• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوکت ترین اپنی بات سے ایک قدم پیچھے ہٹ گئے: صدر FPCCI


ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات کا کہنا ہے کہ شوکت ترین نے 203 اے میں جو بات کی ہے، اپنی بات سے ایک قدم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

جیو نیوز کے مارننگ شو جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات نے کہا کہ شوکت ترین کو پتہ ہے کہ اس اختیار کا نچلے لیول پر غلط استعمال ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ 203 اے میں لوئر لیول کے افسران کو اختیار دے دیا ہے، ایف بی آر اور تاجروں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے، 15 فروری سے وزیرِ اعظم کو پروپوزل بھیجے ہوئے ہیں کہ ٹیکس سسٹم سب کیلئے برابر ہو۔

میاں ناصر حیات نے کہا کہ پہلے الزام لگتا ہے، ثابت ہوتا ہے، انصاف کے تقاضے ہوتے ہیں، یہ تو نہیں ہوتا کہ جاکر پکڑ لو، آخری ماہ میں ایف بی آر نے 40 سے 50 ہزار نوٹسز جاری کیئے ہیں، ایف بی آر چیئرمین کو لکھا ہے کہ آپ نے کتنے نوٹس جاری کیئے، کتنے وصول کیئے، مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ باہر سے مال منگوانے میں نئی کنڈیشن لگائی ہے جو دنیا بھر میں کہیں نہیں ہے، کنڈیشن لگائی ہے کہ باہر سے منگوائے گئے کنٹینر سے انوائس نکلنا چاہیئے، کنٹینر کی انوائس نہیں ہوئی تو 1 لاکھ جرمانہ، دوسری بار 2 لاکھ جرمانہ، ورنہ مال ضبط ہو گا۔

میاں ناصر کا کہنا ہے کہ 2 ہزار سال پرانے قانون لگائے جا رہے ہیں، لوگوں کو دبایا اور تنگ کیا جا رہا ہے، آپ لوگوں سے پیسے لینا چاہتے ہیں یا لوگوں کو تنگ کرنا چاہتے ہیں؟ ہماری وزارتِ فنانس اور کامرس کے ساتھ میٹنگ ہوئی ہیں، مگر وہ ہمارے پروپوزل پر کبھی جواب نہیں دیتے، ہمارے پروپوزل کو نظر انداز کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ 203 تو ہونا ہی نہیں چاہیئے، جب عدالت سے جرم ثابت ہو تو گرفتار کریں، ایف بی آر کو ان لوگوں پر توجہ دینا چاہیئے جو ٹیکس نہیں دے رہے، ایف بی آر کو نئے ٹیکس دہندگان کا ٹارگٹ دینا چاہیئے، 36 لاکھ انڈسٹریل اور کمرشل یوٹیلٹی کسٹمرز ہیں، انہیں رجسٹرڈ کریں، ان سے ٹیکس لیں۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے یہ بھی کہا کہ صرف 2 لاکھ یوٹیلٹی کسٹمرز رجسٹرڈ ہیں، 34 لاکھ میں سے 10 لاکھ بھی رجسٹرڈ کر لیں تو بہت ٹیکس آئے گا، اگر باہر بیٹھے سپلائرز نے کنٹینرز پر انوائس نہیں لگائی تو میں کیا کر سکتا ہوں، خریداری انوائس اور دستاویزات بینک میں آتی ہیں، یہ کہتے ہیں کہ کنٹینر میں لگی ہونا چاہئیں۔

تجارتی خبریں سے مزید