جناب شوکت ترین! مہنگائی کو لگام ڈالیں
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ نے کبھی شوکت ترین صاحب کی آنکھوں میں تجسس کی چمک پر غور کیا۔ اقبال یاد آتے ہیں:

اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن

جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا

میری ان سے جتنی بار ملاقات ہوئی ہے۔ معیشت کے حوالے سے ان کے پاس تازہ ترین معلومات ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ اطمینان تو ہونا چاہئے کہ انہوں نے جو ذمہ داری سنبھالی ہے اس کے اسرار و رموز سے آگاہ ہیں۔ ان کا عزم ہمیشہ رہا ہے کہ پاکستان میں معیشت کی نمو بہتر ہوگی تو سارے معاملات بہتر ہوں گے مگر ایک ملک جہاں سیاسی محاذ آرائی عروج پر ہو ۔ لسانی تعصبات شدت کے ہوں۔ نسلی تفاوت زوروں پر ہو۔ فرقہ وارانہ کشمکش غضب کی ہو۔ وہاں ملکی معیشت کو پٹری پر لانا اتنا آسان نہیں ہے۔ شوکت ترین کو معیشت کی راہ میں حائل ان چٹانوں کا پہلے سے علم بھی ہے اور تجربہ بھی۔ دو ماہ پہلے ہی انٹرویو میں مجھ سے وہ کھل کر باتیں کرچکے ہیں جن کی سرخیاں یہ تھیں۔ فیصلے نہیں ہورہے۔ عملدرآمد رُکا ہوا ہے۔ پاکستانی معیشت ایک جگہ ٹھہری ہوئی ہے۔ کووڈ 19کے بعد ہم معیشت کو اوپر نہیں لے جاسکے۔ سب سے زیادہ نااہل انرجی سیکٹر میں ہیں۔ نیب وصول شدہ 487ارب روپےکی تفصیل تو دے۔ حکومت فیڈریشن اوور سیز چیمبر۔ امریکن بزنس کونسل سے باقاعدہ مشاورت نہیں کررہی ہے۔ یہ گلہ بھی کہ وزیر اعظم کو مشورے دیتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ کووڈ کے بعد اکثر ممالک Vکی شکل میں دوبارہ ترقی کی طرف چل پڑے ہیں۔ چین نے شرح نمو کو منفی نہیں ہونے دیا۔ پاکستان ڈیڑھ فیصد پر رُکا ہوا ہے۔

ﷲ کے فضل سے اب معیشت کی گاڑی کا اسٹیئرنگ ان کے ہاتھ میں ہے۔ مذکورہ بالا مشکلات میں سے بہت سی وہ خود آسان کرسکتے ہیں۔ میں نے فیس بک ، واٹس ایپ پر یارانِ نکتہ داں کو صلائے عام دیا۔ ان سے عرض کی کہ وہ شوکت ترین صاحب کے لیے تین ترجیحات بتائیں۔ بہت سنجیدہ تجاویز آئی ہیں۔ایک ماہر معیشت نے کہا: قیمتوں میں استحکام۔ مہنگائی میں کمی۔ ترقی کے عمل کی فوری آبیاری۔ غربت کے خاتمے اور غریبوں کے معاشی تحفظ کے لیے اقدامات ۔ توانائی سے جڑے تمام مسائل، جن میں گردشی قرضہ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ۔ اور زیادہ پیداوار کی کھپت ۔ہائوسنگ کا احیا اور تیز تر ترقی۔ محصولات کے شعبے میںاصلاحات۔ تاکہ ملک کی ضرورت کے مطابق وسائل جمع کیے جاسکیں۔ ٹیکس گزاروں کے لیے آسانیاں، شفافیت اور کرپشن کا خاتمہ۔ اشرافیہ کو ملنے والی سب سڈیز کا فوری خاتمہ۔

