی ہی لگی رہتی ہے، جتنی انہیں (ہر ملک کو) عالمی اور خطے کے امن، خصوصاً اپنی سلامتی کی فکر ہوتی ہے۔

قارئین کرام!غور فرمائیں کہ چالیس سالہ عالمی جنگ کا حتمی اور منطقی انجام سوویت ایمپائر اور دنیا میں روسی کشور کشائی کے دبدبے کے خاتمے کی شکل میں نکلا۔ اس کا دوسرا بڑا نتیجہ امریکی تاریخ کا یہ سنہری موقع تھا کہ وہ (واشنگٹن) دنیا بھر کا ممکن حد تک قابل قبول تنہا لیڈر بن جائے۔ یہاں ’’قابل قبول‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جسے دنیا بھر کی حکومتیں اور عالمی معاشرہ ذہن و قلب سے برتر اور حقیقی عالمی غیر متنازعہ اور تنہا (دنیاوی،سیاسی ) طاقت تسلیم کرلے۔ اس کے لئے امریکہ کو اپنی ’’امریکی‘‘ عینک اتار کر خود کو ایک مکمل ذمے دار اور منصف عالمی طاقت ثابت کرنا تھا ۔ اس کا بنیادی تقاضہ تھا کہ وہ ہر خطے میں اپنے جاندار اور سرگرم حلیفوں کے تعاون و اشتراک سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل عملداری اور اس عالمی تنظیم کے فیصلوں پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹیں ختم کرتا۔ یوں آج عالمی اور علاقائی امن کے لئے دیرینہ مستقل خطرات امن و آشتی میں تبدیل ہو کر انسانیت کی حقیقی جلا کا ذریعہ بن کر دنیا کو امن و آشتی کا حقیقی گہوارہ بنا دیتے۔ اب آج کی سلگتی بھڑکتی دنیا میں تو یہ سب خواب معلوم ہوتا ہے، لیکن وہ جو تعبیر نکلنے کے تمام تر مواقع کے باوجود چکنا چورہوگیا۔ وسیع پیمانے پر تحقیق کی جائے تو یہ تحقیقی مفروضہ قدرتی علوم کے تحقیقی نتائج کی حد تک درست ثابت ہوگا کہ امریکہ عالمی امن و سلامتی کا عظیم اور یقینی موقع گنوا بیٹھا کہ اس وقت جب سوویت یونین کےخاتمے پر امریکہ اور دنیا کو یہ عظیم موقع نصیب ہوا، امریکی ری پبلکن حکمرانوں اور ان کی رہنمائی کرنے والےتھنک ٹینکس پر ’’فکر امن عالم‘‘ کے برعکس امریکی فتح اورامریکہ کو دنیا کا ناخدا بنانے کا غلبہ ہوگیا۔ یہ امریکی ری پبلکنز کی کلاسیکل سوچ و اپروچ کا عکاس تھا، اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ اسی اپروچ کو اختیار کرکے ری پبلکن ریگن ایڈمنسٹریشن نے جمی کارٹر کے مقابلے میں لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل کرکے اقتدار میں آتے ہی افغانستان پر سوویت جارحیت ختم کرنے کے لئے جارحانہ انداز میں فوکس کیا، جس میں اس کا پہلا سرگرم اور تادم فاتح پارٹنر پاکستان بنا۔ اس سے قبل ڈیموکریٹس کی اختتام پذیر کارٹر ایڈمنسٹریشن کی ’’عدم مداخلت‘‘ کی پالیسی کا فائدہ اٹھا کر ایرانی انقلابی، مشرق وسطیٰ میں سب سے اہم امریکی حلیف (ایران) میں اسلامی انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ فالو اپ میں افغانستان کی امریکہ نواز بنتی دائود حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں افغان کمیونسٹوں کا ’’انقلاب ثور‘‘ برپا کردیا گیا تھا۔ امریکی اثر و رسوخ خلیج فارس میں غرق ہو چکا تھا۔ تہران میں امریکی سفارتخانے کا پورا عملہ ہی یرغمال بناکر انقلابی امریکہ سے اپنی شرائط منوا رہے تھے۔ یہاں تک تجزیے ہو رہے تھے کہ اگر کارٹر ایڈمنسٹریشن ایران کی جانب روایتی امریکی پالیسی ختم نہ کرتی تو شاہ ایران کی مزاحمتی طاقت انقلابیوں کے مقابل ہوتی اور جتنی جلدی اور زیادہ امریکی اثر خطے سے ختم ہوا، وہ ایسے نہ ہوتا اور اس کی کوئی اور ہی شکل بنتی۔ اس سب کو بہت حد تک ریگن ایڈمنسٹریشن نے افغانستان سے سوویت انخلا ممکن بنانے میں کامیابی سے کمتر کیا، ساتھ ہی سوویت یونین کے خاتمے کی عظیم فتح حاصل کی۔ پوسٹ کولڈوار پیریڈ میں فتح کے نشے میں چور امریکی ری پبلکنز ڈی ٹریک ہوگئے اور عالمی امن و سلامتی کے تقاضوں اور سازگار حالات کے برعکس، اپنے ہی عالمی نظام (نیو ورلڈ آرڈر) کو منوانے اور چلانے کے چکر میں پڑ گئے۔ وہ عالم اسلام جو ایٹ لارج جہاد افغانستان میں سرگرم امریکی پارٹنر بنا، اس کے چند حکومت مخالف گروپس کو اپنے لئے بڑا خطرہ سمجھ کر یا سیاسی طور پر بنا کر ایک سے بڑھ کر ایک غلط پالیسی اور ناقابل قبول فیصلہ سازی کی راہ پر چل پڑا۔ اس طرح امریکہ نے خود کو ممکنہ حد تک قابل قبول بنانے کی بجائے خود ہی متنازعہ بنانا شروع کردیا۔ اتنا کہ کتنی ہی بار یورپین یونین کی بیزاری دنیا کو ’’پھر وہ ٹوٹ گئی‘‘ صاف نظر آئی ۔ پاکستان جیسے موثر ترین اور آزمودہ ڈیفنس پارٹنر کو مسلسل دبائو میں رکھ کر خود ہی مشکوک بنا لیا، وہ پھر بھی امریکی پالیسی کے برعکس ایٹمی طاقت بن گیا۔ افغانستان میں خود کو طویل الجھا کر بھاری نقصان اٹھا چکا ہے۔ حاصل کچھ نہ ہوا۔ جتنا الجھا اس نے اب محفوظ انخلا کو ہی امریکی ہدف بنا دیا۔ جتنا جائز اثر افغانستان میں امریکہ کا بنتا تھا اور ہے وہ بھی قائم رہنا محال ہو رہا ہے ۔ وسیع تباہی پھیلانے والے اسلحے کے ذخائر کی ’’غلط اطلاعات‘‘ پر ری پبلکنزبش ایڈمنسٹریشن نے عراق میں لاکھوں انسانوں کی ہلاکت اور جیتے جاگتے ملک میں جو تباہی مچائی، اس سے امریکہ کو کیا حاصل ہوا؟ مشرق وسطیٰ اور مسلم دنیا کے عوام پر اس سب کے کیا اثرات پڑے۔ فلسطین اور کشمیر کے مسائل پر اقوام متحدہ کے تنازعات پر امریکی ری پبلکنز خصوصاً اور ڈیمو کریٹس نے بھی جو اپروچ اختیار کی، امریکی ٹھنک ٹینکس کے لئے چیلنج ہے کہ وہ اس کے نتائج کا آڈٹ کرکے آئندہ امریکی حکومتوں کی رہنمائی کے لئے پہلے اپنی اصلاح کریں۔ عالمی اور خطوں کی سیاست کے ان تمام امریکی کھیلوں نے امریکہ کو جس انداز میں اور جتنا شدت سے (مہلک حد تک) تقسیم کردیا اس کا سب کچھ الیکشن 20 میں عود کر دنیا کے سامنے آگیا۔ اس سے قبل امریکی مرکز مالیات پر امریکی غربا کے لاکھوں کے دھرنے نے ’’آکو پائی وال اسٹریٹ موومنٹ‘‘ کی شکل میں امریکہ کی داخلی بگڑتی عوام اقتصادی حیثیت کا پول کھول دیا۔ کیا صرف طاقتور اعلیٰ عسکری صلاحیتوں کے حامل امریکی بحری بیڑوں کی جگہ جگہ اور کھلے سمندروں میں موجودگی اور بھارت جیسے متنازعہ اہلیت کے حامل عسکری اتحادی اور جاپان جیسے جنگ بیزار کو جنگی اتحادی بناکر، امریکہ عالمی امن و سلامتی تو کیا اپنے ’’قومی مفادات‘‘ کے حصول کے مشن جاری رکھ کر دنیا کو تو چھوڑیں اپنے لئے کچھ بہتر کرسکتا ہے؟ اس بڑے سوال کا عین درست جواب تلاش کرنا، پھر بمطابق پالیسی اور فیصلہ سازی ڈیمو کریٹک بائیڈن ایڈمنسٹریشن کا بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

(جاری ہے) 

تازہ ترین