• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا کی عالمی تباہ کاریوں ، ملکی معاشی بدحالی و سیاسی انتشار اور مذہب کے نام پر اسرائیلی و بھارتی ظلم کی اذیّت ناک خبروں کے درمیان ایک ایسی خبر کا انکشاف ہوا ہے۔ جو بنی نو عِ انسان کے وجودکے خلاف بڑھتے ہوئے خطرات کی تاریکیوں میں روشنی اور امید کی جاں فزا کرن کی مانند ہے۔ 28مئی 2021ء کے روزنامہ جنگ میں چھپنے والی اس خبر کے مطابق جرمنی کے شہر برلن میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنمائوں اور سیاست دانوں نے ’’ ہائوس آف ون‘‘ کے نام سے ایک ایسی عبادت گاہ کا سنگِ بنیاد رکھا ہے جس کا مقصد عیسائیوں ، یہودیوں اور مسلمانوں کو ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھا کرنا ہے۔ اس عبادت گاہ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رولینڈ اسٹولٹ نے اس عبادت گاہ پر تعمیراتی کام کے آغاز کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ انسانوں کے درمیان مذہبی منافرت ختم کرنے کا یہ خیال عمارت سے کہیں بڑا ہے۔

میرے نزدیک یہ خبر انسانیت کی بقا کے حوالے سے دنیا کی آج تک کی سب سے بڑی خبر ہے۔ کیونکہ انسانی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک ’’ مذہب‘‘ کے نام پر سب سے زیادہ بیگناہوں کا خون بہایا گیا ہے جو دنیا کے کسی بھی مذہب کی تعلیمات کے خلاف ہے کیونکہ دنیا کے ہر مذہب نے قتل و غارت گری اور تشدّد کی مخالفت کی ہے اور دوسرے مذاہب کے احترام کی تعلیم دی ہے ۔ اگر ہم دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کے بانیوں اور ان کی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو ہمیں ہر جگہ باہمی رواداری ، عدم تشدّد اور عفو درگزر کا سبق ملتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی اکرمؐ سفرِ طائف میں مخالفین کے پتھروں سے لہو لہان ہونے کے باوجود ان کے حق میں ہدایت کی دُعا کی، فتح مکّہ کے موقع پر اپنے بدترین جانی دشمنوں ابوسفیان اور حکیم بن حزام کے گھروں کو خانہ کعبہ کے ساتھ جائے پناہ و معافی قرار دے دیا ۔ اسی طرح میثاقِ مدینہ دو مذاہب کے درمیان دنیا کا وہ پہلا بقائے باہمی و اخّوت کا معاہدہ ہے جس کے تحت مسلمانوں اور یہودیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کا پابند بنایا گیا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کا وہ قول تو ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے کہ اگر کوئی تمہارے داہنے گال پر چپت رسید کرے تو بدلہ لینے کی بجائے تم اپنا بایا ں گال بھی اس کے آگے کردو۔ اسی طرح ہندو دھرم کے بانی رام چند رجی نے محض اس لئے اپنی حکومت اپنے سوتیلے بھائی بھرت کی خاطر چھوڑ دی اور چودہ سال کے لئے بن باس لے لیا کیونکہ انکی سوتیلی والدہ کیکئی سے ان کے والد راجہ دسرتھ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کی دو خواہشیں پوری کرے گا۔ جب کیکئی نے اپنے بیٹے بھرت کے لئے رام کی جانشینی کی تنسیخ اور چودہ سال کے لئے بن باس کی خواہش ظاہر کی تو راجہ نے اسے ماننے سے انکار کردیا مگر رام نے یہ گوارا نہ کیا کہ ان کا باپ عہد شکنی کرے اور انکی سوتیلی ماں کا دل توڑے ۔

مگر جس طرح آج ’’ رام راج‘‘ کے لئے مسجدیں اور گرجے توڑے جا رہے ہیں، جس طرح یہودی مذہبی انتہا پرستی یا صہیونیت کے نام پر مظلوم فلسطینیوں کے معصوم بچوں کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے اور نظامِ مصطفیٰ ؐکے نام پر مسلمان ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں،وہ نہ صرف اپنے سیاسی ، قومی اور ذاتی مفادات کے لئے مذہبی تعلیمات سے رُو گردانی کے مترادف ہے بلکہ یہ تقسیم ہر مذہب میں گروہی ، مسلکی اور فرقہ وارانہ سطح تک پھیل گئی ہے جو بنی نوعِ انسان کی بقاکے لئے بذاتِ خود بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ ایسے عالم میں ہر اس کوشش کا خیر مقدم کرنا چاہئے جو انسانوں کے درمیان محبت ، رواداری اور بقائے باہمی کو فروغ دے۔ جب تمام مذاہب کے لوگ ایک ہی خدا یعنی ربّ العالمین کو اپنا پروردگار ماننے اور اسی کی طرف لوٹ جانے پر یقین رکھتے ہیں۔ تو وہ ایک ہی جگہ پر عبادت کیوں نہیں کرسکتے۔ اور ایک ہی جگہ پر انکی آخری رسومات ادا کیوں نہیں ہو سکتیں؟کیونکہ جس ربّ کے پاس انہیں واپس جانا ہے وہاں بخشش کا دارومدار اعمال پر ہے اس لئے کہ کسی مذہب میں بھی انسان کی پیدائش میں اسکی مرضی کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ ہماری چوائس ہمارے اعمال پر ہے۔ جوا نسان دوسرے انسانوں سے محبت کرتے ہیں وہی خدا کے محبوب بندے ہوتے ہیں۔ مومن کا مطلب امن قائم کرنے والا ہے۔ جو تخلیقِ آدم ؑ کی غرض و غائت ہے۔ ایسی ہی ایک مثال امریکہ میں بوسٹن کے مرکزی علاقے میں واقع تاریخی کیتھڈرل چرچ آف سینٹ پال کی انتظامیہ نے قائم کی ہے۔ جہاں بیس سال سے مسلمان بھی اس چرچ میں جمعہ کی نماز باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ ہی انسانیت کے اِس خیر خواہ اور خدا کے حقیقی فرمان بردار ہیں۔ میں نے کئی سال پہلے اپنی کتاب ’’ عشق سلامت‘‘ میں ایسے ہی خدا کے آنگن کے بارے میں دعا کی تھی جس کا عنوان تھا ’’ ربّ دا ویہڑہ‘‘

آئو یارو رَل مِل کے ہُن ویہڑہ اک سجائیے

اس ویہڑے وچ ہر مذہب دا معبد اک بنائیے

ناں رکھیئے فرِ اس ویہڑے دا’’ سب دے ربّ دا ویہڑہ‘‘

تے اس ویہڑے نوں جاون لئی رکھیئے اِکو رستہ

ربّ دے گھر نوں جاون والے اس ویہڑے توں لنگھن

آندیاں جاندیاں ربّ دے سبھ بندیاں لئی خیراں منگن

ویہڑے دے وچ سارے اپنے ربّ دی کرن عبادت

نہ کوئی دھرم دا جھگڑا ہووے، نہ کوئی قتل و غارت

اگرچہ آج یہ رب کا آنگن (ہائوس آف ون) ایک چھوٹی سی عمارت ہے لیکن بقول رولینڈ اسٹولٹ ’’یہ خیال عمارت سے بہت بڑا ہے‘‘ جو انسانی معاشرے کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین