• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نیدرلینڈز کی ڈائری/راجہ فاروق حیدر
وطن عزیز سے دور رہنے والے پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکنیں پاکستان کے ساتھ دھڑکتی ہیں۔گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ارکانِ اسمبلی کی ہلڑ بازیوں اور گالم گلوچ نے پاکستانیوں کے سر شرم سے جُھکا دیئے۔ہمارا ایک اسمبلی ممبر اپنے حلقے کے 5لاکھ سے زائد افراد کا نمائندہ ہوتا ہے جبکہ اجلاس بلانے کے لئے حکومت کے کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں لیکن صد افسوس ہمارے سیاستدانوں نے آپس میں ہلڑ بازی اور گالم گلوچ میں کالجوں کے طلبا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اِن سیاستدانوں کو منتخب کر کے ہم ایوانوں میں قانون سازی کے لئے بھیجتے ہیں ۔ہمارے معاشرے کی ایک اچھی روایت تھی کہ جہاں کہیں خواتین کی موجودگی پائی جاتی تھی وہاں غیر شائستہ اورنازیبا گفتگو سے گریز کیا جاتا تھا ۔نیدرلینڈز میں موجود پاکستانی کمیونٹی نے اِس واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو سکولوں میں بھیج کر اِن کی تربیت کی ضرورت ہے۔پارلیمنٹ ہائوس ایک مقدس قومی ادارہ ہے جہاں شہریوں کے لئے نئے قانون بنائے جاتے ہیں جبکہ ہمارے ارکانِ اسمبلی نے اِسے مچھلی بازار بنا دیا ہے۔اگرچہ حکومتی ارکان پارلیمنٹ کو بھی ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہئے تھا۔تاہم اِس شرمناک واقعہ سے ساری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی ہے ۔آج کل میڈیا کا دور ہے کیمرے کی آنکھ چند لمحوں میں دنیا بھر میں ہر واقعے کی عکاسی کر دیتی ہے۔ایسے واقعات میں جو کوئی بھی آوازیں کس رہا ہوتا ہے ،اُن کی آوازیں اور چہرے کیمروں میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ﷲتعالیٰ قائداعظم محمد علی جناح رحمتہ اﷲعلیہ کے پاکستان میں ہماری قوم کو شعور بخشے اور ہمارا شمار بھی دنیا کی مہذب قوموں میں ہو ۔ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان میں ووٹ کا حق ملنے پر بڑی مسرت کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا جو پورا ہوا۔اِس تناظر میں گزشتہ حکومتوں نے بھی وعدے و عید کئے تھے جو پورے نہ کیے جا سکے ۔تاہم اوورسیز پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں اعلیٰ ایوانوں میں بھی نمائندگی ملنی چاہیئے ۔حکومت کے اِس فیصلے سے تقریباً 80لاکھ اوورسیز پاکستانی ووٹ کا استعمال کر سکیں گے ۔کورونا وبا سے لاحق چیلنجوں کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں نے ریکارڈ ترسیلات پاکستان بھجوائی ہیں اگرچہ اوورسیز پاکستانیوں کے بہت سارے مسائل بھی ہیں جو حل طلب ہیں ۔راقم گاہے بہ گاہے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا ذکر نیدرلینڈز کی ڈائری میں کرتا رہتا ہے ۔یہ بات حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اوورسیز پاکستانیوں نے بہت سپورٹ کیا جبکہ ماضی میں موجودہ حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ بہت سارے ایسے وعدے بھی کئے تھے جو ہنوز پورے نہ ہو سکے۔اوورسیز پاکستانی کمیونٹی ملک کا قیمتی سرمایہ ہے، ان کی مشکلات اور مسائل کو حل کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ نیدرلینڈز میں کورونا ویکسیسن کا عمل بڑی تیز رفتاری سے جاری ہے اور یہ بات باعث مسرت ہے کہ کورونا وبا کے پھیلائو میں کافی کمی واقع ہوئی ہے اور 26جون تک پابندیوں میں مزید نرمی کے امکانات ہیں۔نیدرلینڈز حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ پابندیاں نرم ہونے کے ساتھ سماجی فاصلے کی احتیاط کو ترک نہ کیا جائے۔
یورپ سے سے مزید