• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دُعا... عبادت کی رُوح، اللہ کی رضا اور اُس کے قُرب کا سرچشمہ

محمد عبداﷲ صدیقی

رسول اللہﷺ نے فرمایا: دُعا در اصل عبادت ہے۔(ترمذی ) آپ ﷺ نے دُعا کو عبادت کی روح اور اس کا مغز قرار دیا۔ (جامع ترمذی : ۳۳۷۱) مخلوق کا مزاج یہ ہے کہ اس سے کچھ مانگو تو ناگواری ہوتی ہے ،لیکن اللہ تعالیٰ کو دُعا سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں۔ (ترمذی، باب ما جاء فی فضل الدعاء) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم میں سے جس کے لئے دُعا کا دروازہ کھل گیا ، اس کے لئے رحمت کے دروازے وا ہوگئے اور انسان اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگتا ہے ، اس میں عافیت سے بہتر کچھ اور نہیں ۔  (مشکوٰۃ )حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جو چاہتا ہو کہ مشکل وقتوں میں اس کی دُعا قبول کی جائے اسے چاہئے کہ بہتر وقت میں خوب دُعا کیا کرے ، ( ترمذی )دُعا چوں کہ خود عبادت ہے ، اس لئے وہ کبھی رائیگاں نہیں جاتی ، آپﷺ نے فرمایا : یا تو اس کی دُعا اسی طرح قبول کر لی جاتی ہے ، یا آخرت کے اجر کی صورت میں محفوظ ہو جاتی ہے ،یا اسی مطلوب کے بقدر مصیبت اس سے دور کر دی جاتی ہے۔ ( مشکوٰۃ ) 

آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح دُعا کرو کہ دل میں یقین ہو کہ اللہ اسے ضرور ہی قبول فرمائے گا ۔( مجمع الزوائد )حضرت ابوہریرہؓسے مروی ہے ، آپ ﷺے ارشاد فرمایا : اللہ غافل اور بے توجہ دل کی دُعا قبول نہیں فرماتا۔ (مشکوٰۃ) آپ ﷺنے دُعا کے کلمات کے بارے میں بھی آداب بتائے ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ دُعا سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر نی چاہئے اور آپ ﷺ پر درود ، پھر دُعا کرنی چاہئے۔ ( مجمع الزوائد) آپ ﷺ نے فرمایا : اے نماز پڑھنے والے تم نے جلد بازی کی ، جب نماز پڑھو تو بیٹھو ، پھر اللہ کی حمد کرو، پھر مجھ پر درود بھیجو ، اس کے بعد دُعا کرو ۔ چنانچہ اس نے اسی طرح دُعا کی تو آپ ﷺنے فرمایا کہ دُعا کرو قبول کی جائے گی۔ ( مجمع الزوائد)

کچھ خاص اوقات ہیں ، جن میں دُعا مقبول ہوتی ہے ، رات کے آخری اور تہائی حصہ میں یہاں تک کہ صبح طلوع ہوجائے ۔( مسند احمد) جہاد میں صفوں کے آراستہ ہونے کے وقت ، بارش ہونے کے وقت ، نماز کی اقامت کے وقت ( ترمذی)اس کے علاوہ فرض نمازوں کے بعد ، شب قدر اور بعض خاص راتیں دُعا کی قبولیت کے خاص مواقع ہیں ۔ اسی طرح کچھ لوگ ہیں ، جن کی دُعاؤں کو آپ ﷺنے خاص طور پر مقبول قرار دیا ہے ، ان ہی میں مظلوم ہے ، گو وہ اپنے اعمال کے اعتبار سے بُراہی کیوں نہ ہو ، روزے دار ، تاآںکہ افطار کرلے اور مسافر،  تاآںکہ واپس آجائے۔ ( مجمع الزوائد) امام عادل کی دُعا اور باپ کی دعا اپنی اولاد کے حق میں مقبول ہے ۔ حاجی کی دُعا گھر واپسی تک اور مجاہد کی دُعا جہاد سے فارغ ہونے تک بھی مستجاب دُعاؤں میں ہے ۔ (مشکوٰۃ)