• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عطاالحق قاسمی نے ’’طوطا بنو گے ‘‘ کے نام سے ایک طوطا کہانی لکھی تھی کہ ایک شخص نےطوطے بیچنے والے کے سارے طوطے خرید کر آزاد کر دئیے مگر وہ بازار کا چکر لگا کر دوبارہ اپنے مالک کے پاس آگئے۔ خریدار نے طوطا فروش سے اس کی وجہ پوچھی تو ایک طوطا بول پڑاکہ ہم بازار کا چکر لگا آئے ہیں ، کاروبار مندا ہے۔ روزی صرف پنجرےسے باہر نہیں اندر ہے۔ طوطے کےآدمی کی طرح باتیں کرنے پر خریدار حیران ہوا تو بیچنے والے نےکہا۔’’یہ معمولی طوطے نہیں ان میں سے کوئی سیاسی طوطا ہے تو کوئی ادبی طوطا۔کوئی صحافی طوطا ہے تو کوئی انقلابی طوطا۔کچھ اسلامی طوطے بھی ہیں یہ سب دانشور طوطے ہیں !‘‘ خریدارنے پوچھا ’’یہ اگراتنے دانا ہیں توتمہارے غلام کیسے بن گئے ہیں‘‘ بیچنے والا بولا ’’میں ان کارکھوالا ہوں ،یہ میرے غلام نہیں ہیں میں تو خود غلام ہوں۔ گاہک نے پوچھا!’’تم کس کے غلام ہو ؟اس نے کہا۔’’میں جس کا غلام ہوں ، وہ آگے کسی کا غلام ہے ، غلامی کا یہ سلسلہ بہت لمباہے۔ ‘‘گاہک افسردہ ہوکر جانے لگا تو طوطا فروش نےروپوں کی تھیلی اسے لوٹاتے ہوئے کہا ’’تم ضرورت مند شخص لگتے ہو،‘‘ گاہک نے ممنونیت سےپیسے جیب میں ڈال لئے ، چند قدم چلا تو اس نے آواز دے کر واپس بلالیا اورروپوں کی ایک اور تھیلی تھماتے ہوئے آنکھ مارکر کہا ’’طوطا بنو گے؟

قصہ اتنا ہے کہ جب سے طوطوں نےبولنا سیکھا ہے تب سے طوطاکہانیاں لکھی جارہی ہیں۔ ایک طوطا کہانی مولانا روم نے بھی بیان فرمائی تھی کہ ایک پرچون فروش کے پاس ایک بولنے والاطوطا تھا۔ دکاندار اس کے ساتھ اکثر باتیں کرتا تھا ، اس سے ایک ملازم کی طرح کام لیتا تھایعنی کسی گاہک کے آنے پر وہ شور کرکے دکاندار کواس کی طرف متوجہ کردیتا تھا یا کوئی بات کہہ دیتا تھا۔ دکاندار اس طوطے سے بہت خوش تھا۔ ایک دن وہ طوطا ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے کی طرف جارہا تھاتو اس سے بادام کے تیل کا مرتبان الٹ گیا۔تیل دوسری چیزوں پہ گرا،کئی چیزیں خراب ہوئیں ، خاصا نقصان ہو ا ، دکاندار کوغصہ آگیا۔ اس نے طوطے کو مارا۔طوطا پٹائی کی وجہ سے گنجا ہوگیا ،اس کے سر کے بال جھڑگئے۔اس کے بعد طوطے نے خاموشی اختیا ر کرلی، باتیں کرنا بند کر دیں۔ دکاندارکو اپنی حرکت پر پشیمانی ہوئی مگر اب ذود ِپشیماں کے پشیمان ہونے سے کیا ہوناتھا۔اس نے طوطے کو منانے کی کوشش بہت کی مگر طوطا راضی نہ ہوا۔اس طرح کافی عرصہ گزرگیا،ایک روز ایک گنجا آدمی دکان پر کچھ خریدنے آیا۔طوطے نے دیکھااس کا سر گنجا ہے۔ جیسے ہی اس نے گنجے سر کو دیکھا تو بےساختہ بول دیا۔

از چہ ای کل با کلان آمیختی

تو مگر از شیشہ روغن ریختی

(کیا تم نے بھی بادام کا تیل گرایا تھا ، جو تمہارا سر بھی گنجا ہوگیا)

