• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپوزیشن احتجاجی تحریک کی بجائے حکومت سے مفاہمت کی خواہشمند، تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ اپوزیشن احتجاجی تحریک کی بجائے حکومت سے مفاہمت چاہتی ہے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ان ہاؤس تبدیلی کی امید چھوڑ کر 2023ء کے انتخابات کی تیاری شروع کردی ہے۔سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ اپوزیشن کے تتر بتر ہونے اور معاشی اشاریے بہتر ہونے سے حکومت کو فائدہ ہوا ہے

اپوزیشن حکومت کو مشکل وقت دینے کیلئے کوئی سرگرمی نہیں دکھارہی ہے، ملک میں سیاست نہ ٹھیک ہو تو معیشت ٹھیک ہونے سے بھی کچھ نہیں ہوتا ہے، اپوزیشن احتجاجی تحریک کی بجائے حکومت سے مفاہمت چاہتی ہے، حکومت اپوزیشن کو مزید رگڑا دینا چاہتی ہے تاکہ اگلے الیکشن اپنے کرپشن کے ایجنڈے پر لڑسکے، اگلے الیکشن کیلئے ن لیگ کو برتری حاصل ہے، ضمنی انتخابات میں نظر آیا ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹ بھی بڑھا ہے۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا کہ اپوزیشن کی تقسیم میں حکومت کے ساتھ خود اپوزیشن کی کارکردگی بھی متاثرکن ہے، پی ڈی ایم ٹوٹنے سے پہلے یوسف رضا گیلانی کے انتخاب میں اپوزیشن کو ایج حاصل تھا، اس وقت حکومتی بنچز جتنے پریشان تھے اس کے بعد کبھی نظر نہیں آئے، آصف زرداری کی طرف سے نواز شریف کو وطن واپسی کا کہنے پر جو اختلاف پیدا ہوا اس نے پی ڈی ایم کو توڑ دیا، اپوزیشن نے کامیابی حاصل کرنے کی ٹرین مس کردی ہے

اپوزیشن نے ان ہاؤس تبدیلی کی امید چھوڑ کر 2023ء کے انتخابات کی تیاری شروع کردی ہے۔ڈیجیٹل رائٹس ایکٹیوسٹ فریحہ عزیز نے کہا کہ آن لائن ہراسانی کیس میں متاثرہ خاتون کو انصاف ملنے کو ایف آئی اے کی کامیابی دکھایا جارہا ہے

ایف آئی اے متاثرہ خاتون کی چوتھی درخواست کے بعد حرکت میں آئی تھی، ایسے کیسوں میں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر کیس آگے لے کر چلتے ہیں اس کے باوجود شکایت کنندہ کو پرائیویٹ وکیل کا سہارا لینا پڑا، ایف آئی اے نے اس کیس کی فائل ہی گم کردی، متاثرہ خاتون اس کے بعد ہر فورم پر دو سال تک درخواستیں دیتی رہیں، انہوں نے ایف آئی اے، وفاقی محتسب، این سی ایچ آر، این سی ایس ڈبلیو، سینیٹ کی ایچ آر کمیٹی اور قومی اسمبلی کی کمیٹیوں میں درخواستیں دیں، متاثرہ خاتون کو فائل کی بازیابی کیلئے بالآخر ہائیکورٹ جانا پڑا ، کافی مہینوں بعد عدالت کو بتایا گیا کہ فائل مل گئی ہے

فائل ملنے کے بعد بہت مہینوں تک لوئر کورٹ میں نہیں جمع کروائی گئی، ایف آئی اے نے گواہ پیش کرنے میں بھی مزید کئی سال لگادیئے، متاثرہ خاتون کی نہ صرف نوکری چلی گئی بلکہ سوشل میڈیا پر نشانہ بھی بنایا گیا، انہیں ایف آئی اے کے آئی اوز سے ایسے کمنٹس سننا پڑتے تھے کہ انہیں پڑھانے کا شوق ہے روزی روٹی کمانی ہی نہیں ہے، ملزم کا ٹرائل اتنا لمبا چلایا گیا کہ اس کی سزا کی مدت پوری ہوگئی ہے۔

میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن حکومت کیخلاف ڈھائی سال سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کررہی ہے، پی ڈی ایم نے حکومت الٹنے کیلئے لانگ مارچ کا اعلان کیا مگر چند بڑے جلسوں کے سوا کچھ نہیں کرسکا،حکومت گرانے کیلئے بننے والا اپوزیشن اتحاد عملی طور پرآج غیرفعال ہے

پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے کے خلاف کھڑی نظر آتی ہیں، ایسے میں حکومت اپوزیشن کو بے جان ہونے کے طعنے دے رہی ہے، وفاقی وزیرشیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ جوڈو کراٹے نہیں کرنے کیونکہ اپوزیشن پہلے ہی مری ہوئی ہے، صورتحال یہ ہے کہ بجٹ اجلاس جس میں ہمیشہ اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دیتی ہے اس میں حکومت بھی اپوزیشن کو ٹف ٹائم دے رہی ہے، جمعے کو بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں تقریر کی تو اس کے جواب میں حماد اظہر نے بلاول اور اپوزیشن پر کھل کر تنقید کی۔

شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ کراچی میں تجاوزات کیخلاف آپریشن ایک سنگین مسئلہ بن رہا ہے، خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے گھر اور اپنے کاروبار سے محروم ہوسکتے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر خاندانوں نے اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی لگا کر یہ گھر بنائے ہیں، برسوں سے یہاں آباد ہیں مگر اب سپریم کورٹ کے حکم پر ان کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے، اس کے ساتھ ہی تجاوزات پر قائم عمارتوں اور دکانوں کو بھی گرایا جارہا ہے

جمعے کو کے ایم سی نے سپریم کورٹ میں تجاوزات کیخلاف جاری آپریشن کی رپورٹ جمع کرائی، سب سے بڑا المیہ ہے کہ جو سیاسی جماعتیں کراچی میں برسوں سے سیاست کررہی ہیں، انہی جماعتوں کے سامنے اور سرپرستی میں تجاوزات پر گھر اور دکانیں بنی ہیں

وہ جماعتیں آج متاثرہ خاندانوں کی ری سیٹلمنٹ کا انتظام کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگارہی ہیں اور صرف بیان بازی تک محدود ہیں، پیپلز پارٹی ایم کیوا یم کو اور ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کو زمینوں پر قبضوں اور تجاوزات میں ملوث ہونے کا ذمہ دار قرار دے رہی ہیں، اس صورتحال میں قومی اسمبلی میں کراچی کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت تحریک انصاف کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ بجٹ میں 383ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائے گئے ہیں

خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا، پہلا اضافہ ٹیکس نہیں پٹرولیم لیوی کی مد میں ہوگا جس کیلئے عوام تیار ہوجائیں، حکومت نے پٹرولیم لیوی کا ٹارگٹ 610ارب روپے رکھا ہے جس سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 25روپے لیٹر تک اضافہ ہوسکتا ہے، حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کیلئے بھی ابھی تک آئی ایم ایف کو نہیں مناسکی ہے، تنخواہ دار طبقے کے میڈیکل الاؤنس پر بھی ٹیکس لگادیا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید