• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈی آئی جی شہید بے نظیر آباد،عرفان بلوچ نے اپنی تعیناتی کے بعد پولیس افسران کو جرائم کے مکمل خاتمے اور سماجی برائیوں کے قلع قمع کا ہدف دیتے ہوئے کہا کہ ظالم چاہے کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، اسے قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے پولیس کو فری ہینڈ دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی کی ہدایات کی روشنی میں پولیس متحرک ہوئی اور پہلا پولیس مقابلہ دولت پور کے قریب قومی شاہ راہ پر ہوا، جہاں ڈاکوؤں کے گروہ نے سریے سے بھرے ٹرالے کو جس پر 65 من سریا لدا ہوا تھا، ڈرائیور سمیت اغواء کرلیا۔ 

ڈاکوؤں کے اسی گروہ نے سکرنڈ سے ایک کار بھی چھین لی۔ تاہم پولیس کو ان دونوں وارداتوں کی اطلاع ملی تو پورے ضلع کی ناکہ بندی کی گئی اسی اثناء میں ’’دولت پور‘‘ بائی پاس پر ڈاکوؤں اور پولیس کے درمیان اس وقت مقابلہ ہوا، جب وہ واردات کے ارادے سے گاڑیوں کو روک رہے تھے ۔اس مقابلے میں دو ڈاکو، عبدالرزاق اوربچایو کوپولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کیا۔ 

پولیس کے مطابق ان کے ساتھی تاریکی کا فائدہ اٹھاکر فرار ہونے میں کام یاب ہوگئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق گرفتار ہونے والے ڈاکو پولیس کو قتل ،اغواء برائے تاوان ۔ڈکیتی ،پولیس مقابلوں سمیت دیگرسنگین جرائم کی وارداتوں میں مطلوب تھے۔ اس سلسلے میں گرفتار ڈاکوؤں کے کرائم ریکارڈ کے مطابق ان کا تعلق قومی شاہ راہ پر جرائم میں ملوث بین الصوبائی گروہ سے بتایا جاتا ہے۔ 

دوسری جانب سانگھڑ روڈ پر دو ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر شہری سے موٹر سائیکل نقدی اور موبائل چھینا اور نواب شاہ کی سمت فرار ہورہے تھے کہ ، سانگھڑ پولیس نے اطلاع ملنے پر فوری طور سے بھاری نفری لے کرڈاکوؤں کے تعاقب میں گئی جبکہ پولیس نے نواب شاہ پولیس کو بھی اطلاع دےدی، جس پر نواب شاہ پولیس نے ناکہ بندی کردی ۔ جوں ہی دونوں ڈاکو نواب شاہ کی حدود میں داخل ہوئے تو سداواہ بس اسٹاپ پر سانگھڑ اور نواب شاہ پولیس نے انہیں گھیر لیا ۔

یہ صورت حال دیکھ کر ڈاکوؤں نے فائرنگ شروع کردی۔ تاہم پولیس کی جوابی فائرنگ سے دونوں ڈاکو جن کی شناخت جاوید زرداری اور ساجد راجپر کے نام سے ہوئی کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا ۔پولیس کے مطابق گرفتار ڈاکوؤں کے خلاف سندھ کے مختلف تھانوں میں سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے کے مقدمات درج ہیں۔

ادھر تعلقہ پولیس نے مہران ہائی وے پر مقابلے میں ایک ڈاکو کی زخمی حالت میں گرفتاری کا دعویٰ کیاہے۔ اس بارے میں ایس ایچ او جاوید راجپوت کا کہنا تھا کہ پولیس پارٹی معمول کے گشت پر تھی کہ ڈاکوؤں کے گروہ نے جو کہ ہائی وے سے گزرنے والی گاڑیوں کے مسافروں سے لوٹ مار اور اغواء کی وارداتیں کرتے تھے ،پولیس پارٹی کو دیکھ کر فائزنگ شروع کردی ۔

پولیس اہلکاروں نے کھیتوں میں پوزیشن سنبھال لی ۔ جوابی فائرنگ کے بعد ایک ڈاکو اللہ داد ولد کریم داد ذرداری جو کہ حقانی کالونی کا رہائشی بتایا جاتا ہے زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا گیا جبکہ اس کے ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ 

اس سلسلے میں درج ایف آئی آر کے مطابق ملزم کے خلاف اغواء برائے تاوان، ڈکیتی ،قتل اور پولیس مقابلوں کے مقدمات درج ہیں جبکہ پولیس کا دعوئ ہے کہ گرفتار ڈاکو حقانی کالونی میں اپنی رہائش گاہ کو جرائم کی وارداتوں کے لئے استعمال کرتا تھا ۔

دوسری جانب پولیس نے سماجی برائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق نشہ آور گٹکا ،مین پوری پان پراگ ،آئس کے علاوہ ہیروئن ،چرس اور کپی شراب کے اسمگلروں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے۔ ڈی آئی جی عرفان بلوچ کاکہنا ہےکہ نشہ آور گٹکا کے کاروبار میں ملوث افراد بھی ہیروئن،چرس ،افیون اور کپی شراب کی اسمگلنگ کی طرح کے ہی جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں، تاہم پولیس نے نشہ آور گٹکا ،پان پراگ سمیت منشیات بیچنے والوں کے خلاف بھی مہم کے آغاز کادعویٰ کیا ہے۔

پولیس کی جرائم کے خاتمے کے لئے کوششیں اپنی جگہ تاہم عوامی رائے عامہ پولیس کے دعوئے سے مطمئن نظر نہیں آتی۔ سول سوسائٹی کے مطابق ایک جانب پولیس نشہ آور گٹکا ،مین پوری برآمد اور ملزمان کی گرفتاری کے دعوے کررہی ہے تو دوسری جانب شہر کے پان کے کیبن ،کریانہ شاپ حتی کہ پیپلز میڈیکل اسپتال سے نشہ آور اشیا کی فروخت جاری ہے۔ نوجوان اور بڑی عمر کے افراد اس لت میں مبتلا ہو کر کینسرکا شکار ہورہے ہیں ۔ کینسر اسپتال کے ڈاکٹروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اس زہر کی روک تھام نہیں کی گئی تو شہید بے نظیر آباد کی بڑی آباد ی کینسر جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوکر موت کےمنہ میں چلی جائے گی۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید