آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 12 اکتوبر 1999ء اور 3 نومبر 2007ء کو جب جنرل مشرف نے دو مرتبہ اس ملک کا آئین توڑا تو کیا وہ اکیلے ہی یہ مہم جوئی کرنے میں کامیاب ہوئے یا ان کے کچھ اور ساتھی بھی تھے؟
اکتوبر 1999ء میں باقاعدہ فوجی مارشل لاء لگایاگیا۔ جس میں جنرل مشرف کے ساتھیوں میں اس وقت کے راولپنڈی کے کور کمانڈر جنرل محمود، کراچی کے کور کمانڈر جنرل عثمانی، ان کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل عزیز اور ان کے ڈائریکٹر ملٹری آپریشن جنرل شاہد عزیز شامل تھے (شاہد عزیز نے اپنی ایک حالیہ کتاب میں سب کرداروں کا تعارف کراتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا ہے)
2007ء میں جنرل مشرف ایک باوردی جرنیل اور ملک کے صدر تھے۔ ان کے نیچے ایک سویلین حکومت کام کررہی تھی۔ جس میں شوکت عزیز وزیراعظم تھے۔ بے شمار حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسر ان کے ساتھ سویلین حکومت میں کام کررہے تھے۔ بڑے بڑے نامور سیاست دان مثلاً چودھری شجاعت حسین، پرویز الٰہی، ظفر اللہ جمالی، مولانا فضل الرحمان، قاضی حسین احمد ان کے اتحادی تھے۔ درجنوں افراد ان کی سویلین حکومت میں وزیر تھے۔ اب کی بار جنرل مشرف نے ”ایمرجنسی پلس“ کے نام سے عجیب بے ڈھنگا مارشل لاء لگایا تو ان کے سب فوجی اور سیاست دان ساتھی ان کے ساتھ بدستور چپکے رہے۔ جب انہوں نے ایمرجنسی نما مارشل لاء لگایا تو ہماری

اعلیٰ عدلیہ کے جسٹس عبدالحمید ڈوگر سمیت بڑی تعداد میں ججوں نے نئے نظام کے تحت حلف اٹھا لیا۔ یاد رہے جنرل مشرف کے ساتھ NRO کے بعد پیپلز پارٹی بھی جنرل مشرف کی سیاسی اتحادی بن چکی تھی۔
سوال ایک اور پیدا ہوتا ہے کہ جنرل مشرف نے تو دو مرتبہ آئین توڑا، مگر دونوں مرتبہ ان کے یہ سینکڑوں، ہزاروں نامور اتحادی سیاست دان اور جرنیل کیا کررہے تھے؟
ذرا ٹھہریئے! اس سوال کا جواب اتنا آسان بھی نہیں۔ ایک لمبی بحث میں الجھنے سے بہتر ہے کہ ہم ہرنام سنگھ سے رجوع کریں۔
ہرنام سنگھ کے پڑوسی سنتا سنگھ کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔ ہرنام سنگھ واردات کا عینی شاہد تھا، اسے گواہی کے لئے عدالت میں بلایا گیا۔ گواہوں کے کٹہرے میں کھڑے ہرنام سنگھ سے وکیل نے پوچھا۔
”سردار جی … یہ قتل ہوتے آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا؟“
ہرنام سنگھ نے پورے اعتماد سے کہا۔ ” جی جناب“
وکیل نے پوچھا! ”اچھا یہ بتایئے یہ وقوعہ کب ہوا؟“
ہرنام سنگھ نے جواب دیا ”جناب صبح گیارہ بجے“
وکیل نے پھر سوال کیا۔ ”آپ ٹائم کے بارے میں اتنے پریقین کیسے ہیں؟“
ہرنام سنگھ ”کیونکہ میری بیوی سے لڑائی ہوئی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ کیا سارا دن سوتے رہو گے، گیارہ بج رہے ہیں۔ کام پر جاؤ!“
وکیل نے پوچھا ”تو سردار جی … آپ نے کیا دیکھا؟“
ہرنام سنگھ نے بتایا ”جناب میں اپنے گھر سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ سنتا سنگھ مقتول سے جھگڑ رہا تھا“
”پھر“
”پھر سنتا سنگھ نے پاس پڑا ہوا ڈنڈا اٹھا لیا“
”پھر“
”پھر سنتا سنگھ نے وہی ڈنڈا اپنے دشمن کے سر پر دے مارا“
”پھر“
”پھرسنتا سنگھ نے ڈنڈا دوسری بار اس کے سر پر مارا“
”پھر“
”پھر اس کا دشمن زمین پر گر گیا، دوبارہ نہیں اٹھا، مر گیا تھا“
یہ سن کر وکیل نے پوچھا ”ہرنام سنگھ یہ سب کچھ دیکھ کر آپ نے کیا کیا؟
ہرنام سنگھ بولا ”کچھ نہیں … میں نے آواز دے کر سنتا سنگھ سے پوچھا ”سنتا سنگھ رات تیری بے بے کو بخار آگیا تھا، اترا کہ نہیں؟“
تو عزیز از جان قارئین … لمبی بحث میں جائے بغیر اب آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ جب جنرل مشرف آئین توڑ رہا تھا تو ان کے ساتھی سیاست دان اور جرنیل کیا کررہے تھے؟ یہ اقتدار کے کھیل ہیں جس میں چڑھائی کے وقت ساری دنیا آپ کے لشکر میں آپ کے جھنڈے آپ کی جے جے کار کرہی ہوتی ہے، قدم اکھڑتے ہی سب لشکری، مخالف سپاہ میں شامل ہو کر آپ کی گردن کاٹنے کے در پے ہوتے ہیں۔ میدان جنگ میں تو شاید کوئی مروت دکھاتا ہو، میدانِ سیاست تو کھیل ہی بے مروتی کا ہے۔
قدرت اللہ شہاب نے فاطمہ جناح کی خود نوشت کے حوالے سے رقم کیا ہے کہ قائداعظم زیارت میں آخری سانسیں لے رہے تھے۔ وزیراعظم لیاقت علی خاں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کی عیادت کے لئے گئے تو دم توڑتے قائدنے اپنے ملاقاتیوں سے ملنے سے انکار کردیا اور اپنی بہن سے کہا کہ یہ لوگ یہ دیکھنے آئے ہیں کہ میں کتنی دیر اور زندہ رہ سکتا ہوں!
سکندر مرزا ایوب خاں کا سرپرست تھا مارشل لاء لگانے کے بعد جب ضرورت نہ رہی تو اسی سکندر مرزا کو ملک بدر کر دیا گیا!
ذوالفقار علی بھٹو … ایوب خاں کو ڈیڈی کہا کرتا تھا … اقتدار پر ایوب کی رفت کمزور ہوئی تو اسی بھٹو نے ایوب کو گلی گلی کتا کہلوایا!
بھٹو کے طفیلیوں کو بے نظیر کی قیادت قبول نہ تھی، ہر کسی نے اسے جی بھر کے رگیدا۔ جس جرنیل کو بھٹو نے سات جرنیلوں پر فوقیت دے کر ترقی دی، اسی نے اس کے گلے میں پھندہ ڈالا…!
ضیاء الحق نے پورے پاکستان میں ہر بھٹو دشمن کی سرپرستی کی، آج اس کی قبر پر جانے والا کوئی نہیں!
میاں نوازشریف نے بھی دوسروں کو نظرانداز کر کے مشرف کو آرمی چیف بنایا، اسی کے ہاتھوں جلا وطن ہوئے! اب جنرل مشرف کی باری ہے! جن لوگوں کو مشرف نے پالا پوسا، بڑا کیا … اب وہی اس کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنیں گے…!
عزیزو … یہ اقتدار کا کھیل ہے … یونہی جاری رہے گا !!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں