• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اسمبلی کمیٹی توانائی کا اجلاس، بجلی لوڈشیڈنگ کیخلاف ارکان کا شدید احتجاج

اسلام آباد (ناصر چشتی / نمائندہ جنگ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پاور کا اجلاس جمعرات کوچوہدری سالک حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا بجلی لوڈشیڈنگ کیخلاف ارکان کا شدید احتجاج ، سیکریٹری توانائی نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ کل تک لوڈ شیڈنگ کو شیڈول پر لائیں گے،ا گلے ماہ دوبارہ بجلی بحران کا خدشہ ہے۔ اجلاس میں ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ارکان کا موقف تھا جگہ جگہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے،حکومت صورتحال کی بہتری کے لئے فوری اقدامات کرے۔ ارکان نے وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کی عدم موجودگی پر بھی احتجاج کیا اور سرکاری ایجنڈا پر بات کرنے سے انکار کیا۔ ارکان کمیٹی کاموقف تھا کہ حلقے کے عوام کو کیا جواب دیں ہمیں بتایا گیا تھا کہ بجلی سر پلس ہے سیکرٹری پاور نے اجلاس کو بتایالوڈ شیڈنگ کی بنیادی وجہ طلب اور رسد میں فرق ہے ان دنوں سکولز بند ہوتے تھے سکول کھلنے سے طلب بڑھی ہے ۔ تربیلا ٹربائن کی مرمت سے بھی تین ہزار کا شارٹ فال آیا ،ٹرین حادثہ بھی بجلی کے شارٹ فال کی وجہ بنا ۔اجلاس کو بتایا گیا ٹرینیں رکنے سے ساہیوال پاور پلانٹ کو کوئلے کی سپلائی نہ ہوئی۔ شبیر قائم خانی نے اجلاس کو بتایا کہ پورا کراچی متاثر ہو رہا ہے بجلی کا بحران ہے پوری صنعت بند ہے عوام کا گرمی میں برا حال ہوگا ۔سیکرٹری توانائی نے اجلاس کو بتایا کا ملک میں دو ہزار میگاواٹ بجلی کا شارٹ فال ہے تین دن سے بجلی کی بلا تعطل فراہمی میں مشکلات ہیں طلب میں اچانک اضافہ ہوا ،تکینکی مسائل بھی پیدا ہوئے ۔ کل تک لوڈ شیڈنگ کو شیڈول پر لائیں گے بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلئے کراچی کی بجلی کاٹی گئی شارٹ فال پورا کرنے کیلیے کے الیکٹرک سے بجلی لی ۔سیکرٹری پاور نے اجلاس کو بتایا کہ جولائی میں دوبارہ بجلی بحران کا خدشہ ہے۔ شازیہ مری نے کہا ملک میں لوڈ شیڈنگ مہنگائی سے عوام کا براحال ہےدوسرا اجلاس ہے وزیر توانائی تشریف نہیں لائے ،ممبران کو اس کمیٹی کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ۔قائمہ کمیٹی نےحماد اظہر کی غیر حاضری پر حکومتی ایجنڈا لینے سے انکار کر دیا ۔سی ای او پیسکو نے اجلاس کو بتایا کہ کے پی میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ لائن لاسز ہیں پیسکو کے تمام فیڈرز پر لائن لاسز 80فیصد سے زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا 124ارب کی ریکوری بقایا ہے ۔بجلی تو استعمال کرتے ہیں ،بل نہیں دیتے ۔بجلی پیسوں سے بنتی ہے مفت نہیں ،میٹرلگوانے کوئی نہیں آتا کنڈے سب ڈال دیتے ہیں ۔متعدد ارکان نے شکایت کی کہ دور دراز علاقوں میں خراب ہونے والے ٹرانسفامر زکو تبدیل نہیں کیا جاتا اس سلسلہ میں رشوت لی جاتی ہے جس پر سیکرٹری پاور نے کہا کہ وہ ایسے واقعات کی انکوئری کرائیں گے ۔چیئرمین نے ہدیت کی کہ اگلے اجلاس میں لوڈشیڈنگ پر مکمل بریفنگ دی جائے اور عوام کی مشکلات کو دور کیا جائے۔

اہم خبریں سے مزید