• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تم گھر میں سوئی ہوئی بچی کو نہیں چھوڑتے

تم باہر کھیلتی بچیوں کو نہیں چھوڑتے

تم آٹھ مہینے کیا 80 سال والی کو نہیں چھوڑتے

تم قبر میں دفن عورت کو نہیں چھوڑتے

تم اسپتال میں مریضہ کو نہیں چھوڑتے

تم برقع پہنے ہوئی لڑکی کو نہیں چھوڑتے

تم دارالامان میں رہنے والی کو نہیں چھوڑتے

تم لوگ راستے میں نہیں چھوڑتے

بس میں نہیں چھوڑتے

اسکول میں نہیں چھوڑتے

آفس میں نہیں چھوڑتے

بچوں کے ساتھ ماں کو نہیں چھوڑتے

تین، چار ماہ کی بچی کو نہیں چھوڑتے

تم اپنی بہن ، بیٹی کو نہیں چھوڑتے

تم اپنے خاندان میں رہنے والیوں کو نہیں چھوڑتے

اور تم پوچھتے ہو

کپڑے کیسے پہنے تھے؟

باہر کیوں نکلی تھی؟

کس کے ساتھ نکلی تھی؟

فیملی کہاں تھی ؟

پردہ کیوں نہیں کیا؟

گھر میں اکیلی کیوں تھی؟

آفس میں کیوں کام کرتی تھی؟

اسکول ،کالج ،یونیورسٹی، مدرسہ میں کیوں جاتی تھی؟

تم یہ پوچھو

عورت کیوں تھی؟

یہ پاکستان کا ہی نہیں بھارت اور بنگلا دیش کا بھی یہی حال ہے جہاں ایک عورت ذات ہونا بھی گناہ بن چکا ہے۔اکثر علاقوں اور خاندانوں میں اگر پیدائش سے پہلے پتا چل جائے کہ لڑکی ہے تو اس معصوم کو پیدا ہونے سے پہلے ہی قتل کر دیا جاتا ہے یا پھر پیدا ہونے کے بعد مار دیا جاتا ہے۔ اور ماں پر ظلم کئے جاتے ہیں کہ تم نے لڑکی کو جنم دیا۔ لڑکے کو کیوں نہیں جنم دیا۔کیا عورت ہونا اتنا بڑا گناہ ہے؟ 

تمہیں بھی تو ایک عورت نے جنم دیا ہے۔ تمہاری بہن بھی تو عورت ہے۔اللہ کے واسطے بیوی، بہن ، بیٹی اورماں کا احترام کرو۔ کب تک یہ جہالت چلتی رہے گی۔ آخر کب تک؟ کب تک درندے ہوس کے پجاری معصوموں پر ظلم ڈھاتے رہیں گے۔یاد رکھو ایک دن ہم سب نے مرنا ہے۔ اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ پھر کیا کہو گے؟

(منقول)