• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بات چیت: سہیل عمران

چوبیس سالہ ماحور شہزاد گزشتہ پانچ برسوں سے نیشنل ویمن بیڈ منٹن چیمپئن ہیں ۔ انہوں نے گیارہ برس کی عُمر میں اپنے محلّے سے بیڈ منٹن کھیلنے کا آغاز کیا۔ اُن کے شوق کے پیشِ نظر والدین نے انہیں کراچی کے ایک مقامی کلب میں داخلہ دلوادیا، جہاں انہوں نے کوچ، انور سعید کی نگرانی میں باقاعدہ بیڈ منٹن کی تربیت لینا شروع کی۔ بعد ازاں، جونیئر کی سطح پر اپنی بڑی بہن ،فریال شہزاد کے ساتھ مقابلوں میں حصّہ لینا شروع کیا ۔ بد قسمتی سےفریال زیادہ دیر کھیل جاری نہ رکھ سکیں، مگر ماحور نےاپنی تمام تر توجّہ بیڈ منٹن پر مرکوز رکھی۔ 

انہوں نے 2017ء پہلی مرتبہ نیشنل بیڈ منٹن چیمپئن کا اعزاز اپنے نام کیا اور تب سے اب تک یہ چیمپئن شِپ جیتتی آرہی ہیں۔ واضح رہے، نیشنل چیمپئن بننے سے قبل ماحور شہزاد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نما ئندگی کا بھی اعزازحاصل کرچُکی تھیں۔ وہ 2009 ء میں تیرہ برس کی عُمر میں ’’نیشنل انڈر 19 ‘‘بیڈ منٹن چیمپئن بنیں ۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ اعزاز اپنی بڑی بہن فریال شہزاد کو شکست دے کر اپنے نام کیا۔ ماحور شہزاد 2 مرتبہ ایشین گیمز اور ایک مرتبہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمایندگی کر چُکی ہیں ۔

علاوہ ازیں، 2016ءمیں انٹر نیشنل ماسٹر سیریز میں سلور میڈل، جب کہ اگلے ہی برس اسی ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتا ۔ 2018ءمیں نیپال انٹر نیشنل میں گولڈ میڈل، 2019ءمیں ’’پاکستان انٹر نیشنل ماسٹر سیریز‘‘ میں گولڈ اور ڈبلز میں سلور میڈل اوراسی برس بلغاریہ سے برانز میڈل جیتا۔ یہی نہیں، کٹھمنڈو میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستان کی نمایندگی کی اور ٹیم ایونٹ میں پاکستان کو برانز میڈل جتوانے میں اہم کردار ادا کیااور اب ٹوکیو اولمپکس میں وائلڈ کارڈ انٹری پر مُلک کی نمایندگی کریں گی ۔

اس طرح وہ پہلی پاکستانی بیڈمنٹن پلیئر ہوں گی، جو اولمپک گیمز میں ایکشن میں نظر آئیں گی۔ کھیل کے ساتھ ساتھ ماحور شہزاد اپنی تعلیم پر بھی بھر پور توجّہ دیتی ہیں اور اسی لیےانہیں ’’ورلڈ بیڈ منٹن فیڈریشن‘‘ کی فُلی فنڈڈ اسکالر شپ کے لیے بھی چُنا گیا ہے ۔ 

گزشتہ دنوں ہم نے سنڈے میگزین کے سلسلے ’’میدان سے گھر‘‘ کے لیےقوم کی اس ہونہار بیٹی، ماحور شہزاد سے بات چیت کی۔ آئیے، آپ بھی اس میں شامل ہو جائیے۔

س: اہلِ خانہ سے متعلق کچھ بتائیں ؟

ج: ہم تین بہنیں ہیں ،جن میں میرا نمبر دوسرا ہے۔ ہم تینوں بہنوں کو کھیلوں سے بہت رغبت ہے۔ بڑی بہن ، فریال جونیئر سطح پر بیڈمنٹن کھیلتی تھیں۔ انہوں نے روئنگ بھی کی ہے ،جب کہ چھوٹی بہن، ربیعہ شہزاد پاور لفٹنگ سے منسلک ہے ۔ ربیعہ کئی بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمایندگی کر نے کے ساتھ کئی میڈلز بھی جیت چُکی ہےاور میرے اعزازات کا تو آپ کو علم ہی ہے۔

س: بہنوں کے ساتھ تو مقابلےکی فضا رہتی ہوگی؟ تینوں کی بانڈنگ کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

