• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بالآخرامریکا بہادر نے افغانستان سے بوریا بستر باندھنا شروع کردیا ہے۔ایک اندازے کے مطابق امریکا کی جانب سے وہاں تھوپی گئی جنگ میں بیس برسوں کے دوران اس کے دس کھرب ڈالرزسے زایدخرچ ہوئے۔لیکن یہ بات پورا سچ نہیں ہے۔درحقیقت اس نےوہاں قبضہ رکھ کراس رقم سے کہیں زیادہ دوسروں کی جیبوں سے اینٹھااور جو دیگر سیاسی اور اقتصادی مفادات حاصل کیے وہ علیحدہ ہیں۔

اس نے افغانستان کا ڈراوا دے کر کسی سےوہاں جنگ کے نام پر فنڈ اورکسی سے فوجی اڈّے اور انہیں چلانے کا خرچہ لیا،کسی کو اسلحہ فروخت کرکے اپنی وار انڈسٹری کو سرمایہ اور امریکیوں کو ملازمتیں فراہم کیں،کم ازکم تین اسلامی ممالک ، ایران ، عراق اور لیبیا کی تیل کی صنعت کو بالخصوص اور ان ممالک کو بالعموم تباہ کردیا۔اس کے علاوہ پاکستان کی اس جنگ میں شمولیت کی وجہ سے اسے نہ صرف شدید اقتصادی نقصان پہنچابلکہ اس فیصلے کے نتیجے میں ہونے والی دہشت گردی اور لاقانونیت کی وجہ سے ملک کا پورا سماجی ،سیاسی اور نفسیاتی ڈھانچا تباہ ہوگیا ،تہتّر ہزار افراد جانوںسےگئے۔ مہاجرین کابوجھ اور اس کے مختلف اقسام کے اثرات اس کے علاوہ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وہاں تعینات انداز ًڈھائی تا تین ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ نیٹو کے سات ہزار فوجیوں کابھی انخلا شروع ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا کے صدر جو بائیڈن نے پندرہ اپریل کو اپنے بیان میں یکم مئی سے انخلا کا عمل شروع کرنے اورگیارہ ستمبر سے قبل اسے مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس سے قبل یہ عمل مئی کے مہینے میں مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔نئے اعلان پرطالبان نے اسے وعدہ خلافی قرار دیا تھا اور امریکا کو اس کے سخت نتائج کی دھمکی دی تھی۔

وہاں قبضہ بر قرار رکھنےکےامریکی منصوبے کی وجہ سے بیس برسوں میں اس کے دو ہزار چار سو بیالیس فوجی ہلاک اوربیس ہزارچھہ سو چھیاسٹھ زخمی ہوئے۔ نیٹو کوایک ہزار ایک سو چوّالیس جانوں کا نقصان برداشت کرناپڑا ۔ دوسری جانب افغانستان نےان بیس برسوں میںبہت زیادہ جانی اور مالی نقصان اٹھایا۔بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ افغانستان تو پہلے ہی پس ماندگی کی دلدل میں دھنسا ہوا تھا،لہذا وہاں کیا نقصان ہونا تھا۔لیکن ان حلقوں کو کون سمجھائے کہ امریکا کے بیس برس تک وہاں جاری رہنے والے ناجائز قبضے سے ایک تو افعانوں کا امریکیوں اور نیٹو کی افواج کے مقابلے میں کہیں زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا ۔

دوم، ان کی زمین، پہاڑ، آبی ذخائر اور ماحولیات بے تحاشا برسائے گئے بارود سے بُری طرح آلودہ ہوچکے ہیں۔سوم ،ان کی کئی نسلیں تباہ ہوچکی ہیں۔چہارم ،ان کی نفسیات پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پنجم ، ان بیس برسوں میںیہ ملک جو ترقی کرسکتا تھا وہ اس سے محروم کردیا گیا،وغیرہ وغیرہ۔یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جنگ سے صرف اقتصادی اور جانی نقصانات نہیں ہوتے ،بلکہ یہ متاثرہ ملک کے ہر شعبے کے تاروپود بکھیر دیتی ہے۔

جو بائیڈن کی جانب سے فوجی انخلا کے اعلان کے فورا بعد امریکی وزیر خارجہ نے کابل کا دورہ کر کے کہا کہ ہمارے مقاصد پورے ہو گئے ہیں، القاعدہ، جس کے خلاف جنگ کا آغاز کیا گیا تھا ،اب افغانستان میں مؤثر نہیں رہی ہے۔ لیکن کیا یہ بات اتنی ہی سادہ ہے؟ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ امریکا کے پالیسی ساز اور دانش ور بھی اس کا ادراک رکھتے ہیں کہ بیس سال قبل ان کی بش انتظامیہ نے پاکستان کے فوجی آمر ،پرویز مشرف کی غیر مشروط مدد اور بھرپور تعاون کے ساتھ افغانستان پر فضائی قوت کے ساتھ جو حملہ کیا اور بعد میں نیٹو کے ساتھ مل کر ایک لاکھ سے زاید برّی فوج اتاری تھی، اس کے نتیجے میں القاعدہ کی میزبان، طالبان کی حکومت ختم ہو گئی تھی ۔ لیکن ان ہی طالبان نے واحدسُپر طاقت کے خلاف طویل مزاحمتی جنگ لڑی۔امریکا انہیں شکست دینے میں ناکام رہا۔ اب امریکا وہاں سے نکلتا چاہتاہے اور دوسری جانب طالبان ایک مرتبہ پھروہاں اپنی حکومت قایم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

ان حالات میں امریکیوں کی خواہش ہے کہ طالبان ان کی مرضی کے کسی سمجھوتے پرراضی ہوجائیں ، لیکن فریقِ مخالف کا رجحان کچھ اور نظر آرہا ہے۔وہ امریکی فوج کے غیرمشروط انخلا کے مطالبے پر ڈٹا ہوا ہے ۔ جو موقف ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت نے اپنایا ہوا ہے اورجس بات کا طالبان مطالبہ کررہے ہیں، اس میں مفاہمت کی کوئی راہ نکلتی نظر نہیں آرہی۔ اب پاکستان اور افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر طالبان نے واقعی وہاںدوبارہ حکومت قائم کر لی (جس کے امکانات موجود ہیں)توبہت کچھ بدل سکتا ہے اور بہت کچھ بگڑ سکتا ہے۔

بعض حلقوں کا موقف ہے کہ ایسا ہونے کی صورت میں خِطّےمیں امریکا کے اثرورسوخ کو بری طرح دھچکا لگے گا۔یہ خلا پورا کرنے کے لیے عوامی جمہوریہ چین،جو آج کی عالمی سیاست میں امریکا کا بہت بڑا حریف ہے، آگے بڑھ سکتا ہے۔پاکستان افغانستان کا قریب ترین ہم سایہ ملک ہے، اس کی مدد کے بغیر امریکا بیس سالہ جنگ کا آغاز کر سکتا تھا اور نہ اسے جاری رکھ سکتا تھا۔اب اسے وہاں سے اپنی فوج نکالنےمیں بھی ہماراتعاون درکار ہے۔

امریکاکے انخلا کے بعد وہاں جو سیاسی خلاپیدا ہوتا ہوا نظر آرہا ہے اسے پُر کرنے کے لیے طالبان کا کابل کی امریکا نواز ،اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ کسی قابل عمل معاہدے پر اتفاق کرانے کے لیے ترکی میں چوبیس اپریل تا چار مئی ،دس روزہ کانفرنس کے انعقاد کا پروگرام بنایا گیاتھا۔ اقوام متحدہ کے علاوہ اس کانفرنس کی کام یابی کے لیے ترکی، قطر اور پاکستان کا تعاون بھی حاصل کیا گیا تھا۔ مگر آخری لمحات میں اس کے التواء کا اعلان کر دیا گیا، کیوں کہ طالبان نے اس میں شرکت کرنے سے صاف انکار کر دیاتھا۔وہ کہتے ہیں کہ امریکی اپنے وعدے کے مطابق ان کی سرزمین سے چلے جائیں، اس کے بعد وہ جانیں اور ان کا ملک۔

