• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ: عالمی توانائی بحران شدید، تیل کی قیمت 116 ڈالرز فی بیرل سے متجاوز

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کو دہائیوں کے بڑے توانائی بحران کے خدشے سے دو چار کر دیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق آج صبح برینٹ خام تیل کی قیمت 3 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 116 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو تقریباً 2 ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے، اس سے قبل 19 مارچ کو قیمت مختصر طور پر 119 ڈالرز تک گئی تھی۔

قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے دعویٰ کیا کہ وہ ممکنہ امریکی زمینی حملے کے لیے تیار ہے، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے خبردار کیا کہ امریکی فوجیوں کی آمد پر سخت جواب دیا جائے گا۔

گزشتہ دنوں خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے پہلی مرتبہ اسرائیل پر میزائل حملے کیے جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں وسیع کر دیں۔

جنگی صورتِ حال کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی دیکھے گئے، ایشیاء کی بڑی اسٹاک مارکیٹس شدید دباؤ کا شکار رہیں، جاپان کا نکئیی 225 اور جنوبی کوریا کا کاسپی انڈیکس 4 فیصد سے زیادہ گر گیا۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش نے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر کر دیا ہے، یہی صورتِ حال موجودہ توانائی بحران کی بنیادی وجہ بن رہی ہے۔

جنگ کے آغاز سے اب تک تیل کی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث دنیا بھر میں ایندھن مہنگا ہو رہا ہے اور کئی ممالک توانائی بچاؤ کے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر 6 اپریل تک آبنائے ہرمز پر کنٹرول ختم نہ کیا گیا تو ایران کے توانائی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جائے گا۔

ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے 15 نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا ہے تاہم تہران نے اسے مسترد کرتے ہوئے جنگی ہرجانے اور آبنائے ہرمز پر اپنے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں ماہرین کا اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگر سمندری آمد و رفت معمول پر نہ آئی تو تیل کی قیمتیں 120 ڈالرز یا اس سے بھی اوپر جا سکتی ہیں جبکہ یورپ سمیت دنیا کو آئندہ مہینوں میں معاشی اثرات مزید شدت سے محسوس ہوں گے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
تجارتی خبریں سے مزید