ج: جی! بہنوں کےساتھ خُوب مقابلہ رہتا ہے ۔ اِسی لیے کچھ خاص دوستانہ تعلقات نہیں۔ یوں بھی تینوں اپنے کھیلوں کی مشقوں میں اتنی مصروف رہتی ہیں کہ ایک دوسرے سے بات کرنےکا بھی زیادہ وقت نہیں مل پاتا ۔مَیں خود بھی اکیلی اور مصروف رہتی ہوں۔ بانڈنگ کے حوالے سے یہی کہوں گی کہ ہم بس بہنیں ہیں، سہیلیاں نہیں ۔

س: اپنی تعلیم سے متعلق بھی کچھ بتائیں ۔ کیا کھیل کی وجہ سے تعلیم متاثر ہو ئی؟

ج: مَیں نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ کھیل کی وجہ سے میری تعلیم متاثر نہ ہو ۔ 2018ء میں آئی بی اے سےاکاؤنٹنگ اینڈ فنانس میں گریجویشن کیا اور اب یونی وَرسٹی آف لندن سے اسپورٹس مینجمنٹ میں پوسٹ گریجویشن سرٹیفکیٹ کر رہی ہوں ۔ اس ڈگری کی اسکالر شِپ کے لیے مجھے’’ورلڈ بیڈ منٹن فیڈریشن‘‘ نے منتخب کیا اور میرے لیے اعزاز کی بات یہ ہے کہ اس اسکالر شِپ کے لیے 35 ممالک سے 70 درخواستیں بھیجی گئی تھیں، جن میں سے مجھے 100 فی صد فنڈڈ اسکالر شِپ کے لیے منتخب کیا گیا، لہٰذا فی الحال میری تمام تر توجّہ اسی سرٹیفیکیٹ کی طرف ہے۔

س: آپ بہنوں کوکھیلوں کا شوق کیسے ہوا ؟

ج: ہم نے اپنے والد، محمّد شہزاد کو بچپن ہی سےاپنی فٹنس پر بہت توجّہ دیتے دیکھا ۔ اُن کا مختلف کھیلوں سے خاصا لگاؤ تھا اور انہی کی وجہ سے ہماری بھی کھیلوں میں دل چسپی بڑھی۔ وہ روئنگ سے خاص طور پر منسلک رہے ہیں، جس میں انہوں نے پاکستان کی نمایندگی بھی کی ، تو بس انہیں دیکھ دیکھ کر ہمیں بھی فزیکل فٹنس کا شوق ہو گیا ۔ 

ہم بہنیں بھی اُن کے ساتھ ورزش کیا کرتی تھیں اور یوں ہمارا اسٹیمنا بہت اچھا ہو گیا ۔ بابا بیڈ منٹن بھی کھیلتے تھے ،اِس لیے میں نے کم عُمر ی ہی سے بیڈ منٹن کھیلنا شروع کر دیا ۔تو یوں کہیے، والد کی وجہ سے کھیلوں میں دل چسپی بڑھی ۔

س : والدین سے کیسا تعلق ہے ؟دونوں میں سے کس کے زیادہ قریب ہیں ؟

ج: والد کے ساتھ بہت اچھی ذہنی ہم آہنگی ہے ۔ ہر مسئلہ انہی سے ڈِسکس کرتی ہوں ، وہ بالکل دوستوں کی طرح ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن سے انہی کے ساتھ ٹریننگ کی، انہی کے ساتھ کھیلا ہے ۔ ہاں، ماما ہر وقت میرے لیے دُعائیں کرتی رہتی ہیںاور میری ڈائٹ کا بہت خیال رکھتی ہیں۔

س : گھر میں وقت کیسے گزرتا ہے ؟

ج: مَیں ہفتے کے چھے دن توبہت مصروف رہتی ہوں ، وقت گزرنےکا پتاہی نہیں چلتا ، لیکن اتوار بھرپور انجوائےکرتی ہوں ۔اتوار’’ فیملی ڈے‘‘ ہوتا ہے، صبح ناشتا کرنے باہر جاتے ہیں، پھر دادی سے ملنے جاتے ہیں اور انہیں اپنے ساتھ لے آتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ پورا دن ہنسی خوشی، بھر پور انجوائے کرتے ہوئے گزرے۔

س : بچپن کیسا گزرا ؟کچھ شرارتی تھیں یا سنجیدہ مزاج؟

ج: بچپن ہی سے گیمز کا شوق تھا ۔ ایکسرسائز اور فٹنس کی طرف رحجان رہا تو شرارتوں کا نہیں، بس فٹنس کا پتا ہوتاتھا کہ خود کو کیسے فٹ رکھنا ہے۔ مجھے بچپن میں سائیکلنگ کا بہت شوق تھا اور خُوب سائیکلنگ کرتی تھی۔

س : آپ کا نام، آپ کی شخصیت سے کتنا ملتا جلتا ہے ؟

ج: میرے نام کا مطلب ہے چاند کی حور اور مجھے لگتا ہے کہ میرا نام میری شخصیت سے بہت میل کھاتا ہے اورپھر لوگ بھی یہی کہتے کہ مَیں خوب صُورت ہوں ۔

س : اگر کھلاڑی نہ ہوتیں تو کیا ہوتیں ؟

ج: مَیں چارٹر ڈاکاؤنٹنٹ بننا چاہتی تھی ۔ میں نے انٹرن شِپ بھی کی اور اسی حوالے سے تعلیم بھی حاصل کر رہی تھی ، لیکن مجھے ایسا لگا کہ کھیل کی وجہ سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ نہیں بن سکتی ۔ اس لیے مَیں اپنا سارا دھیان بیڈمنٹن پر مرکوز کر دیا اور اب میراسفر کھیل کی دنیا ہی میں جاری ہے ۔

س : اور یہ سفر کیسا جا رہا ہے ؟

ج : سفر بہت اچھا جا رہا ہے ، لیکن ابھی تو بس شروعات ہی ہےکہ ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں میڈلز جیتنے ہیں ، اولمپکس میں میڈل جیتنا ہے اور بیڈ منٹن کی ٹاپ پلیئر بننا ہے۔

س : یہاں تک پہنچنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا؟

ج : کراچی میں مجھے ٹریننگ کے لیے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑاکہ یہاں بیڈمنٹن کے لیے کوئی مخصوص کلب نہیں ۔ پرائیویٹ کلب جانا پڑتا تھا ، جہاں کلب کے ممبرز کی وجہ سے ٹریننگ کا وقت کم ملتا تھا ۔ جب مَیں ٹریننگ کر رہی ہوتی تو کوئی ممبر آجاتا اور مجھے ٹریننگ ادھوری چھوڑنی پڑتی ۔پھر کوچز بھی نہیں ملتے تھے ،لیکن مَیں نے ہمّت نہیں ہاری ، مسلسل کوشش جاری رکھی اور آج آپ کے سامنے ہوں۔

س : فیملی سے کس حد تک تعاون ملا ؟

ج: میری فیملی بہت سپورٹنگ ہے، خاص طور پر بابا۔ چھوٹی ہی عُمر سے انہوں نے بہت حوصلہ افزائی کی۔ کبھی کسی بات پر نہیں ڈانٹا،ماما نے ڈائٹ کا بہت خیال رکھا اور آج انہی کی وجہ سے مَیں اپناکچھ نام بنا پائی ہوں۔

س : عموماً کرکٹرز کے علاوہ دیگر کھلاڑیوں کو شکوہ ہوتا ہے کہ وہ کرکٹرز کی طرح پیسا نہیں کما تے ،کیا آپ کو بھی یہ شکوہ ہے ؟

ج: بیڈ منٹن سےبھی پیسا کمایاجا سکتا ہے، لیکن شاید اتنا نہیں ،جتنا کرکٹ سے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے بڑے اداروںکی بیڈ منٹن ٹیم ہو ۔ اس وقت توصرف دو شعبہ جات بیڈ منٹن کوسپورٹ کر رہے ہیں ۔ ٹیمیں زیادہ ہوں گی تو ایونٹس زیادہ ہوں گے، اسپانسرز آئیں گے اور پھر کھلاڑیوں کو بھی مالی طور پر فائدہ ہوگا ۔

س : کیا آپ سمجھتی ہیں کہ آپ اپنے ٹارگٹ کی جانب بڑھ رہی ہیں ؟

ج : نہیں،مَیں سمجھتی ہوں کہ فی الحال میرا لیول ایک جگہ آکر رُک گیا ہے ۔ مجھے اس میں بہتری لانی ہے اور یہ بہتری اُسی وقت آسکتی ہے، جب مَیںخود سے بہتر کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلوں ۔ ان دنوں کووِڈ کی وجہ سے باہر جانا بھی اس قدر آسان نہیں رہا ۔بہر حال، مَیں بیرونِ مُلک ٹریننگ کر کے اپنے کھیل میں مزید بہتری لانے کی خواہش مند ہوں ۔

س : گھر کاکچھ م کاج بھی کرلیتی ہیں ؟

ج: گھر کے کاموں کے لیے وقت نہیں ملتا ، لیکن جب گھر میں کوئی دعوت وغیرہ ہو تو ماماکا ہاتھ ضروربٹاتی ہوں ۔

س : کوکنگ کا شوق ہے ؟

ج : نہیں ،مجھے کوکنگ کاکوئی شوق نہیں ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بچپن سے بس کھیل کا شوق رہا ہے، تو اُسی پر توجّہ مرکوز رکھی۔

س : والدہ سے کسی بات پر ڈانٹ پڑتی ہے ؟

ج: ہاں،جب ٹریننگ یا کسی ایونٹ سے واپس آکر اپنی چیزیں ادھر اُدھر پھینکتی ہوں ، تو ماما ڈانٹتی ہیں۔

س : شاپنگ کا شوق ہے ؟

ج : ویسے تو میری زیادہ تر کوشش یہی ہوتی ہے کہ کھیل کا سامان خریدوں، لیکن اکثر کپڑے اور جوتے بھی خریدتی ہوں ۔

س: غصّہ آتا ہے اور اگر آتا ہے تو کس بات پر ؟

ج : مجھے بہت غصّہ آتا ہے ۔ مَیں کسی کے ساتھ نا انصافی ہوتے نہیں دیکھ سکتی ،خصوصاً جب لڑکیوں کے ساتھ کہیں امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، تو مجھے اس پر بھی بہت غصّہ آتا ہے۔

س : لوگوں سے گُھلنا ملنا پسند ہے؟

ج : بالکل نہیں ۔ مَیں بس خود ہی اپنی دوست ہوں ۔یوں بھی کھیل کی وجہ سے اتنا وقت ہی نہیں مل پایا کہ سہیلیاں بناتی ۔

س : سوشل میڈیا پر کتنی ایکٹیو ہیں ؟

ج: پہلے سوشل میڈیا سے بالکل لگاؤ نہیں تھا ، لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ استعمال کرنا پڑ رہا ہے کہ آج کل زمانہ ہی سوشل میڈیا کا ہے اور آپ کو زمانے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ۔

س : دوسروں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ رکھتی ہیں ؟

ج: مَیں بہت خیال رکھنے والی لڑکی ہوں ۔کسی کو پریشان نہیں دیکھ سکتی ۔ نرم دل ہوں ، بہت جلد اعتماد کر لیتی ہوں اور ہر وقت مدد کے لیے تیار رہتی ہوں ۔

س: بڑی بہن نے کھیل کو خیرباد کیوں کہہ دیا؟

ج: مَیں نے اور فریال نے ایک ساتھ بیڈ منٹن کھیلنا شروع کیا تھا ۔ جونیئر کی سطح پر ایک ساتھ شرکت کی، ڈبلز میں بھی ایک ساتھ کھیلتے تھے، لیکن سنگلز میں جب بھی مَیں اور فریال آمنے سامنےہوتے تو اکثر مَیںجیت جاتی تھی ۔ 

انٹر اسکول مقابلوں کے بعد جب مَیں نے نیشنل جونیئر بیڈ منٹن چیمپئن شپ میں کم عُمر ہونے کے باوجود ان سے کام یابی حاصل کی تووہ بیڈ منٹن سے الگ ہو گئیں اور انہوں نے روئنگ شروع کر دی ۔ پھر مَیں بھی روئنگ کرتی تھی ، یہاں بھی انہیں شکست دی تو انہوں نے کھیل ہی کو چھوڑکرپڑھائی پر فوکس کر لیا ۔

س: والد ہی آپ کے کوچ کیوں ہیں؟

ج: ویسے تو میرے والد بزنس مین ہیں ،لیکن پر وہ جونیئر کی سطح پر بیڈ منٹن بھی کھیلتے رہے ہیں ۔ اس لیے مَیں نےبیڈمنٹن کی ابتدائی کوچنگ انہی سے لی ۔بابا بیڈمنٹن کے بعد روئنگ میں چلے گئے ، جہاں انہوں نے پاکستان کی نمایندگی بھی کی ۔

اب وہ ماسٹرز کیٹگری کے بین الاقوامی مقابلوں میں حصّہ لیتے ہیں ۔ بابانے 2019 ءمیں آسٹریلیا میں ہونے والے روئنگ کے ماسٹرز مقابلوں میں برانز میڈل بھی جیتا۔ اور مَیں سمجھتی ہوں کہ مَیں خوش قسمت ہوں کہ میرے والد، میرے کوچ ہیں۔