• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ممتاز ماہر تعلیم ظاہر علی کا قتل پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

کراچی پولیس چیف کی تبدیلی کے بعد بھی ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اب تک کمی نہیں آ سکی ہے۔ آئے روز درجنوں شہری اسٹریٹ کرائم کا شکار ہورہے ہیں اور اپنی قیمتی اشیاء کے ساتھ اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو رہے ہیں۔ایک موبائل فون کے بدلے ملزمان ایک انسان کی جان لے لینے سے بھی نہیں چوکتے۔ 

شہر میں پولیس کی بھاری نفری،متعدد سیلز اور اینٹی اسٹریٹ کرائم فورس کے ہونے کے باوجود شہری ملزمان کے رحم و کرم پر ہیں ۔ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب منہاس نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹریٹ کرائم پر قابو پانا کراچی پولیس کی پہلی ترجیح ہے۔ تاہم اب تک یہ ترجیح نظر نہیں آرہی ہے۔ 

شہر کے 30 تھانے اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی نے متعلقہ تھانےداروں کو تنبیہ نوٹسز جاری کردیے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ شہر کے 50فی صداسٹریٹ کرائمز 30تھانوں کی حدود میں ہورہے ہیں،کراچی پولیس نے متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ او کو ہدایت کی ہے کہ اسٹریٹ کرائمز کو قابو کریں، ورنہ گھرجائیں، مذکورہ تھانے دار اپنے علاقوں میں پیٹرولنگ اور اسنیپ چیکنگ کو بڑھائیں، کراچی پولیس چیف نے 15روز میں متعلقہ تھانوں کو کارکردگی بہتر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ 

منشیات فروشی کو روکنے کے لیے تینوں زونل ڈی آئی جیز کو بھی احکامات جاری کیے ہیں۔ سی پی ایل سی کے ریکارڈ کے مطابق رواں برس کے پانچ ماہ میں اب تک شہری 770گاڑیوں اور 20ہزار776موٹر سائیکلوں سے محروم ہو چکے ہیں۔اس دوران10ہزار 238موبائل فون چھینے گئے،اغواہ برائے تاوان کے9،بھتہ خوری کے10اور بینک ڈکیتی کی ایک وارادت رپورٹ ہوئی۔پانچ ماہ کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں 192افراد کو قتل کیا گیا۔

11جون کونیو ٹاؤن تھانے کی حدود آغا خان روڈ خاتون پاکستان گرلز کالج کے قریب کار میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے عثمان انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر 70سالہ ظاہر علی سید ولد سید اصغر علی جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق ظاہر علی سید اپنے ڈرائیور کو گاڑی سے اتار کر گھر جارہے تھے، جیسے ہی وہ ڈرائیور کو اتار کر گاڑی لے کر آگے بڑھے موٹر سائیکل سوار دو ملزم آئے، دونوں ملزمان کے چہرے واضح تھے اور انہوں نے نقاب یا ہیلمٹ نہیں پہنا تھا،گاڑی نہ روکنے پر ملزمان نے ایک فائر کر کے فرار ہوگئے۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمان ظاہر علی سید سے لوٹ مار کرنا چاہتے تھے۔

ظاہر علی سید نے داؤد کالج سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور پھر امریکا سے پی ایچ ڈی کیا،وہ عثمان انسٹیٹوٹ کے ڈائریکٹر کے علاوہ این ای ڈی یونی ورسٹی کے اکیڈمک اور بورڈ آف فیکلٹی کے ممبر بھی تھے۔ وہ مختلف جامعات کے سلیکشن بورڈز کے ممبر بھی رہے۔ واقعہ کے اگلے روز ایسٹ پولیس نے ظاہر علی سید کے قتل میں ملوث مرکزی ملزمان سمیت تین ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ایس ایس پی ایسٹ ساجد سدوزئی کے مطابق گرفتار ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان میں رستم خان،ابراہیم اور ذاکر شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم ذاکر کرائے پر اسلحہ فراہم کرتا تھا اور ہر واردات کا پچاس فی صد حصہ لیتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی دیدی دلیری کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے ظاہر علی سید کو ڈکیٹی مزاحمت پر قتل کرنے کے بعد بھی تین وارداتیں کیں، ان وارداتوں کی بھی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہیں۔ 

ملزمان سے اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی۔ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق گرفتار ملزم رستم نے مقتول ڈائریکٹر ظاہر علی سید پر فائر کیا ،جب کہ اس کے ساتھ اس کا ساتھی ابراہیم بھی موجود تھا۔ ملزمان نے نشے میں دھت ہوکر واردات کی۔ملزمان مقتول سے موبائل فون اور نقدی چھیننا چاہتے تھے،گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ ظاہر علی سید کا قتل ایک ایسے شخص کا قتل ہے، جو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملک کی خدمت کے جذبے سے پاکستان آیا،اس سے قبل بھی شہر میں درجنوں اساتذہ اور معلمین کو سفاک ملزمان اپنی گولیوں کا نشانہ بنا چکے ہیں ۔ 

علاوہ ازیں 7جون کو رم جھم ٹاور کے قریب ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت کرنے پرفائرنگ کر کے رئیل اسٹیٹ ڈیلر کو قتل کردیا ۔پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے گاڑی رجسٹریشن نمبر بی ایل بی 654 میں سوار شخص شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور قریبی واقع اسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ 

مقتول کی شناخت 35 سالہ شہباز ولد شبیر لٹوانی کے نام سے ہوئی۔ مقتول کریم آباد مینا بازار کے قریب کا رہائشی اور ڈیفنس میں رئیل اسٹیٹ کا کام کرتا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ مقتول شہباز اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے برادر نسبتی کے گھر مہران بنگلوز آیا ہوا تھا اور واپس اپنے گھرجا رہا تھا کہ رم جھم ٹاور کے قریب موٹرسائیکل پرسوار ملزم نے اسلحہ کے زور پر ایک فائر کر کے مقتول کی گاڑی کو روکا، ملزم نے میاں بیوی سے موبائل فون اور3 انگھوٹیاں چھینیں، اس دوران مقتول نے ڈکیت کا اسلحہ چھینے کی کوشش کی اور دوران مزاحمت ڈکیت نے مقتول پر فائرنگ کردی ۔ 

دوسری جانب شہر میں محافظ بھی محفوط نہ رہے۔ اورنگی ٹاؤن میں پولیس اہل کار کے گھر سے ملزمان ڈکیتی کی واردات کے دوران3 ملزمان 5 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات اور2 لاکھ کی نقدی اورپولیس اہل کارکا اسلحہ بھی لے اڑے۔ پولیس کے مطابق پاکستان بازار تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ اسلام چوک کے قریب پولیس اہل کار دل نواز کے کے گھرمیں 3 ملزمان داخل ہوئے اور گھر میں موجود افراد کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنانے کے بعد لوٹ مار شروع کردی ،ملزمان 5 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات ،2 لاکھ روپے نقدی اور پولیس اہل کار کا اسلحہ بھی لوٹ کر فرار ہونے میں کام یاب ہو گئے۔ 

پولیس نے بتایا کہ پولیس اہل کار دل نواز کے گھر میں ڈکیتی کی واردات صبح 5 بجے کے قریب ہوئی، مسلح ملزمان نے پہلے پولیس اہل کار اور اس کے بعد ان کے کرائے داروں کے گھر لوٹ مار کی،مسلح ملزمان دونوں گھروں میں 20 سے 30 منٹ تک لوٹ مار کرتے رہے۔متاثرہ پولیس اہل کار منگھو پیر تھانے میں تعینات ہے ۔ شہر میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے واقعات بھی جاری ہیں،کورنگی کراسنگ سے نامعلوم افراد، سونے کے تاجر کے بیٹے کو دُکان سے اغواء کرکے لے گئے۔واردات کورنگی کراسنگ پر واقع امن ٹاور میں ہوئی۔

واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔ 11 جون کو نامعلوم مسلح ملزمان سونے کے تاجر محمد شاہد کی جیولری شاپ میں داخل ہوئے،جیولری شاپ پر تاجر محمد شاہد کا بیٹا موجود تھا،مسلح افراد نے دُکان میں داخل ہوتے وقت خود کو اسپیشل برانچ کے اہل کار ظاہر کیا۔ 

ملزمان کے دکان میں داخل ہوتے ہی تاجر کے بیٹے نے ہاتھ موجود سونا فوری اپنی جیب میں رکھ لیا،ملزمان نے کچھ دیر اس سے بات کی اور اس کے بعد تاجر کے بیٹے حازک کو اپنے ساتھ لیا اور باہر لے گئے،تاجر کے بیٹے کو باہر لے جانے سے قبل ملزمان نے بچے سے دُکان بند کرائی،ملزمان نے بچے کو مارکیٹ کے باہر کھڑی سفید رنگ کی کار میں بٹھایا ۔ملزمان بچے کو کار میں ڈال کر ساتھ لے گئے،ملزمان کی جانب سے اغواء کیے گئے بچے کی فیملی سے رابطہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان نے بچے کی بہ حفاظت رہائی کے لیے دس لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا،رقم کی ادائیگی میں تاخیر پر ملزمان نے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ 

تشدد کے وقت بچے کی جیب سے 140 گرام سونا برآمد ہوا۔ملزمان نے بچے کی جیب سے برآمد ہونے والا سونا قبضے میں لے لیا۔ ملزمان نے 3 گھنٹوں تک بچے کو اپنی تحویل میں رکھا اور سنسان علاقےمیں چھوڑ کر بھاگ نکلے۔محمد شاہد بچے کے مل جانے کے بعد بچے کے ساتھ تھانےپہنچا ۔سینئر پولیس افسران کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اسٹریٹ کرمنل کی اکثریت منشیات کی عادی ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید