• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان کے لیے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کردیا گیا

بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج، ہنگامہ آ رائی اور توڑ پھوڑ کے دوران صوبائی حکومت نے نئے مالی سال 2021-22 کا بجٹ ایوان میں پیش کردیا، نئے مالی سال کے بجٹ کا حجم 584 ارب روپے ہے۔

بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان ایوان سے غیرحاضر رہے۔نئے بجٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی تجاویز کو نظر انداز کیے جانے پر احتجاج میں پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے استعمال سے تین ارکان اسمبلی زخمی ہوگئے۔

وزیر خزانہ بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی کا کہنا ہے کہ عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے  آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا۔


صوبائی وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی نے آئندہ مالی سال کے لئے 584 ارب روپے حجم کا ٹیکس فری بجٹ پیش کیا۔ بجٹ میں کل خسارہ 84 ارب 72 کروڑ روپےظاہر کیا گیا ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں 10 فیصد اضافے اور 15فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کابھی اعلان کیا گیا۔

بجٹ میں مختلف سرکاری محکموں میں 5854نئی آسامیاں بھی تخلیق کی گئی ہیں۔

صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ  2286 نئی ترقیاتی اسکیموں کے لئے 76ارب  65 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ظہور بلیدی نے کہا کہ کورونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی پروگرام شروع ہوچکا ہے، جبکہ کورونا وبا سے نمٹنے کیلئے 3.6 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ شاہراہوں پر ایمرجینسی سینٹرز کا قیام عمل میں لایاجا رہا ہے۔



قومی خبریں سے مزید