• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت 10 جولائی تک منظور


لاہور سیشن کورٹ نے مسلم لیگ نون کے صدر شہبازشریف اور نائب صدر حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت 10 جولائی تک منظور کرلی۔

مسلم لیگ نون کے صدر اور نائب صدر سیشن کورٹ لاہور میں حفاظتی ضمانت کے لئے اپنے وکلاء کے ہمراہ پہنچے،کارکنان کی بھی بڑی تعداد اس موقع پر سیشن کورٹ کے باہر موجود تھی۔

شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کمرہ عدالت میں پیش ہوئے اور حفاظتی ضمانت کیلئے پیش کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ مبینہ مالیاتی ا سیکنڈل میں ایف آئی اے کی جانب سے طلبی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔


امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست میں ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ الزام کے تحت بے بنیاد مقدمہ درج کیا ہے۔

جج علی عباس نے استفسار کیا کہ یہ پہلی درخواست ضمانت ہے، اس پر وکیل شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے بتایا کہ جی یہ پہلی درخواست ضمانت ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کیلئے 22 جون کو طلبی کا نوٹس بھجوایا گیا ہے، جبکہ منی لانڈرنگ الزامات پر نیب پہلے ہی ریفرنس دائر کر چکا ہے، نیب کی ناکامی کے بعد ایف آئی اے نے بے بنیاد تفتیش شروع کر دی ہے۔

درخواست گزار شہباز شریف نے استدعا کی کہ ایف آئی اے کے مقدمےمیں شامل تفتیش ہونا چاہتا ہوں، عبوری ضمانت منظور کی جائے۔

شہباز شریف نے درخواست میں کہا کہ مجھے گنے کی قیمت کم کرنے کا کہا لیکن میں نے انکار کیا، میں کسان بھائیوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا،میں نے کہا کہ ایک دھیلا بھی سبسڈی نہیں دوں گا، یہ عوام کا پیسہ ہے۔

شہباز شریف نے عدالت میں کہاکہ ایف آئی اے والے مجھ سے جیل میں بھی تفتیش کرنے آئے تھے،ایف آئی اے کو بتایا میرا شوگر اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں ہے،میرے بچے خودمختار ہیں،بطور وزیر اعلیٰ فیصلوں سے میرے بچوں اور پنجاب کی شوگر ملز کو نقصان ہوا ۔

ایڈیشنل سیشن جج نے شہبازشریف اور حمزہ شہباز کو 10-10 لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی ۔

واضح رہے کہ شہبازشریف کو کل جبکہ حمزہ شہباز کو 24 جون کو ایف آئی اے نے چینی اسکینڈل میں تحقیقات کیلئے طلب کر رکھا ہے۔

قومی خبریں سے مزید