ریڈ لسٹ: برطانوی فیصلہ عدالت میں چیلنج
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے کے برطانوی فیصلے کو پاکستانی نژاد ماہر قانون بیرسٹر راشد احمد کی جانب سے قانونی طور پر چیلنج کرنے کی کارروائی کا آغاز متاثرہ پاکستانیوں کیلئے یقیناً ایک امید افزاء خبر ہے۔ بیرسٹر راشد احمد کے مطابق اس فیصلے کا کوئی قانونی جواز نہیں لہٰذا سیکریٹری ہیلتھ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نہ نکالا تو وہ لندن ہائی کورٹ سے رجوع کرینگے۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے ماہ رواں کے اوائل سے پاکستان، بنگلہ دیش، کینیا اور فلپائن سے برطانوی یا آئرش شہریوں کے سوا دیگر مسافروں کی آمد پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے سیکریٹری خارجہ کو لکھے گئے ایک خط میں پوچھا تھا کہ یہ فیصلہ کس سائنسی ڈیٹا کی بنیاد پر کیا گیا ہے کیونکہ فرانس، جرمنی اور بھارت میں کورونا کیسوں کا تناسب پاکستان سے کہیں زیادہ ہے لیکن ان پر یہ پابندی عائد نہیں کی گئی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اسی حوالے سے حکومت برطانیہ سے دریافت کیا تھا کہ اس نے یہ فیصلہ سائنسی بنیاد پر کیا ہے یا خارجہ پالیسی کی بنیاد پر؟ تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستانی مسافروں کو برطانیہ کے قرنطینہ مراکز میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ہوٹل میں رہائش کا سارا خرچ بھی انہیں خود اٹھانا پڑتا ہے۔ دوسری جانب معروف برطانوی سائنسدان ڈینی آلٹمین نے اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہ بھارت سے آنے والوں پر قرنطینہ میں رہنے کی شرط بھی نہیں۔ برطانیہ میں کورونا وائرس کے کم ہوتے ہوئے واقعات کے باوجود کورونا کی بھارتی قسم پھر سے اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ ان حقائق کے باوجود بھارت کو کھلی چھوٹ اور پاکستان پر پابندی بلاشبہ واضح امتیازی سلوک ہے اور اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اقدام بالکل درست ہے۔ حکومت پاکستان کو بیرسٹر راشد احمد کی ہر ممکن معاونت کرنی چاہئے تاکہ ان کی کامیابی یقینی ہو اور پاکستانی شہری برطانوی حکومت کے جانبدارانہ رویے سے نجات پائیں۔

تازہ ترین