دوسری جانب امریکاکے بعض پالیسی سازوں اور یورپ کےکئی ممالک کا خیال ہے کہ اگر سمجھوتے یا معاہدے کو ممکن بنائے بغیر ان کی افواج نے افغانستان چھوڑ دیا تو یہ ملک سخت خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔اور اگر وہاں ایسا ہوا توچین اور روس آرام سے نہیں بیٹھیںگے اوروہاں کسی شکل میں مداخلت کرسکتے ہیں۔بعض حلقے یہ سوال بھی کررہے ہیںکہ طالبان کی حکومت قایم ہونے کی صورت میں کیا بعض اندرونی عناصر اور باہر کی طاقتیں ، مثلا بھارت اور ایک دو ہم سایہ ریاستیں اسے چلنے دیں گی اور اسے غیرمستحکم کرنے اور خانہ جنگی کی چنگاریاں بھڑکانے کی کوششیں نہیں کریں گی؟

یاد رہے کہ طالبان اندرون افغانستان اپنے ملک کی سب سے بڑی آبادی کے حامل اور زبردست لڑاکا ہونے کے باوجود بھاری تعداد میں پشتون ہونے کی بنا پر کُل آبادی کا اڑتالیس فی صدہیں۔باقی چالیس فی صد سے زاید تاجک اور ازبک ہیں۔پھر شیعہ اورہزارہ برادری کے لوگ بھی ہیں۔ 1996میں طالبان کی پہلی حکومت قایم ہوئی تو تاجک اور ازبک نسل کےلوگ تادمِ آخر اس کے مخالف رہے تھے۔بعض حلقے ان پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نےبھارت اور ایران سے مل کر طالبان کی حکومت غیرمستحکم کرنے کی کوششیں جاری رکھی تھیں۔

پاکستان ،طالبان کو سمجھانے اور اشرف غنی کی حکومت سے ان کا کوئی معاہدہ کرانے کی اپنی سی کوششیں کرچکا ہے،جو تاحال ناکام نظر آتی ہیں۔ اشرف غنی طالبان کی کارروائیوں یا پھر مذاکرات کے بارےمیں ان کے بے لچک رویے کے لیے پاکستان ہی کو موردالزام ٹھہرا رہے ہیں۔دوسری طرف یہ کہا جاتاہے کہ امریکا پاکستان پر دبائو ڈال رہاہے کہ وہ طالبان کو جنگ بندی اور ترکی میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادہ کرے، لیکن طالبان ماننے کو تیار نہیں ہیں۔وہ مذاکرات کی کام یابی سے قبل جنگ بندی پرتیار نہیں۔ ترکی کی مجوّزہ کانفرنس میں وہ اس شرط پر شامل ہونے کو تیار ہیں کہ بلیک لسٹ سے ان کے لوگوں کے نام خارج کیے جائیں اور کانفرنس مختصر ہو۔

طالبان،پاکستان سے اس بات پر ناراض بتائے جاتے ہیں کہ اس نے ماسکو میں روس، امریکا اور چین وغیرہ کے ساتھ امارات اسلامیہ کی بحالی کی مخالفت کی ہے ۔ان کا موقف ہے کہ پاکستان انہیں سیاسی حل پر آمادہ کرنے کے بجائے ان کی مرضی کے حل میں ان کے ساتھ تعاون کرے ۔وہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کو افغان امن عمل کاحصہ بنانے کے بھی مخالف ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان ایسے کسی عمل کی حمایت نہ کرے جس میں یہ عناصر شامل ہوں۔دوسری طرف اشرف غنی کی حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان طالبان کو اس بات پرآمادہ کرے کہ وہ موجودہ افغان سیٹ اپ کا حصہ بن جائیں۔

ادہر چھبّیس مئی کو طالبان،افغانستان کے ہم سایہ ممالک کو خبردارکرچکے ہیں کہ وہ امریکا کو اپنے ہاں فوجی اڈّے دینے سے باز رہیں،اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ اس ’’تاریخی غلطی‘‘ کو ناکام بنا دیں گے۔یہ انتباہ ایسے وقت پر سامنے آیا تھاجب یہ اطلاعات آئیں تھیں کہ امریکا،پڑوسی ملک پاکستان سے نئے فوجی اڈّوں کے حصول کے لیے بات چیت کررہا ہے اور وہ انہیں مستقبل میں افغانستان میں طالبان کے خلاف فضائی کارروائیوں کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔اس تناظر میں طالبان نے اپنے بیان میں کہا تھا:’’ہم ہم سایہ ممالک پر زوردیں گے،وہ کسی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہ دیں۔اگر ایک مرتبہ پھریہ اقدام اٹھایاجاتا ہے تو یہ ایک تاریخی اور بڑی غلطی ہوگی۔اگر اس طرح کی سنگین اور اشتعال انگیزغلطی کا ارتکاب کیا جاتا ہے تو وہ خاموش نہیں رہیں گے‘‘۔تاہم بیان میں کسی ملک کا نام نہیں لیا گیاتھا۔