طوطے کو علامت کے طور پر اس لئے استعمال کیا ہے کہ طوطا شاید وہ واحد پرندہ ہے جو انسانوں کی طرح بات کر سکتا ہے۔ مینا کے متعلق بھی کہتے ہیں مگر میری نظر سے ابھی تک کوئی ایسی مینا نہیں گزری مگر ’طوطا کہانی ‘‘میں ایک بولنے والی مینا بھی تھی جس کی گردن مروڑ دی گئی تھی۔ اردو کے کلاسیکی ادب کی کہانی سید حیدر بخش حیدری نے فورٹ ولیم کالج میں گلکراسٹ کی فرمائش پر لکھی تھی۔ اس ایک کہانی میں 35کہانیاں ہیں ، یعنی یہ طوطا کہانی ڈرامہ سیریز کی طرح کی چیز ہے جس میں دواسٹاک کریکٹر ہیں۔ ایک طوطا اور ایک شادی شدہ عورت جس کاشوہرکہیں سفر پر گیا ہوا ہے۔عورت اپنے محبوب سےملنا چاہتی ہےاور طوطا نہیں چاہتا کہ وہ اپنے شوہر سے بے وفائی کرے۔ طوطا روز رات کو اسے ایک انتہائی دلچسپ کہانی سنانی شروع کرتا ہے اور سناتے سناتے صبح کردیتا ہے۔ شوہر کے آتے آتے طوطا 35کہانیاں سنا دیتا ہے۔اس میں طوطے کا کردار برائی سے روکنے والا کردارہے۔ بھٹکنے سے بچانے والا کردار ہے۔ایک مالک کے وفادار ملازم کا کردار ہے۔یعنی طوطا اپنے مالک کی بیوی کی حفاظت کرتا ہے۔طوطا کہانی کی زبان سادہ ہے مگر قافیہ پیمائی بہت ہے۔ شعر بھی برمحل استعمال کئے گئے ہیں ،مسلم معاشرت کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔یہ طوطا بھی غلام تھا۔اس طوطا کہانی کوبھی شہرت ملی ،اس کے رائٹر کے متعلق البتہ بہت کم معلومات ملتی ہیں۔ تاریخ کو بس اتنا علم ہے کہ سید حیدر بخش حیدری دہلی میں پیدا ہوا تھا مگر وثوق کے ساتھ یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ کب پیدا ہوا تھا۔اس کی دہلی کی زندگی کے متعلق کچھ پتہ نہیں چلتا۔ اس کی طوطا کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ جب دہلی برباد ہوا تو اس کے والد بنارس ہجرت کر گئے۔ جہاں سے حیدر بخش فورٹ ولیم کالج میں ملازمت کے حصول کےلئے کلکتہ چلا گیا۔ اپنے ساتھ ’’ایک قصہ مہر وماہ بھی تحریر کرکے لے گیا۔جوگلکراسٹ کو اچھا لگا اور اس نے اسے بحیثیت منشی ملازم رکھ لیا۔ وہاں اس نے دس کے قریب کہانیاں لکھیں جن میں طوطا کہانی اورآرائش محفل بہت مقبول ہوئیں۔ طوطا کہانی میں کئی علامتیں ہیں۔ طوطا کہانی کی مینا کی موت ’’برہنہ سچائی ‘‘کی موت کا نام ہے۔ کہانی طوطا دورغِ مصلحت آمیز سے کام لینے والا ذہین آدمی ہے۔ اور عورت نفس ہے جسے برائی سے روکا جاسکتا ہے۔ یعنی حیدر بخش بھی گلکراسٹ کا طوطا تھا۔بات وہیں آجاتی ہے کہ ہم سب طوطے ہیں۔مگر تمام ہیں سرمایہ نژاد طوطے۔ یعنی دولت کےلئے غلامی قبول کی ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کی غلامی ،وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارا حکمران قوم کو اس غلامی سے نجات دلانے کی بھرپور میں کوشش میں ہے۔میں یہ نہیں دیکھ رہا کہ کوشش کامیاب ہے یا ناکام ، میں صرف کوشش کرنے والے کی نیت دیکھ رہا ہوں اور اس کیلئے دعا گو ہوں۔

تازہ ترین