یہ واقف حال خود حکومت میں ہیں۔ مختلف حکومتوں میں رہ چکے ہیں۔ انہوں نے چند الفاظ میں معیشت کی تصویر کھینچ دی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ ایک غریب کی جو الجھن ہوتی ہے۔ اخراجات بہت زیادہ، ناگزیر مگر آمدنی بہت کم۔ وہی پاکستان کی صورت حال ہے۔ کیش نہیں ہے۔ ٹیکس ادا کرنے والے کم۔ رعایتیں لینے والے ادارے بھی بہت ہیں۔ اور افراد بھی۔ خرچے پورے کرنے کے لیے غریب بھی قرض لینے پر مجبور۔ ملک بھی قرضے لے کر قرضے اتار رہا ہے۔ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کے تقاضے بڑھتے جارہے ہیں۔ معاشی حقائق سے عوام تو بے خبر ہوتے ہیں لیکن اشرافیہ، اپوزیشن لیڈر جو سب کچھ جانتے ہیں، ان کا نقطۂ نظر بھی معاشی نہیں ہوتا۔ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ عوام کا جذباتی انداز فکر اور کرپٹ سیاستدانوں کی کرپٹ سہیلی بیورو کریسی،جسے جگاڑ اور کھانچوں کی عادت ڈال دی گئی ہے نتیجہ یہ کہ سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر آپڑا ہے۔ عام لوگوں کی قوت خرید کم ہورہی ہے۔ ایسے میں جب ایک بلند قامت، تجزیہ کار بینکر، ماہر معیشت نے بلند عزائم کے ساتھ یہ چیلنج قبول کیا ہے تو قدرتی طور پر درد مند پاکستانیوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ تنویر شہزاد سینئر صحافی کہتے ہیں، پہلے تو شوکت ترین مہنگائی میں کنٹرول نہ کرسکنے والی حکومت کی طرف سے عوام سے معافی مانگیں۔ اور عوام سے براہ راست رائے لینے کے لیے ہیلپ لائن قائم کریں۔ جویریہ یاسمین۔ ہر چھوٹے بڑے کاروبار کی دستاویزیت۔ حافظ ساجد نعمان ۔ روس نے بہتر تعلقات کی پیشکش کی ہے، اس سے اقتصادی تعلقات بڑھائیں۔ ناصر بیگ چغتائی سینئر صحافی ۔ مہنگائی میں کمی، گھریلو صارفین کے لیے بجلی گیس کی قیمتوں میں ٹھہرائو۔ بے روزگاری کا خاتمہ۔ سید ارتقا زیدی۔ مہنگائی روکنے کے لیے طویل المیعاد منصوبہ بندی۔ آئی ایم ایف کو پاکستان کی مشکلات کووڈ 19کی تیسری لہر سے آگاہ کرکے معاہدے پر نظر ثانی کروائیں۔ FATFکے باقی نکات پر عملدرآمد میں تیزی لائیں تاکہ پاکستان گرے لسٹ سے بھی نکلے۔ مسرور جان۔ وزیر خزانہ بننے سے پہلے آپ جو تجاویز دیتے رہے ہیں ان پر عملدرآمد۔ الطاف مجاہد۔ پنشن بڑھائیں۔ میر حسین علی امام۔ گریڈ20 سے اوپر والے افسروں اور اسمبلی ارکان وزراء کی مراعات کم کریں۔ مسعود انور قریشی۔ سود کے بغیر معیشت۔ ہر ایک سے ٹیکس کی وصولی۔ منافع کی شرح کی مانیٹرنگ۔ کسی کو کوئی رعایت نہیں۔ صدف جاوید۔ مہنگائی کا خاتمہ۔ شاہانہ جاوید۔ گھریلو صنعتوں کو فروغ۔ شہناز احد۔ عوام کا اصل مسئلہ روٹی ہے۔ انہیں بڑی باتوں میں نہ الجھائیں۔ مریم حنا۔ افراط زر کم۔ روزگار کے مواقع میںاضافہ۔ برآمدات بڑھائیں۔ ماجدہ عثمانی۔ مہنگائی کم ۔ سود ختم۔ کھانا نہیں روزگار۔ سیما ناز صدیقی۔بڑے لوگ بیمار پڑیں تو پاکستان کے اسپتالوں میں ہی علاج کروائیں۔ سب کے بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھیں۔ عمران اشرف ۔ شرح سود کم سے کم ۔ سمانا نقوی۔ مہنگائی کم کریں۔

میں شوکت ترین کو سب سے اہم وزارت سنبھالنے پر مبارک باد بھی دے رہا ہوں۔ اور ان سے ہمدردی بھی کہ وہ جس ملک کے وزیر خزانہ بنے ہیں۔ وہاں حکمرانی سب سے مشکل کام اور وزارت خزانہ سب سے کٹھن وزارت۔ گناہ بے لذت۔ آغاز بھی رسوائی۔ انجام بھی رسوائی۔ لیکن ایسے وزرائے خزانہ بھی رہے ہیں جنہوں نے عوام کو اعتماد میں لے کر اپنی نیک نیتی سے تاریخ کے دھارے کا رُخ ہی موڑ دیا ہے۔ مخلص عوام کی تو یہ ہی تمنّا ہوگی کہ وزیر خزانہ مہنگائی کے بے لگام گھوڑے کا سرپٹ دوڑنا روکیں۔ عوام کی سب سے بڑی دشمن مہنگائی ہے اور حکومت کی بھی۔

تازہ ترین