واضح رہے کہ پاکستان سمیت افغانستان کے کئی ہم سایہ ممالک نے 2001ء کے بعد امریکی فوج کو اپنے فضائی اڈّے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔اس کے علاوہ بعض ممالک نے امریکاکو افغانستان میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی بھی اجازت دی تھی۔

ان حالات میں پاکستان نے امریکا کے ساتھ ایک نئی ڈیل سے متعلق مقامی ذرایع ابلاغ کی رپورٹس مسترد کردی تھیں۔اس ضمن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمان کے ایوان بالامیں ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ’’یہ خبر(امریکا کو فوجی اڈّہ دینے سے متعلق)بے بنیاد اور قیاس آرائی پر مبنی ہے۔میں اس ایوان میں یہ بات واضح کردینا چاہتاہوں کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان اپنی سرزمین پر کسی امریکی اڈّے کے قیام کی اجازت نہیں دے گا۔‘‘

دراصل افغانستان سے انخلاکے بعد بھی امریکا اس پر نظر رکھنا چاہتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ وہاں القاعدہ اورداعش کوپھر سے طاقت حاصل کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتا۔اسی ضمن میں چھبّیس اپریل کو امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈکے سربراہ جنرل کیتھ ایف میکنزی نے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے دوبارہ فعال ہو جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھاکہ یہ خِطّے کے ملکوں،خاص طور پر پاکستان کے لیے شدید تشویش کی بات ہے۔افغانستان سے امریکی اور نیٹو کی فوجوں کے انخلا کے بارے میں امریکی وزارتِ دفاع میں ذرایع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ ان تنظیموں کا افغانستان میں دوبارہ فعال ہو جانے کا امکان، وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔

جنرل میکنزی نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد اگر دباؤ برقرار نہ رکھا گیا تو القاعدہ اور دولت اسلامیہ افغانستان میں دوبارہ منظم ہو سکتی ہیں۔ یہ دباؤ افغان حکومت کی طرف سے ڈالا جا سکتا ہے، لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں افغان حکومت کے خد و خال کیا ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے بھی یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان تنظیموں کو افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔

افغانستان میں پیدا ہونے والی صورت حال پر پاکستان کے بھی کچھ خدشات ہیں اور اسلام آباد چاہتا ہے کہ امریکا سمیت عالمی برادری ان خدشات پر غور کرے ۔پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کی جائے، وہاں بھارت کا اثر و رسوخ محدود کرنے کی ضرورت ہے اور ملک میں موجود افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا مسئلہ بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

بہت سے سیاسی مبصّرین کو ڈر ہے کہ وہاں دوبارہ خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے اور طالبان ان علاقوں پر بھی قبضہ کرسکتے ہیں جہاں فی الحال ان کی قوت کم ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ طالبان دوبارہ افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر سکتے ہیں۔یاد رہے کہ 1996میںطالبان نے افغانستان میں حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت پاکستان ان تین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ لیکن اب صورت حال مختلف ہے۔ پاکستان نے کھل کریہ اظہار کیا ہے کہ وہ اس خیال کی حمایت نہیں کرتا کہ طالبان کابل میں دوبارہ اقتدار پر قابض ہو جائیں۔ 

اس بیان نے طالبان کو خوش نہیں کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے افغانستان سے غیر مشروط انخلاکی وجہ سے پاکستان مشکل گھڑی سے گزر رہا ہے۔کابل کی حکومت پاکستان پر اعتماد نہیں کرتی اور اپنی ناکامی کا ذمّے دار اسلام آباد کو قرار دیتی ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن موجودہ امن عمل میں پاکستان کا کردار تسلیم تو کرتا ہے مگر مکمل طور پراس ملک پر اعتماد نہیں کرتا۔پھر یہ کہ اب طالبان پاکستان سے اتنا قریب نہیں ہیں جتنے ماضی میں ہوا کرتے تھے۔چناں چہ پاکستان مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