• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسان میں قدرت کی جانب سے ایسی صفات وحدیت کی گئی ہیں کہ اگر وہ خیر کا منبہ بنا نا چاہے تو فرشتوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور اگر شر کی جانب راغب ہوجائے تو شیطان بھی کان پکڑ لیتا ہے۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ اسی حسد، کینہ ، بغض اور نفرت کی آگ میں جلنے والوں نے انسانی کھوپٹریوں کے مینار بھی تعمیر کیے ہیں اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس سفاکی پر ندامت کے بجائے اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کی اپنی تاریخ بھی بھری پڑی ہے۔ 

اس سلسلے میں چشم فلک نے ایک ایسا منظر سکرنڈ کے شیروانی محلہ میں بھی دیکھا، جہاں دو سگی پھوپھیوں نے اپنے بھائی کے اکلوتے بیٹے کو صرف اس وجہ سے قتل کردیا کہ ان بچوں کا نانا یعنی قاتل بہنوں کا باپ اپنے نواسے کو ٹوٹ کر پیار کرتا تھا اور اپنے پوتوں پر نواسے کو اولیت دیتا تھا۔ اس سلسلے میں کچھ یُوں ہوا کہ اللہ داد ملاح نامی شخص کا چار سالہ بیٹا سراج ملاح گھر سے چیز لینے کے لیے نکلا تو دو گھنٹے تک واپس نہیں آیا، جس پر اس کے والدین کو تشویش پیدا ہوئی اور انہوں نے بچے کی تلاش شروع کردی اور جوں جوں وقت گزرتا جارہا تھا، والدین کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی اور اللہ داد ملاح نے بتایا کہ اس کا بیٹا جب رات ڈھلنے کے بعد بھی نہیں ملا، تو انہوں نے قریب میں واقعہ اپنی بہن کے گھر جاکر اس واقعہ کی اطلاع دی تھی تو اس کے دو بہنوئی، ان کا والد اور دونوں بہنیں جو کہ بعد میں قاتل ثابت ہوئی ،سراج کی تلاش میں محلے میں گھر گھر جاکر بچے کو تلاش کرنے میں ہماری مدد کی ۔

تاہم پُوری رات تلاش کرنے کے باوجود سراج کا کوئی سراغ نہیں ملا کہ اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔صبح کا تڑکا جب ہوا تو پھر دوبارہ سکرنڈ شہر میں بچے کی تلاش کا دائرہ وسیع کیا اور اس دوران پولیس کو بھی اطلاع کی گئی اور مساجد سے بچے سراج کی گمشدگی کے اعلانات بھی کرائے گئے، مگر سراج کا کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر سکرنڈ سلیم جتوئی نے بتایا کہ جب بچے کی گمشدگی کی اطلاع ملی، تو انہوں نے فوری طور پر ٹاؤن کمیٹی کے عملے کو بلوا کر شہر بھر کے تمام مین ہولوں میں تلاشی لی گئی ، جس پر معلوم ہوا کہ بچہ کسی مین ہول میں نہیں گرا۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی تنویر حسین تنیو نے بتایا کہ بچے کی گمشدگی کی پولیس کا اطلاع دی گئی تو انہوں نے ایس ایچ او سکرنڈ عبدالطیف تہیم کو اسپیشل ٹاسک دیا اور بچے کی تلاش کے لیے پولیس کو احکامات جاری کیے گئے، لیکن جب دوسرا دن بھی گزر گیا اور بچے کا کوئی سراغ نہیں ملا، تو پولیس نے تفتیش کا دائرہ بڑھا کر بچے کی تلاش کے لیے گھر گھر تلاشی کا پروگرام بنایا اور اس سلسلے میں ایس ایچ او وومن پولیس اسٹیشن مریم بھرٹ کو ہدایات جاری کی گئیں۔ ایس ایس پی تنوری تنیو نے بتایا کہ پولیس نے جب شیروانی محلہ میں گھروں میں تلاشی شروع کی اور لیڈی پولیس اہل کار جب چند گھروں میں پہنچی تو اس وقت رات کے دس بج رہے تھے، اسی دوران یہ اطلاع آئی کی گمشدہ بچے سراج ملاح کی نعش اس کے گھر کے دروازے کے سامنے پڑی ہے۔ 

پولیس نے فوری طور پر لاش کو قبضے میں لے کر تعلقہ اسپتال سکرنڈ پہنچا، لاش دو روز پُرانی تھی اور اس کی حالت بگڑ چکی ہے۔ پولیس نے اپنی کارروائی جاری رکھی۔ اس دوران بچے کے والد اللہ داد ملاح نے سکرنڈ تھانے میں ایف آئی آر نمبر 70/2021کے تحت رپورٹ درج کرائی کہ اس کی شادی غلام مصطفیٰ ملاح نامی شخص کی بیٹی مسمات بابراں سے ہوئی، جس ایک بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام سراج اور عمر چار سال تھی ۔اس کا کہنا تھا کہ میرا سسر غلام مصطفی ملاح میرے بیٹے سراج کو ٹوٹ کر پیا ر کرتا تھا اور ہر وقت اس کو گود میں میں لے کر چیز دلاتا اور بے انتہاء پیار کرتا تھا۔

اللہ داد ملاح کا کہنا تھا کہ اس کی بہنیں مسمات شمائلہ زوجہ غلام مرتضی ملاح، مسمات عزیزاں زوجہ غلام مجتبیٰ ملاح جو کہ گھر کے قریب اپنے سسرال میں رہتی تھیں، وہ میرے سسر غلام مصطفی کے رویے سے جو کہ میرے بیٹے سراج سے رکھتا تھا، سخت نالاں تھیں اور اکثر اس بات کا برملا اظہار کرتی تھیں کہ غلام مصطفی اپنے پوتوں سے زیادہ نواسے سے پیار کرتا ہے جو کہ ہمیں پسند نہیں ہے اور انہوں نے کئی مرتبہ اپنے والد سے بھی اس سلسلے میں ناراضگی کا اظہار کیا، لیکن بعد ازاں انہوں نے میرے بیٹے سراج ملاح کو قتل کرنے کی سازش تیار کی۔ 

ایف آئی آر میں اللہ داد ملاح کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا گھر سے چیز لینے نکلا اور واپس نہیں آیا اور رات نو بجے تک ہمیں معلوم نہیں تھا کہ میرا بیٹا کہاں ہے، جب کہ اللہ داد کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے جب اپنی بہنوں اور بہنویوں کو اس کی اطلاع دی، تو میرے بہنویوں کے ساتھ میری بہنیں بھی بچے کی تلاش میں سرگرداں رہیں اور انہوں نے گھر گھر جاکر میرے بچے کے بارے میں معلومات حاصل کیں اس سلسلے میں پولیس کے مطابق جب یہ اطلاع ملی کہ گمشدہ بچے سراج کی لاش اس کے گھر کے دروازے کے سامنے پڑی ہے اور پولیس نے اللہ داد ملاح کی نشاندہی پر اس کی بہنوں کے گھر چھاپہ مارا تو الماری میں خون جما ہوا پڑا تھا اور گھر میں بے پناہ بدبو ۔ 

تاہم بعد ازاں پولیس نے مسمات عزیزاں اور مسمات شمائلہ حراست میں لے کر جب ان سے تفتیش کی تو انہوں نے پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حسد اورنفرت کے باعث یہ اقدام کیا اور اپنے بھائی کے اکلوتے بیٹے سراج کو گھر سے لاکر اس کے گلے میں پھندا ڈال کر قتل کیا اور بعد ازاں اس کی لاش کو الماری میں رکھا اور دو روز تک لاش سڑنے کے بعد جب انہیں معلوم ہوا کہ بچے کی تلاش کے لیے لیڈی پولیس نے گھر گھر سرچ شروع کردیا ہے، تو ڈر گئی اور جوں ہی لوڈ شیڈنگ ہوئی تو بچے کی لاش اٹھا کر اپنے بھائی کے گھر کے سامنے پھینک دی۔ 

اس سلسلے میں پولیس نے دونوں ملزمان کے بیان کے بعد فرسٹ سینیئر سول کورٹ و جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے تین روز کا ریمانڈ حاصل کرکے تفتیشن شروع کردی ہے۔ اس سلسلے میں بچے کے والد اللہ داد ملاح نے بتایا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اس کی سگی بہنوں نے اس کے گھر کے چراغ کو بجھا دیا۔ اس کا کہنا تھا اسے انصاف فراہم کیا جائے اور دونوں قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

پھوپھی اور بھتیجوں کے آپس میں قریبی رشتے کے باعث پھوپھیوں کی بھتیجا اور بھتیجی کے لیے قربانیاں عام سی بات ہیں اور بہنیں اپنی بھائی کی اولاد کو ترجیح دیتی ہیں، لیکن یہ کینہ ، حسد اور نفرت کا شاخصانہ تھا کہ دونوں بہنوں نے اپنے اکلوتے بھتیجے کو سفاکی سے قتل کرکے اپنے بھائی اور بھابھی کی دنیا تاریک ۔

تاہم اس سلسلے میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قانون میں اس طرح کی کوئی دفعات شامل نہیں ہے کہ قاتل خواتین کو پھانسی کی سزا دی جائے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے ہاتھوں ہونے والے قتل کا جرم ثابت ہونے پر قاتل خواتین چند سال جیل میں گزار کر باہر آجاتی ہے اور اکثر ان قتل کرنے والی قاتل سے پھر دوبارہ بھی اس طرح کے جرائم ہونا ثابت ہیں۔ اس لیے ضرور ی ہے کہ جہاں مردوں قاتل کو پھانسی کی سزا دی جاتی ہے، اس طرح خواتین میں جرائم خصوصا قتل جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدمات کیے جائیں اور عورت قاتل کو بھی سزائے موت دینے کا قانون بھی بنایا جائے تاکہ معاشرے میں قتل کے جرم کی وارداتوں کا خاتمہ ہوسکے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید