• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سید امین الحسن موہانی

پیارے بچو !آج ہم آپ کو لندن کے تاریخی گھنٹہ گھر کے بارے میں بتائیں گے جو 19ویں صدی کے وسط میں نصب کیا گیا تھا۔کلاک ٹاورز تو آپ نے کراچی کی مختلف عمارتوں پر بھی لگے دیکھے ہوں گے۔اٹھارویں اور انیسویں صدی میں کراچی میں 12 گھنٹہ گھر بنائے گئے تھے ،جنہیں ایمپریس مارکیٹ، میری ویدرٹاور، بلدیہ عظمی کی عمارت ، فیریئر گارڈن، لی مارکیٹ سمیت دیگر عمارتوں پرٹاور بنا کر نصب کیا گیا تھا۔ 

ایک طرف تو گھڑیالوں کی تنصیب سے ان عمارتوں کی خوب صورتی میں اضافہ ہوا، دوسری جانب لوگ اپنے روزمرہ کےمعمولات زندگی کا آغاز ان کی گھنٹی کی آوازوں سے کرتے تھے۔ اس دور میں نہ تو زیادہ ترگھروں میں گھڑیال ہوتے تھے اور نہ ہی کلائیوں پر گھڑیاں باندھنے کا رواج تھا۔ دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث کراچی کے گھڑیال کئی سالوں سے نہ صرف خاموش ہیں بلکہ ان کی مشینری اور سوئیاں بھی ٹوٹ گئی ہیں۔

بات ہورہی تھی بگ بین کلاک ٹاور کی۔یہ گھڑیا ل، لندن میں،ویسٹ منسٹر کےعالی شان محل کے شمالی کونے میں نصب ہے۔اسے محل کی تعمیر کے وقت، چارلس بیری نے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ 16اکتوبر 1834ء کی شب آتش زدگی کے باعث محل کا زیادہ ترحصہ جل کرخاکستر ہوگیا ۔ عمارت کی تعمیرنو گوتھک طرز پر کی گئی۔ کلاک ٹاور کوبھی دوبارہ تعمیر کیا گیا، جسےآگسٹس پیوگن نے ڈیزائن کیاتھا۔جب یہ 1859ء میں مکمل ہوا تو اس کا گھڑیال سب سے بڑا اور انتہائی درست وقت دیتا تھا۔ جب بگ بین ٹاور کا گھنٹہ بجتا ہے تو آس پاس کے علاقے میںجلترنگ سے بجنے لگتے ہیں ۔ اس کی آواز سے لوگ اپنے نئے دن کا آغاز کرتے ہیں۔کلاک ٹاور کی بلندی 315 فٹ ہےاور 334سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جایا جاسکتا ہے۔

اس کی بنیاد مربع شکل کی ہےجس کی ہر سمت کی چوڑائی39 فٹ ہے۔گھڑیال کے کانٹے قطر میں 23فٹ ہیں۔بگ بین کلاک ٹاور کو دنیا بھر میںبرطانوی ثقافت کی’’ آئیکون‘‘ عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

دوبارہ تعمیر کرتے ہوئے ٹاور کو ہلکا سا خم دیا گیا ہے جو230 ملی میٹر تک ہے۔10مئی 1941ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن طیاروں کی بمباری کے باعث بگ بین کے دو ٹاور منہدم ہوگئے تھے۔ انہیں از سر نو تعمیر کرکے پہلے سے کہیں زیادہ دیدہ زیب بنایا گیا۔

لندن میں برف باری کی وجہ سےکئی بار گھنٹہ گھر کی سوئیاںسست ہوئیں یا رک گئی تھیں لیکن مرمت کرکے اسے دوبارہ رواںکیا جاتا رہا۔بگ بین کی گھنٹی کو’’ گریٹ بیل‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔اس میں تین گھنٹیاں لگی ہوئی ہیں جن کی ٹن ٹن سے گرد و نواح کے علاقے گہری نیند سے جاگ جاتےہیں۔اس کلاک ٹاور کے بارے میں لندن کے شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ نہ ہوتو ہماری زندگی ادھوری رہ جائے۔