• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہنگامہ آرائی کے بعد بجٹ اجلاس کارروائی پرسکون، ضابطے کی پاسداری

اسلام آباد (فاروق اقدس/نامہ نگار خصوصی) قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کی کارروائی تین روزہ ناقابل فراموش ہنگامہ آرائی کے بعد اب پرسکون انداز میں چل رہی ہے۔

دونوں اطراف کے ارکان طے شدہ ضابطے کی پاسداری کر رہے ہیں اور بجٹ پر بحث کا مطلوبہ دورانیہ پورا کرنے کیلئے آٹھ آٹھ گھنٹے بھی اجلاس جاری رہتا ہے اس دوران ارکان کے درمیان ہلکے پھلکے جملوں کا تبادلہ اور ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے لیکن کوئی ناخوشگوار صورتحال پیش نہیں آئی۔

شہباز شریف کی تقریر کے موقع پر تین روز تک جاری رہنے والی بدترین ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں ’’ تنبہیی مداخلت‘‘ کے بعد ایوان میں جو خوشگوار تبدیلی آئی ہے بعض ارکان ایسی ہی ’’ تنبہیی مداخلت‘‘کی ضرورت بلوچستان اسمبلی کے حوالے سے بھی محسوس کر رہے ہیں جبکہ کچھ ارکان اس خوشگوار صورتحال کو کسی طوفان کا پیش خیمہ بھی قرار دیتے ہیں اور یہ صورتحال بجٹ کی منظوری کے موقع پر بھی پیش آسکتی ہے اور بعد میں بھی۔

تاہم حکومت اور اپوزیشن کے مابین ایک ایسی صورتحال جو کسی وقت بھی تنازعہ کی شکل اختیار کرسکتی ہے جس کا پس منظر حکومت کی جانب سے وہ یقین دہانی ہے جو ایوان میں کارروائی معمول اور بہتر انداز میں چلانے کیلئے قائمہ کمیٹی میں اپوزیشن کو کرائی گئی تھی

کمیٹی کے اجلاس میں سپیکر اسد قیصر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ منظور ہونیوالے 21 بلوں پر نظرثانی کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائے جائے گی۔ لیکن اگلے ہی روز وزیراعظم کے مشیر بابر اعوان نے سپیکر کی یقین دہانی کی نفی کردی لیکن اس کے باوجود ن لیگ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اسد قیصر نے ان سے پارلیمانی کمیٹی تشکیل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور اپوزیشن کے نام بھی مانگے تھے اور اب وہ اس یقین دہانی پر عملدرامد کی یادہانی کرا رہے ہیں۔

پیر کو راجہ پرویز اشرف نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ متنازعہ بلوں پر نظرثانی کیلئے فوری طور پر پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے۔

اہم خبریں سے مزید