• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اطہرحسین نقوی

دور حاضر میں فائن آرٹس مختلف شعبوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے، جس میں کائنات کے ہر رنگ کوسمو کر رکھ دیا ہے فائن آرٹس کے ایک لیکچرار نے فائن آرٹس کی وضاحت کچھ اس طرح کی کہ ’’بچپن میں جب بچے مختلف رنگوں، کوئلے ، چاک سے اور پنسل سے بے ترتیب طریقوں سے اپنے ذہن کے مطابق کاغذ پر زمین پر در و دیوار پر آڑھی ترچھی لیکریں اور بگڑی ہوئی اشکال بنا رہے ہوتے ہیں اور ان پر نقش و نگاری کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت والدین اور دیگر افراد ان حرکتوں سے محظوظ ہوتے ہیں اور والدین اس طرف توجہ نہیں دیتے کہ بچےکے معصوم ذہن میں کیا ہے بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بچے کا دھیان صرف پڑھائی کی طرف ہو اس کے برعکس بچوں کی توجہ پڑھائی کی طرف کم اور دیگر مشاغل کی طرف زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔

جب یہی بچے نوعمری کی طرف آتے ہی اور ان کی چھپی صلاحیتیں ابھرنا شروع ہوجاتی ہیں تو اس وقت والدین کو احساس ہونے لگتاہے کہ بچے کی دلچسپی فائن آرٹس کی طرف بہت زیادہ ہے، پھر وہ ایسے اسکول کا انتخاب کرتے ہیں، جہاں ان علوم کی باقاعدہ تعلیم بہتر اساتذہ کی نگرانی میں دی جاتی ہو، تاکہ وہ اپنی مطلوبہ خواہش کے مطابق جس شعبہ کو منتخب کر رہا ہے، اس میں اس کی ذہنی صلاحیتوں کے حساب سے تعلیم دی جائے۔

فائن آرٹس اک تصوراتی علم کی حقیقی شکل ہے، جس میں انسان اپنی صلاحیتوں سے کرہ ارض یر پھیلی ہوئی پوشیدہ رموز کو اپنے تخلیاتی احساسات کو اک جدید طرز کے ساتھ سامنے لاتا ہے عام نہم میں آج کی دنیا اس علم کو بہت آسان سمجھتی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے یہ دیگر علوم کے مقابلے میں یکتہ اور بہت گہرا علم ہے ،اس میں وہی کامیاب ہو سکتے ہیں جو غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں، جس میںوہ اپنے فن کے ذریعہ اک آرٹ کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

عہد حاضر میں پاکستان سمیت کئی ممالک میں فائن آرٹس کے اسکول، کالج، یونیورسٹیاں اور دیگر ادارے موجود ہیں ،جبکہ اگر ماضی کے تناظر میں فائن آرٹ کے نوجوانوں اور طالب علموں کی دلچسپی کا جائزہ لیا جائے تو اس آرٹ کی نشوونما 13ویں صدی سے شروع ہو چکی تھی اٹلی کے نوجوانوں نے فائن آرٹس کی تعلیم کےلئے اسکول کھلنے اور ابتداء میں نوجوانوں اور طالبعلموں کو ان کے شوق کو دیکھتے ہوئے مصوری، شاعری، موسیقی اور رقص کےلئے باقاعدہ تجربہ کار افراد کی خدمات حاصل کی گئی رفتہ رفتہ نوجوان نسل کے مشاغل بڑھتے گئے اور فائن آرٹ کا دائرہ وسیع ہونا شروع ہو گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں رونما ہوتی گئیں۔ 

مغربی دنیا میں فائن آرٹ کے طالب علموں کے فن پارے جب دیگر ممالک تک جانے لگے تو 1975ء میں چند مصوروں نے مل کر نیشنل سوسائٹی برائے آرٹس تشکیل دی، تا کہ نوجوان نسل اور ان کے نمائندوں کے لئے ایک پلیٹ فارم تیار کیا جا سکے اور اسی سال 1875میں برطانوی حکومت نے نوجوانوں کے شوق اور جذبوں کے دیکھتے ہوئے لاہور میں ’’میو اسکول آف آرٹس‘‘ کی بنیاد رکھی اور یہ قدیم ادارہ آج بھی لاہور میں موجود ہے اور 1958میں اس کا نام تبدیل کر کے نیشنل کالج آف آرٹس رکھا گیا جو کہ پاکستان کا ایک فائن آرٹ کا بہت بڑا ادارہ ہے، جہاں پاکستان بھر کے طالب علم اور نوجوان کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں اس ادارے میں داخلہ مل جائے۔

فائن آرٹ کی ترقی میں 1908ء سےلےکر موجودہ دور تک بہت کام کیا گیا ہےبہت سے ممالک میں فنون لطیفہ کے فروغ کو بہت زیادہ اہمیت دی اور اسے باقاعدہ تعلیم کا درجہ دیا گیا۔ جنگ دوئم کے خاتمے کے بعد فائن آرٹس کے وسیع تر شعبہ سے وابستہ نوجوان بہت بڑی تعداد میں اس شعبہ جات کی طرف راغب ہو رہے تھے وہ اپنی صلاحیتوں کو کسی نہ کسی طرح سامنے لانا چاہتے تھے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے مختلف مغربی اور مشرقی ممالک کے ساتھ ساتھ ایشیائی ریاستوں میں بڑی تعداد میں اسکول، کالج، جامعات اور دیگر ادارے حکومتی سطح پر کھلنے شروع ہوگئے لہٰذا اس بڑھتے ہوئے سیلاب کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں اور طالب علموں کو اک پروفیشنل آرٹسٹ بننے کے لئے فائن آرٹس کی ڈگری کو اہم قرار دیا گیا۔

شہر کراچی میں نوعمر نوجوانوں اور بچوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے محترمہ رابعیہ زبیری صاحبہ نے 1964ء کو اسکول آف آرٹ کی بنیاد رکھی جو کہ پہلا باقاعدہ پرائیویٹ فائن آرٹ کا سینٹر تھا ،جس میں اس سبے متعلق کافی مفید اور معیاری مواد موجود تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ فائن آرٹ کے طالب علموں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہ واحد شعبہ ہے جس میں عمر کی کوئی قید نہیں ۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں فائن آرٹ سے متعلق اسکول، کالج، جامعات اور دیگر پرائیویٹ ادارے موجود ہیں۔

فائن آرٹ جیسے حرف عام میں فنون لطیفہ کہا جاتا ہے دراصل حقیقی معنوں میں یہ کئی شعبوں کا اک مجموعہ ہے، جس کی لاتعداد شاخیں ہیں یہ نوجوان نسل کی سوچ کا محور ہے کہ وہ کیا پسند کرتا ہےاور ذیل میں درج کس شعبے کا انتخاب کرتا ہے۔

-1 تھیٹر۔ -2موسیقی، -3 مصوری، -4مجسمہ سازی، -5 فوٹو گرافی، -6 پیٹنگ، -7 خطاطی، -8 دستکاری، -9 ڈرامہ نگاری، -10 کارٹونسٹ، -11 فن تعمیر، -12 سرامک ڈیزائن، -13 فیشن ڈیزائن، -14 ہوم ڈیکوریشن، -15 پروڈکشن، -16 تحریر و تقریر (صدا کاری)

اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کی آمد کے بعد فائن آرٹس کے شعبے میں بھی اک انیا انقلاب اور جدت پیدا ہوئی ہے ڈیزائن اور فیشن، فن تعمیر، ملٹی میڈیا سے وسیع شعبہ جات میں ہمارے نوجوانوں کی بہت زیادہ دلچسپی نظر آ رہی ہے۔ پاکستانی فائن آرٹس کے طلبا اور طالبات بین الاقومی سطح پر قائم مختلف اداروں سے اپنی صلاحیتوں کو نہ صرف منوا رہے ہیںبلکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے ۔ پاکستانی اساتذہ اپنی ثقافت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے طالب علموں کو نت نئی اختراع کو سمجھانے اور سیکھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ 

یہ ہمارے ملک کی خوش قسمتی ہےکہ ہمارا نوجوان بنیادی طور پر اپنے اندر کی موجود فنی صلاحیتوں کو ذہن کے مخفی خانے میں محفوظ کرتا رہتا ہے اور ان صلاحیتوں کو فروغ جب ہی ملتا ہے جب فائن آرٹس کے شعبہ جات کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے بعد مشاہدات کی روشنی میں اپنی مہارت کے ذریعہ اپنی تخلیق کے عمل کو سب ا کے سامنے پیش کرتا ہے تا کہ معاشرے کی حقیقی معنوں میں عکاسی نظر آ سکے ،جب ہماری نوجوان نسل کے نمائندے کوئی شاہکار تخلیق کر کے کسی آرٹ گیلری یا نمائش میں پیش کرتے ہیں تو ان تو مختلف مکاتب فکر کے افراد کے علاوہ نوجوانوں کی بڑی تعداد تخلیق کی گئی فکر اور اس کی سحر انگیزی میں گم ہو جاتے ہیں اور یہی فائن آرٹ کے نوجوان کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔

یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب مختلف جامعات، ادارے اور سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد فائن آرٹس سے منسلک قابل، ہونہار محنتی ڈگری یافتہ یا ڈپلومہ ہولڈر کوا یک اچھا پیکیج کی آفر دے کر اپنے اداروں کے لئے منتخب کرتے ہیں اور خواہش ہوتی ہے کہ ایسے طالب علم اور آرٹسٹ اپنی خدمات ان کے اداروں کےلئے وقف کر دیں۔ 

اس سے فائن آرٹس میں روزگار اور ترقی کے اچھے مواقع میسر آتے ہیں۔لاک ڈاؤن میں جب بہت سے لوگ بے روز گار ہوگئے ہیں، وہیںنوجوان بھی ڈگریاں ہاتھوں میں لیے مارے مارے پھر رہے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ برسرروزگار نوجوان بھی بھی بے روز گار ہوگئے ۔ ایسے میں وہ نوجوان جو فائن آرٹ کے کسی شعبے میں دل چسپی رکھتے ہیں، اپنا کر اپنے لیے روزگار کے ذرائع پیدا کرسکتے ہیں۔