• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پولیس کی جرائم کے خلاف کامیاب کارروائیاں

شہر میں مختلف جرائم کو روکنے کے لیے یُوں تو کراچی پولیس کے سو سے زائد تھانے ہیں اور ان تھانوں میں موجود نفری بھی یکساں ہے ، سابق ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کی جانب سے ان ہی تھانوں میں سے کچھ کو ماڈل تھانے بنائے گئے، ان کی کارگردگی کو بہتر بنانے کے لیے چیک اینڈ بیلنس بھی رکھا گیا اور اب ان کے تبادلے کے بعد حال ہی میں آنے والے ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب منہاس نے بھی تھانے داری نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوشش شروع کردی ہے۔ ان تھانوں میں ایک عام شہری بن کر جانے اور ان کی طرح اپنی شکایت بھی درج کروانے کے لیے وہ کوشش کر رہے ہیں اور اُمید ہے کہ اس تھانے داری نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ 

ناکہ بندی، جرائم میں کمی، پولیس مقابلوں ،منشیات کی روک تھام سے لے کر پروٹوکول تک یہ کام تھانے کی نفری سے لیا جاتا ہے۔ ایسے میں مختلف میچز کی سیکیورٹی ہو یا پھر کوئی بھی میگا ایونٹ پولیس کی نفری اس ایونٹ کو کام یاب بنانے کے لیے کوشش کررہی ہوتی ہے، روشنیوں کے اس شہر میں دہشت گردی ، بھتہ خوری ، اغوا برائے تاوان سے لے کر مختلف جرائم پر کافی حد تک قابو اسی پولیس کی مدد سے پایا گیا ہے اور اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے کوشش جاری ہے، آفسران کی اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ تھانے کی نفری شہریوں کی مدد کرے، ماضی میں ہونے والی بارشوں میں بھی جہاں شہر ڈوب رہا تھا، وہیں ان ہی تھانوں کی نفری تالاب کا منظر پیش کرنے والے اس شہر کے لوگوں کو بچانے کے لیے کوشش کررہی تھی۔

کورونا وَبا کے خلاف جاری اس جنگ میں بھی پولیس کے جوانوں نے بھر پور ساتھ دیا اور لاک ڈاون میں سڑکوں پر موجود رہی ، پولیس کی کردار کشی تو کی جاتی ہے، لیکن ایک نظر کراچی میں پولیس کی کوششوں پر بھی ڈالی جائے تو کوئی حرج نہیں ۔ سال 2021 میں مختلف جرائم کے خلاف پولیس نے تابڑ توڑ کام یاب کارروائیاں کیں اور ملزمان کو اپنی گرفت سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ 

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کےتھانے زیادہ ہیں اور نہ ہی ان تھانوں میں موجود نفری کی تعداد، رواں سال میں اب تک جہاں گھروں کی ڈکتیاں رپورٹ ہوئیں، وہیں پولیس کے ایکشن بھی نظر آئے۔ ٹیپوسلطان تھانے کی پولیس نے ایک ایسے ہی گینگ کے 5 ملزمان کو پکڑا، جنہوں نے گزشتہ ماہ ایک گھر میں ڈکیتی کی گینگ کا کرمنل ریکارڈ چیک کیا گیا، تو معلوم ہوا ہے، ملزمان 11 مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔

اسی طرح شریف آباد تھانے کی پولیس نے رواں برس مئی میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ کر کے شہری کو قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم شاہد الرحمان نے متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا۔گبول ٹاون تھانے کے پولیس اسٹیشن کی نفری نے کارروائی کے دوران اسٹریٹ کرمنل کو گرفتار کیا۔ فیروزآباد تھانے کی پولیس نے افغانی گینگ کے 7 کارندے گرفتار کیے اور اس سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا۔

بلال کالونی اور جمشید تھانے کی نفری نے بینک ڈکیتی میں ملوث 6 ملزمان کو گرفتار کیا ۔ جمشید تھانے کی حدود سے گرفتارہونے والے ملزمان نے 27 ملین سے زائد رقم لوٹنے کا اعتراف کیا۔ ماڈل تھانے کلفٹن کی حدود میں ہونے والی سال کی سب بڑی ڈکیتی سونار کی دوکان میں ہوئی، جس میں دوکان کے مالک نے ہی 10 کلو سونے لوٹ جانے کا ڈراما کیا۔ 

پولیس نے پھرتی اس معاملے کو چند روز میں حل کر لیا اورملزمان کو نہ صرف گرفتار کیا، بلکہ ان سے سونا بھی برآمد کیا ۔تیموریہ،پاکستان بازار ،سرسید اور منگھوپیر تھانے کی حدود میں بھی اسی طرح7 اسٹریٹ کرمنل کو گرفتار کیا،پولیس نے کام یاب کارروائیوں میں منگھو پیر اور ناظم آباد تھانے کی حدود مین خفیہ اطللاع پر کارروائی کر کے مطلوب 2 دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔ 

ملزم عبدالرزاق متعدد قتل کی وارداتوں میں ملوث ہے، ملزم کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ برآمد کیا گیا ،جب کہ ناظم آباد سے گرفتار ہونے والا دہشت گرف علی عرف پیدا بھی متعدد قتل کی ورداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا ، ملزم نے تفتیش کے دوران سنسنی خیز انکشافات بھی کیے ، ملزم پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت متعدد ایف آئی آرز بھی درج ہیں۔ 

تاہم گرفتار ملزم کے قبضے سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے مواد بھی ملا تھا۔ رواں سال منشیات کے خلاف بھی پولیس سخت ایکشن کرنے کو تیار ہے لیاری کے مختلف تھانوں میں پولیس نے کارروائی کے منشیات فروشی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا، بلکہ منشیات کے اڈوں کو بند بھی کاروایا ہے۔ کراچی پولیس چیف نے کراچی کے آٹھوں ڈسٹرک کے ایس ایس پیز کو جرائم کی روک تھام کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا کا ٹاسک دے کر جرائم کا گراف مزید کم کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ 

کراچی پولیس کی خامیاں اپنی جگہ، لیکن پولیس کی قربانیاں اس شہر کے لیے کبھی رائیگا نہیں جائیں گی ، شہری اپنے گھروں پر آرام سے رات گزاریں، اسی لیے اس شہر کی پولیس رات بھر سڑکوں پر تعینات رہنے کا عزم بھی رکھتی ہے۔تاہم رواں سال کے اختتام تک مختلف جرائم کا گراف کم ہوگا یا اس میں پچھلے سال سے بھی زیادہ اضافہ ہوجائے گا، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید