• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سہولتیں میسر نہ ہونے کے باوجود پولیس نے کئی مجرم پکڑلیے

وفاقی، صوبائی حکومتیں ہوں یا سندھ پولیس کے سربراہان، ہر دور میں یہ اعلانات کیے جاتے رہے ہیں کہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، لیکن عملی طور پر ان اعلانات پر کوئی خاص عمل درآمد یا پیش رفت دکھائی نہیں دیتی ۔ گزشتہ 5 سالوں میں سندھ پولیس میں آئی ٹی کے شعبے پر کافی کام ہوا ہے اور مختلف شعبوں کو کمپیوٹرائز کیا گیا ہے، لیکن اگر بات کی جائے پولیس کو سہولتیں فراہم کرنے کی، تو ڈاکوئوں، جرائم پیشہ عناصر سے مقابلے کے لیے جدید اسلحہ و گاڑیوں اور دیگر ساز و سامان کی،تو اس حوالے سے سندھ پولیس کو آج بھی بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ 

بڑھتی ہوئی آبادی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ جرائم کی وارداتوں خاص طور پر اسٹریٹ کرائمز کےواقعات میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور ہرروز اس میں اضافہ اس لیے متوقع ہے کہ ہم نے پولیس کو بہتر اور جدید سازوسامان سے لیس کرنےمیں اب تک کوئی ایسا بڑا اور قابل ذکر اقدام نہیں اٹھایا کہ جس سے یہ کہا جاسکے کہا اب ہماری پولیس جدید طرز کی پولیس ہے، حالاں کہ پولیس نے ان نامساعد حالات کے ہوتے ہوئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کو اس انداز میں ادا کیا ہے کہ جیسے وہ کوئی جدید طرز کی ٹیکنالوجی سے لیس ہو، جس کے پاس کرائم اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے تمام تر وسائل اور سہولیات موجود ہوں۔ 

خاص طور پر سندھ کے پسماندہ ضلع کشمور کی بات کی جائے تو وہاں کی پولیس نے گزشتہ چند ماہ میں خاطر خواہ سہولیات نہ ہونے کے باوجود بڑے کارنامے انجام دیے ہیں۔ 5 سالہ بچی اور اس کی ماں سے اجتماعی زیادتی کا کیس ہو یا پھر کچے کے جنگلات میں ڈاکوئوں سے مقابلہ ، ضلع میں امن و امان کے قیام کی ایسی مثال قائم کی، جسے صوبائی اور ملکی سطح پر سراہا گیا ۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی اور آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے متعدد مرتبہ کشمور پولیس اور ایس ایس پی کشمور امجد احمد شیخ کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ 

حالیہ ایک ماہ کے دوران کشمور پولیس نے مختصر عرصے میں متعدد بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پنجاب کے علاقے کوٹ سبزل کے تین فن کاروں کو ڈاکوئوں سے مقابلے کے بعد بازیاب کرایا گیا۔ موبائل چوروں کا ایک گینگ پکڑ کر 6 لاکھ روپے مالیت کے موبائل فونز برآمد کرکے اصل مالکان کے حوالے کیےگئے ، کچے میں آپریشن کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی 4 ہزار ایکڑ زرعی اراضی واگزار کرائی اور متعدد چھوٹے بڑے کارنامے شامل ہیں۔ ایس ایس پی کشمور امجد احمد شیخ کی جرائم دشمن اور عوام دوست پولیسنگ نے پولیس اور عوام میں دوریاں ختم کردی ہیں۔ اب دیگر شہروں کی طرح پولیس کے خلاف کشمور میں مظاہرے نہیں ہوتے، بلکہ یہاں سندھ پولیس، آئی جی سندھ اور کشمور پولیس کے حق میں نعرے بلند ہورہے ہوتے ہیں۔ 

کشمور میں ایک ڈاکٹر کے گھر رات گئے چوری کی واردات ہوئی، نامعلوم چور گھر سے 80 لاکھ روپے سے زائد کے طلائی زیورات اور نقدی چوری کرکے لے گئے، صبح گھر والوں نے پولیس کو اس واردات سے آگاہ کیا جس پر کچے کے جنگلات میں آپریشن میں مصروف ایس ایس پی امجد احمد شیخ نے چوری کا فوری نوٹس لیا اور ایس ایچ او کشمور اقتدار حسین جتوئی ، انچارج ون فائیو نواز کے ساتھ ٹیکنیکل عملے پر مشتمل ایک جوائنٹ ٹیم تشکیل دی،جس کے بعد ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل فوٹیجز کی مدد سے ملزم کی شناخت کرلی اور صرف 6 گھنٹے میں ملزم شہزادو عرف شان سومرو کو گرفتار کرکے ملزم کی نشاندہی پر چوری کیا گیا سامان سونے کے زیورات اور 10 لاکھ کیش برآمد کرلیا۔ 

ملزم نے چوری کی واردات میں گھر کے ساتھ لگے ایک کھمبے کا استعمال کیا ،اس کے ذریعے گھر میں داخل ہوکر دو گھنٹے تک سامان کی تلاشی لیتے ہوئے نقدی اور زیورات جمع کرتا رہااور واردات کے بعدوہاں سے فرار ہوکر اطمینان سے اپنے گھر جاکر سو گیا۔ ملزم نے نقدی کمرے کی پیٹی میں اور زیورات مویشی باندھنے والی جگہ کھدائی کرکے چھپا دیے تھے۔ چوری کی واردات سے چند گھنٹے قبل ملزم نے مکان کا جائزہ لیا اور اکیلے اتنی بڑی چوری کی۔ ملزم بہ ظاہر رکشہ چلاتا ہے، لیکن چوری کی وارداتیں پہلے بھی انجام دیتا رہا ہے اور جیل بھی جاچکا ہے۔ اس مرتبہ اس کی یہ واردات بظاہر پولیس کے لیے انتہائی مشکل ٹاسک تھا، کیوں کہ پولیس نے جب گلی میں لگے دس کلوز سرکٹ کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنا چاہی، تو معلوم ہوا کہ 9 کیمرے تو بند تھے، صرف ایک کیمرا چل رہا تھا۔ 

اس ایک کیمرے سے پولیس کوصرف ایک معمولی سراغ ملا، جس کی روشنی میں پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے جو جال بچھایا اس میں سو فی صد کام یابی ملی،رات کی تاریکی میں اتنی بڑی چوری کی واردات پولیس کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں تھی، لیکن کہتے ہیں کہ اگر ٹیم کا کمانڈر اچھا ہو تو، ٹیم بھی جاں فشانی سے لڑتی ہے۔کشمور کچے کے ڈاکوئوں سےلے کر پکے کے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کام یاب کارروائیاں بتارہی ہیں کہ پولیس قانون کی رٹ قائم کرنا جانتی ہے۔ 

کشمور پولیس نے ایک اور کارروائی میں پنجاب کے علاقے کوٹ سبزل سے کشمور کچے کے علاقے میں شادی کی تقریب کے بہانے بلائے گئے، 3 فن کار مغویوں کو ڈاکوؤں سے مقابلے کے بعد بازیاب کرالیا، مقابلے کے دوران دو ڈاکو زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ڈاکوئوں کے ایک گروہ نے پنجاب کے علاقے کوٹ سبزل صادق آباد سے تعلق رکھنے والے 3 فنکاروں کو شادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت دے کر بہانے سے کشمور کچے کے علاقے میں بلا کر اغوا کیا تھا۔

ایس ایس پی کشمور امجد احمد شیخ کے مطابق پنجاب کوٹ سبزل کے رہائشی فن کار، ذاکر حسین، محمد ساجد اور آصف علی کو شادی میں گلوکاری کے بہانے دھوکے سے بلا کر اغوا کیا گیا تھا ۔پولیس کو اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او حاجی خان شر پر مشتمل اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں انچارج ون فائیو اور پولیس کمانڈوز ٹیکنیکل ٹیم کے افراد بھی شامل تھے، ٹیم مغوی فنکاروں کی بازیابی کے لیے گائوں حاجی خان شر کے کچے کے علاقے میں پہنچی تو ڈاکوئوں نے پولیس پر فائرنگ کردی پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی اور مقابلے کے بعد تینوں مغوی فن کاروں کو بازیاب کرالیا گیا، جب کہ دو ڈاکو زخمی ہوئے، مقابلے کے دوران ڈاکو فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔

ٹیکنیکل رپورٹ کے مطابق 3 فن کاروں کو بخت شر نے شادی کی تقریب کے بہانے بلا کر اغوا کیا تھا، پولیس کے مطابق کچھ عرصہ قبل بھی پولیس نے 4 فن کاروں کو بازیاب کرایا تھا، جس کے بعد سندھ میں فن کاروں کی تنظیم کے رہنمائوں نے اپنے فن کار ساتھیوں کو کسی بھی قسم کے پروگرام میں پولیس کو اطلاع دئیے بغیر جانے سے منع کیا تھا، جس کے بعد ڈاکوئوں نے پنجاب کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے فن کاروں کو شادی کی تقریب کے بہانے اغوا کرنے کے لیے بلایا تھا۔

کشمور کے عوام نے پولیس کی کام یاب کارروائیوں، امن و امان کی بحالی پر کشمور پولیس اور ایس ایس پی کشمور سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عوام پولیس کے ساتھ مل کر ضلع سے جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور مستقل مثالی امن کو یقینی بنائیں گے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید