• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور دھماکہ، 4 مشتبہ افراد گرفتار، بارود لانے والی گاڑی کا پتہ چل گیا


لاہور،گوجرانوالہ(نمائندگان جنگ)جوہر ٹاؤن دھماکہ کے بعد تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے مزید 4مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی گئی ہے جبکہ بارود لانے والی گاڑی کا بھی پتہ چل گیا ہے گاڑی براستہ موٹروےلاہور میں داخل ہوئی۔ ائیرپورٹ سے زیر حراست لیا گیا شخص ڈیوڈ کراچی سے لاہور پہنچا تھا اسے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے،ذرائع کے مطابق ملزم ڈیوڈ کا تعلق کراچی سے ہے، ڈیوڈ کچھ عرصہ قبل دبئی سے واپس آیا تھا۔ وہ گوجرانوالہ میں کچھ عرصہ سے رہ رہا تھا۔ اس نے گاڑی کو دھماکے کے لیے تیار کروایا دوران تفتیش ڈیوڈ کا تعلق غیر ملکی تنظیم سے ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ ذرائع سی ٹی ڈی نے ایک نجی ٹی وی کو بتایا کہ دھماکےکی تحقیقات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کردیا گیا، جس کے بعد بارودی مواد فراہم کرنے اور سہولت کار کی تلاش بھی شروع کی گئی ہے۔ سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ جوہر ٹاؤن دھماکا کیس میں اب تک تین مشکوک افراد کو لاہور کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔ذرائع سی ٹی ڈی نے بتایا کہ دہشتگردی کےلیے استعمال ہونےوالی ممکنہ گاڑی براستہ موٹروےلاہورمیں داخل ہوئی، 9بج کر40منٹ پرگاڑی کوبابوصابوناکےپرتعینات سکیورٹی اہلکاروں نے تلاشی کےلیے روکا گیا ، ڈرائیورسے دستاویزات اورکوائف کی تلاشی کے بعدگاڑی کوروانہ کردیا گیا ناکے پرتعینات اہلکاربارودسے بھری گاڑی کو روکنے کے باوجود موادکاسراغ نہ لگاسکے ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی نے بابوصابوناکےپرتعینات سکیورٹی اہلکاروں کوشامل تفتیش کرلیا ہے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی 2010میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران چھینی گئی تھی گاڑی چھیننے کی واردات کا مقدمہ گوجرانوالہ کینٹ میں شکیل احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا اس کے باجوود گاڑی شہر میں داخل کیسے ہوئی اور کسی بھی سیف سٹی کیمرے نے اس کا سراغ نہ لگا یا اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں ۔جوہر ٹائون دھماکہ کی تحقیقات کے دوران جیو فینسنگ کے ذریعے مشوک نمبرز کو شاٹ لسٹ کرلیا گی جبکہ گاڑی پارک کرنے والے افراد کی لوکیشن ٹریس کرنے کی کوشش جاری ہے،تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ جیو فینسنگ کا عمل مکمل ہونے پر مزید حقائق سامنے آئیں گے ۔ بم دھماکہ کے جائے وقوعہ کو گزشتہ روز بھی پولیس نے بند رکھا تاہم رہائشی افراد اور ان کے رشتہ داروں کو وہاں جانے کی اجازت دے دی گئی۔ تفتیش کرنے والی ٹیموں کے افسران اور ٹیکنیکل ونگ کے افسرن نے گزشتہ روز بھی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا وہاں سے شواہد اکٹھے کئے ، رہائشی لوگوں سے مزید معلومات حاصل کیں، علاقہ میں لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کی مزیدفوٹیج حاصل کیں۔ جائے وقوعہ سے ملنے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکل کے ٹکڑوں کو لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے بھجوایا گیا۔دریں اثنا جوہر ٹاؤن بم دھماکے کے مزید 4 زخمیوں کو جناح ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے ،جبکہ دھماکے میں زخمی 7 مریض تاحال زیر علاج ہیں ہسپتال انتظامیہ کے مطابق 4کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ،زیر علاج مریضوں میں 12 سالہ ناصر ، 26 سالہ عاطف ، 22 سالہ عبدالرحمن،45 سالہ طاہر،22 سالہ انتظار، 35 زاہدہ اور 19 سالہ عرفان شامل ہیں، تشویشناک حالت میں حاملہ خاتون ، پولیس کانسٹیبل طاہر اور 12 سالہ ناصر شامل ہے ۔گوجرانوالہ سے نمائندہ جنگ کے مطابق جوہرٹاون دھماکے میں استعمال شدہ گاڑی چوری کی نکلی پولیس ذرائع کے مطابق شکیل احمد نامی شخص کی گاڑی نمبر9928،LEBسال 2010میں چھینی گئی،گاڑی چوری کامقدمہ تھانہ کیٹ میں درج ہوا تھا،گاڑی شکیل احمد کے ڈرائیو منظور سے تین مسلح افراد نے چھینی تھی۔ایف آئی آر کے مطابق حافظ آباد سے ڈرائیور منظور 29نومبر کو گا ڑی ڈی سی کا لونی دینے جا رہا تھا ،کو ٹ حنیف کے قریب تین مسلح افراد نے ڈرائیور سے گا ڑی چھین لی،ملزمان گا ڑی چھین کر گوجرانوالہ کی جانب روانہ ہو گئے تھے ،ایف آئی آر ونیکے تارڑمو ضع بکن ضلع حافظ آباد کے رہائشی نے تھا نہ کینٹ میں درج کروائی تھی۔گا ڑی کا مالک لا ہور کا رہا ئشی ہے۔

اہم خبریں سے مزید